Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

زبان لطیف میں بیان قائد

پھر نئی جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے،پہلا فائر لطیف جاوید نے کیا اس پر تابڑ توڑ حملے حرف وصوت کا رزق کھانے والے قصیدہ گو نے اپنی کمائی حلال کرنے کا حق ادا کیا ہے ۔
محبت آندھی ہی تو ہوتی ہے تبھی مرحوم اشفاق احمد کے مرشد نور کے ڈیرے والوں نے فرمایا تھا۔
’’ محبوب وہ ہوتا ہے جس کا نا ٹھیک بھی ٹھیک لگے‘‘ اور ہم اسی نا ٹھیک کو ٹھیک کہنے والوں کے سحر میں ہیں ،ان کا محبوب جو کر دے وہی درست کوئی اور کچھ بھی اچھاکردے اس کے اوپر لکیر !
ربع صدی سے زیادہ عرصہ اقتدار کے جھولے جھولنے والے،اگر ان کے اقتدار کے وہ برس بھی شمار کر لئے جائیں جو انہوں نے آمریت کی چھتری تلے گزارے تو ان کا عرصہ اقتدار چار عشروں پر محیط ہے ،انہوںنے ووٹ کو عزت دینے کے نام پرووٹر کی بے توقیری کو شعار ذات بنا رکھا ہے اور ان کے حاشیہ نشین ہیں وہ مناصب ومنفعت کی خاطر حقائق سے انکار پر ہی مصر رہتے ہیں اور یہی ان کی حیات کا مقصد ومنشا ہے ،ان کی بصیرت و بصارت کا یہی مدعا ہے کہ زندگی کی سچائیوں کے منکررہیں۔
تاریخ کی صداقتوں سے معری رہیں ،دماغ پر تالے لگا کرجیئیں، یہی ان کا گھمنڈ اور تفاخر ہے کہ وہ ہمیشہ باد فروش بنے رہیں ،جیتے جی محافظوں کے لشکر ان کے دائیں بائیں رہیں اور بعد از مرگ کوئی ان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والانہ ہو اور مدتوں ان کے کفن کے بخیے ادھیڑے جاتے رہیں ۔الفاظ کے گھائو لگانے کا جو سلیقہ اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سکھا کر جائیں وہ انہیں کے مرثیے لکھنے کے کام آئے۔
تاریخ کے یہی احوال اور مطالعے ہم پر آشکار کرتے ہیں کہ انہیں ان کے گھمنڈ ہی نے تاریخ میںامر ہوجانے کے قابل نہ چھوڑا۔عدلیہ کے نئے سربراہ کو ابتدا میں ہی ابتلا کا سامنا ہے ،لگتا نہیں کہ وہ انہیں سازشوں کی بھینٹ چڑھ جائیں گے ان سے پہلے جن کا شکار ہوئے اور ایک زبوں حالی کے ساتھ بقایا زندگی وطن پاک کی بجائے دیار غیر میں غیر مہذب سیاسی بزر جمہروں سے آڑے ہاتھوں لئے جاتے رہیں گے۔
یہ رسم بھی تو اول اول انہوں ہی نے ڈالی تھی جب 1997 ء میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کا کیس چل رہا تھا اور مسلم لیگ ن کے کارکن کئی رہنمائوں کے ہمراہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کی دیواریں پھاند کر سپریم کورٹ کے احاطہ میں داخل ہوکر عدالتی کارروائی میں صریحاً دخل اندازی کے مرتکب ہوئے ۔
جبکہ دسمبر 2017ء میں ایک بار پھر یہ واقعہ پیش آیا کہ نواز خاندان کے خلاف چلنے والے نیب کے مقدمہ میں نواز شریف کی محتسب عدالت میں پیشی کے دوران عدالت سے باہر اور اندرنہ صرف احتجاج کیا بلکہ ہنگامہ آرائی تک کی ۔عدالتی معاملات میں دخل اندازی کا شاخسانہ تھا کہ ملکی سیاست اور عدلیہ کے درمیان پیچیدیاں بڑھتی چلی گئیں ۔ آج پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک ریٹائرڈ جج کے ساتھ کی جانے والی توہین تو مسلم لیگ ن کے فدائی و شیدائی قصیدہ گوکو یاد آگئی مگر انہوں نے اپنے ماضی میں جھانکنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں۔
تاریخ کا یہ سیاہ باب کیسے اور کون مٹا پائے گا ،ہاں مگر پھر بھی کپتان کے کھلاڑیوں کو یہ اجازت تو مطلق نہیں دی جاسکتی کہ وہ ایسے کھلواڑ مچانے کے مرتکب ہوں ۔نئے چیف جسٹس معزز محترم یحییٰ آفریدی کے خلاف جاوید لطیف کی ہرزہ سرائی پرانے زخم تازہ کرنے کی کوشش ہی نہیں بلکہ ان کے قائد میاں نوازشریف کے آئندہ لائحہ عمل کی بھی چغلی کھاتی ہے ۔سبھی جانتے ہیں کہ جاوید لطیف فروری 2024 ء میں ہونے والے انتخابات میں اپنی شکست کاذمہ دار شہباز شریف کو ٹھہراتے ہیں اور سب پر عیاں ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیاسی حلیف ہیں ،گویا کہ ان کا نئے عدالتی ڈھانچے پر معترض ہونا ان کے قائد کی رائے کا اظہار ہے اور وہ بہ زبان حال یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ انہیں کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زبان میری ہے بات ان کی انہیں کی محفل سنوارتا ہوںچراغ میرا ہے رات ان کی۔(علامہ اقبالؒ)
جاوید لطیف نے اپنے قائد میاںنواز شریف کے احساسات و جذبات کوزبان دی ہے ،یہ گرہ کیا ہے نقش تراشنے والے ہی اس سمت رہنمائی فرماسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں