چار نومبر کو قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی ہوئی۔ چھ بل منظور کیے گئے آئینی ترمیم کا مرحلہ بخوبی طے کرنے کے بعد قانون سازی کے محاذ پہ حکومت یکسو دکھائی دے رہی ہے ۔پارلیمانی محاذپہ حکومتی اتحاد کا پلہ بھاری ہے جبکہ حزب اختلاف واضح طور پر انتشار کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آئینی ترمیم کے معاملے میں پسپائی کے بعد اب چھ بلوں کی منظوری نے حزب اختلاف کی سیاسی ساکھ کو کافی دھچکا پہنچایا ہے ۔حزب اختلاف نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنی توانائیاں احتجاج اور سوشل میڈیائی ہلے گلے میں ضائع کی ہیں۔ قانون سازی جیسے سنجیدہ معاملات پر توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے پارلیمان میں پی ٹی آئی ایک پریشر گروپ جتنا کردار بھی ادا نہیں کر پارہی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ چار نومبر کو چھ بلوں کی منظوری کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ حزب اقتدار نے اپنے فہم اور سیاسی اہداف کے مطابق کامیابی سے قانون سازی کر لی۔
دوسری جانب حزب اختلاف پارلیمان میں شور شرابے تک محدود رہی۔ بعض تجزیہ نگار اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف نے اپنے حالیہ چیئرمین بیرسٹر گوہر کو بھی تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا ۔ناقدین یہ اعتراض بھی کر رہے ہیں کہ اسمبلی میں تحریک انصاف کی بے عملی نہایت معنی خیز ہے۔ اس بے عملی کی بدولت حکومت کو قانون سازی کرنے میں کوئی دشواری نہیں پیش آئی ۔گو حزب اختلاف قانون سازی کو روایتی شک کی نظر سے دیکھ کر مسلسل بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف ہے تاہم سنجیدہ طبقات کی رائے یکسر مختلف ہے۔ اس امر میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ سیاسی انتشار کی وجہ سے پاکستان شدید عدم استحکام کا شکار رہا ہے ۔بدقسمتی سے مفاد پرست ٹولے نے عدلیہ اور افواج پاکستان جیسے اہم ریاستی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹ کر محاذ آرائی کی فضا بنا دی اس منفی طرز عمل سے ملک بھر میں سیاسی بے یقینی اور ابہام کے تاریک سائے چھا گئے۔ ماضی کی غلط حکمت عملی اور حکومتی نااہلیوں کے نتیجے میں معیشت زوال پذیر ہوتی چلی گئی ۔سیاسی انتشار سے محض معاشی عدم استحکام ہی نہیں پھیلا بلکہ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کا عفریت نئی قوت کے ساتھ نمودار ہوا ہے۔ فتنہ خوارج سمیت لسانی دہشت گردوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج پر پے در پے حملے کر کے داخلی استحکام کو برباد کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ۔دہشت گردوں کو سرحد پار افغانستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں دستیاب ہیں ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا بنیادی ہدف معاشی ترقی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے ۔اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے علیحدگی پسند دہشت گرد سی پیک سے منسلک اداروں افراد اور ترقیاتی منصوبوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختون خواہ میں فتنہ خوارج اور لسانی منافرت پھیلانے والے انتشار پسند گروہ سرگرم عمل ہیں۔ اس مہلک گٹھ جوڑ کا ایک ہی مقصد ہے کہ افغانستان سے ملحق سرحدی علاقوں میں شورش پیدا کر کے پاکستان کو بیک وقت داخلی اور خارجی محازوں پر الجھا دیا جائے۔ داخلی سلامتی کے پیچیدہ مسائل پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی کا تسلسل درکار ہے۔ اس وقت افواج پاکستان روایتی اور غیر روایتی خطرات سے کئی محازوں پر نبرد آزما ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اعصاب شکن جنگ میں افغانستان سے ملحق سرحدی علاقوں میں افواج پاکستان نے مسلسل دفاعی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں بھی سٹرٹیجک منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے افواج پاکستان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔لائن آف کنٹرول پر ازلی دشمن بھارت کے جارحانہ عزائم کے خلاف بھی پاک فوج کے بہادر سپوت ڈٹے ہوئے ہیں ۔دفاعی معاملات میں نئے رجحانات کے متعارف ہونے کے ساتھ قومی سلامتی کی مجموعی حکمت عملی کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا بے حد ضروری ہے ۔اس اہم ارتقائی عمل کے ساتھ حکمت عملی کوتسلسل سے جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنا بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہی قومی تقاضوں کی تکمیل کے لیے حالیہ قانون سازی میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے ۔یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے۔ ماضی میں بھی اہم دفاعی پالیسیوں کے تسلسل اور مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے فوج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا چکی ہے۔ بعض غیر سنجیدہ سیاسی عناصر کی کج فہمی کی وجہ سے ایسے فیصلوں کو سیاسی رنگ چڑھا کر متنازعہ بنا دیا جاتا رہا ہے ۔یہ روش اس قدر جڑ پکڑ چکی ہے کہ آرمی چیف کی ملازمت کے آخری برس میں جعلی خبروں اور افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے قانون سازی کے ذریعے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت بڑھا کر نہ صرف کہ ملکی سلامتی کے تقاضوں کی تکمیل کی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں افواہوں کے طوفان کا بھی بروقت سد باب کر دیا ہے ۔پاکستان کو معاشی اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں پائیدار استحکام درکار ہے۔ ان اہم مقاصد کے حصول کے لئے عساکر پاکستان اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ دفاع کے بنیادی فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی قیادت متحرک عسکری سفارت کاری کے ذریعے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ درست سمت میں مثبت پیشرفت کی بدولت معاشی استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ۔انتشار پسندانہ سیاست سے بیزار آئی ہوئی قوم معاشی بحالی کی منتظر ہے ۔پاک فوج کی مثبت حکمت عملی کے تسلسل کے لیے کی جانے والی حالیہ قانون سازی کو سیاسی تنازعات کی میلی عینک کے بجائے قومی مفادات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔