حسد ایک ایسا منفی جذبہ ہے جس کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ حرام ہیں، کچھ مکروہ ہیں، اور کچھ اقسام ایسی ہیں جنہیں نیک اعمال کی ترغیب دی گئی ہے، جیسا کہ حضرت محمدﷺنے فرمایا، دو چیزوں میں حسد یا رشک جائز ہے، ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے علم دیا اور وہ اس علم پر عمل کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث، 73) حرام حسد وہ ہے جو شیطان کی صفت ہے، کیونکہ سب سے پہلا حسد کرنے والا شیطان تھا جس نے حضرت آدم ؑ سے حسد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے، وہ جنات میں سے تھا اور اپنے رب کے حکم سے باہر ہو گیا۔(سورہ الکہف، آیت، 50)
حسد کی لغوی تعریف یہ ہے کہ کسی دوسرے کی نعمت کے زوال کی تمنا کی جائے۔ تو یہ کفر کے درجہ میں آتاہے، اور اگر محض نفرت کی وجہ سے ہو تو یہ اپنی ذات پر ظلم ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔(سنن ابی دائود، حدیث: 4903)
حسد کی خرابی کے لیے یہی کافی ہے کہ حاسد اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا اور اس کی الوہیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اللہ ہی عطا کرنے والا اور روکنے والا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا،اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔(سورہ آل عمران، آیت: 26) جو لوگ اپنے نفس کے خلاف مجاہدہ کرتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، اللہ انہیں توحید کی معرفت عطا کرتا ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ حقیقی فاعل اور مختار اللہ ہی ہے۔دنیاوی نعمتیں اور روحانی مقامات اللہ کبھی کسی کو دنیاوی نعمتیں دے کر دوسرے کو محروم رکھتا ہے، اور اس محرومی میں بھی خیر رکھتا ہے۔ جیسے کہ اللہ نے فرمایا،اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔(سورہ البقرہ، آیت: 216)
جب اللہ دنیاوی مال، صحت اور اقتدار دیتا ہے تو ممکن ہےکہ ہدایت اوراستقامت سے روک لے اور اگر کسی بندے کو دنیاوی مال سے محروم کرے مگر یقین اور رضا دے، تو وہ ان نیک لوگوں میں شامل ہوتا ہےجن1 پراللہ کاانعام ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایاگیا اور جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہداء اورصالحین کے ساتھ اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔(سورہ النسا، آیت: 69)
حسد سے بچنے کا طریقہ اللہ نے مومن کو قیامت کے دن کی یاد دہانی کرائی ہے، جس سے دنیاوی فریب نظر کے سامنے حقیر ہو جاتی ہے۔ اگر حسد سے بچنا ممکن نہ ہو، تو ایسے نیک لوگوں سے رشک کریں جن کو اللہ نے ہدایت اور توفیق دی ہے تاکہ ان کی مانند بن سکیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،بیشک اللہ نے تم پر نعمتیں نازل فرمائیں، پس اپنے رب کی نعمتوں کو یاد کرو۔(سورہ النحل، آیت: 114) اللہ ہمیں حسد کے منفی اثرات سے محفوظ رکھے اور نیک لوگوں کےراستے پرچلنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آخر دو سورتیں معوذتین تلاوت کرتے رہنے سےحسد ختم ہو جاتا اور حاسدوں سے بھی بچت ہو جاتی ہے اللہ سے لو لگائے رکھنا اصل اور بڑی کامیابی ہے۔