یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطنِ عز یز میں دہشت گردی کا ناسور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ابھی چند روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں’’زام‘‘ ایف سی چیک پوسٹ پر فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کے حملے میں 10 جوان شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔اہم ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ’’درزندہ‘‘ ایریا میں زام چیک پوسٹ پررات کے وقت بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، خارجی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایف سی کے10 جوان شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔ ترجمان کے مطابق شہید جوانوں نے جانیں نچھاور کرکے خوارجی دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا، شہید ہونے والے 6 جوانوں کا تعلق جنوبی وزیرستان جب کہ 4 کا ضلع کرک سے ہے۔ ترجمان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا، ادھر بنوں کے علاقے جانی خیل میں پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او اپنے محافظ سمیت شہید ہوگئے، پولیس کے مطابق ایک اہلکار زخمی بھی ہوا، ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیم معمول کےگشت پرتھی کہ دہشت گردوں نے فائرنگ کردی۔ ضلع لکی مروت میں مغرب کی نماز کے دوران خوارج نے ایک مسجد پرحملہ کیا،حملے کے دوران زیرتربیت کیڈٹ عارف اللہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، آئی ایس پی آر کے مطابق مسجد میں اس وقت پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیرِ تربیت کیڈٹ عارف اللہ جو چھٹیوں پر اپنے آبائی علاقے میں موجود تھے، نماز ادا کر رہے تھے جیسے ہی خوارج نے فائرنگ شروع کی، عارف اللہ نے فوری ردِعمل دکھایا تاہم، اس 19 سالہ عارف اللہ نے نمازیوں کی جان بچاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، عارف اللہ کا یہ بہادرانہ اقدام ہماری سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانی اور دہشت گردی کےخاتمے کے عزم کی مثال ہے۔ شہید کا بڑا بھائی بھی پاک فوج میں وطن کے دفاع کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے۔ غور کیا جائے تو دہشت گردی کی یہ وارداتیں خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔
تمام تراقدامات کےباوجود پاک افغان سرحد آج بھی پوری طرح محفوظ نہیں بنائی جاسکی ہے۔ افغانستان سےپاکستان کی طرف آناجانا اب بھی لگاہواہے۔ پاکستان نے افغانستان کے باشندوں کو واپس بھجوانے کا جو عمل شروع کیا تھا وہ بھی رکا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ عوام کو اس ڈیٹا کا بھی کوئی پتہ نہیں ہے کہ جو لوگ پاکستان سے واپس افغانستان بھجوائے گئے ہیں، ان میں سے اگر کوئی لوگ واپس آئے ہیں تو اس حوالے سے عوام کو کچھ پتہ نہیں ہے اور نہ ہی ہماری پارلیمان نے اس حوالے سے کسی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان کے نظام کی یہ سب سے بڑی کمزوری ہے۔ پاک افغان سرحد جب تک محفوظ نہیں بنائی جاتی، اس وقت تک پاکستان میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران بھی اب افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ایران کی حکومت نے بھی افغانستان کے شہریوں کو واپس بھیجنے کے لیے انتہائی سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے اس حوالے سے جو پالیسی بنائی ہے، اس میں انتہائی لچک موجود ہے۔ پاکستان کے نظام میں ایسےلوگ بھی موجود ہیں اور قوانین میں ایسی کمزوریاں بھی موجود ہیں جو پاکستان کے شہریوں کے بجائے غیرملکیوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کےحوالےسے افغان مہاجرین ملک کی سافٹ بیلی ہے۔ ان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو دہشت گردوں کا آسانی سے سہولت کار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں ایسے طاقتور گروہ موجود ہیں جو اپنے مفادات کے لیے غیرملکی ڈرگ ڈیلرز، ہنڈی حوالہ کا کام کرنے والوں اور انڈر ورلڈ مافیا کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔
دہشت گردوں کوبھی انھی لوگوں سےسہولت کاری ملتی ہے۔ یوں پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے اور دہشت گرد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو کھلے عام نشانہ بنا رہے ہیں۔کیا یہ سوچنے والی بات نہیں ہے کہ ایف سی پوسٹوں پر کس آسانی سے حملے ہو رہے ہیں۔ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو شہید کر کے باآسانی موقع سے فرار ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں کسی اور ملک میں شاید ہی ایسا ہوتا ہو گا۔افغانستان کی حکومت پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے۔ چین، روس اوربھارت اپنےمفادات کےلیے افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے حکمران افغانستان کے وسائل کو انتہائی سستے داموں فروخت کررہے ہیں۔ طالبان حکومت کے فیصلوں کو کہیں چیلنج کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی کسی طالبان لیڈر کےخلاف کوئی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت اپنے مینڈیٹ سے آگے بڑھ کر کام کر رہی ہےبلکہ جس مینڈیٹ کے تحت وہ برسراقتدار آئی ہےاس پر تو وہ بالکل عمل نہیں کر رہی۔ طاقتور اقوام کی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور کھرب پتی تاجرافغانستان کے وسائل کوڑیوں کے بھاؤ لوٹ رہے ہیں۔ افغان طالبان حکومت اپنی بقاء کے لیے افغانستان کے عوام کی ملکیت وسائل کو من مرضی سے استعمال کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں افغانستان کی حکومت نے داعش کے ساتھ لڑنے کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ افغانستان نے پاکستان کو لپیٹنے کی پوری کوشش کی۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اپنی سفارت کاری کتابی اصولوں کے مطابق چلنے کے بجائے وقت کی ضروریات اور حرکیات کو سامنے رکھ کر ڈپلومیسی ہتھیار استعمال کرنا چاہیے۔
کیایہ عجیب بات نہیں ہےکہ افغانستان دنیاکا غریب ترین ملک ہے۔ افغانستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ اس ملک کا قانون وہ ہے جو افغانستان کی عبوری حکومت کے کرتا دھرتاؤں نے جاری کر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کس چڑیا کا نام ہے، آرٹ اور کلچر کسے کہتے ہیں، یہ تو افغانستان کی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان سے کوئی اس حوالے سے سوال کرنے والا ہے۔ جب کہ پاکستان کے اندر ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپئنز بھی موجود ہیں جو دہشت گردوں، مذہبی انتہاپسندوں اور جرائم پیشہ مافیا کے لیے بھی انسانی حقوق کی آڑ میں آواز اٹھانے میں آزاد ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اور پاکستان کی حکومت کو اس حوالے سے خوداحتسابی کرنی چاہیے۔ پاکستان میں جس آزادانہ طریقے سے دہشت گرد اپنی وارداتیں کر رہے ہیں، اس کا قصور دہشت گرد عناصر پر عائد اس لیے نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ انہیں تو جب بھی موقع ملے گا وہ اپنی واردات کریں گے کیونکہ وہ پاکستان اور پاکستان کی عوام کے کھلے دشمن ہیں۔ ان کا ایجنڈا پاکستان کے عوام کو غلام بنانا اور پاکستان کے وسائل پر اس طرح قبضہ کرنا جس طرح افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اصل ذمے داری تو پاکستان کو چلانے والوں اور نظام پر عائد ہوتی ہے جس کا کام پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمارے سامنے ایسی مثالیں موجود ہیں جب کسی ملک کے حکمرانوں نے عزم کیا اور پھر دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔ پاکستان میں نظام کے اندر ایسی خامیاں، لوپ ہولز، ابہام اور اشتباہات موجود ہیں، جن کا سراسر فائدہ پاکستان کے اندر وہ لوگ اُٹھا رہے ہیں جو پاکستان کے عوام کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں۔