Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

صدر ٹرمپ اور پاکستان

امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ایک جذباتی خطاب کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہ صرف امریکی عوام کو ایک مضبوط اور خوشحال امریکہ دیں گے بلکہ جنگوں کا خاتمہ بھی کریں گے۔ ان کے خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا وژن امریکہ کی گرتی ساکھ کو دوبارہ بہتر بنانا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں دونوں ممالک کے ماضی کے تعلقات، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کی پالیسیوں اور ان کے حالیہ خطاب کو مدنظر رکھنا ہوگا۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پیچیدہ رہی ہے جو مختلف اوقات میں خوشگوار اور کشیدہ دونوں نوعیت کے رہے ہیں۔ 1947 ء میں پاکستان کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ابتدا میں تعاون کا رجحان تھا۔ امریکہ نے پاکستان کو مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کے وسیع دائرے میں ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھا۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بنیاد اس وقت پڑی جب 1950 کی دہائی میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے۔ ان معاہدوں میں سینٹو CENTO اور سیٹو (SEATO) جیسے دفاعی معاہدے شامل تھے، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔ اسی کی دہائی میں روس کے افغانستان پر حملے اور قبضے کی کوشش کے دوران بھی پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر افغانستان کو فوجی مدد فراہم کی اور پھر روس کو وہاں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ تاہم پاک امریکہ تعلقات سرد جنگ کے دوران مختلف پہلوئوں سے متاثر ہوئے، جیسے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلقات میں گہرائی لانا اور امریکہ کی بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت ۔
نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ تعاون کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 ء میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ محتاط اور سخت کر لیا تھا۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں مزید تیزی لائے۔ 2018ء میں امریکہ نے پاکستان کے لیے اپنی امداد میں کمی کی نہ صرف دھمکی دی بلکہ فوجی امداد میں کٹوتی بھی کی گئی۔ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تنا آیا۔ 2018 ء میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو بہت کچھ دیا ہے، مگر بدلے میں کچھ نہیں ملا۔ اس کے باوجود امریکہ کی افغانستان میں جنگ کے دوران پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کا کردار باعث بنا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود تعاون جاری رہا۔افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ٹرمپ کی حکمت عملی نے پاکستان کو ایک نئے کردار میں ڈھالا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2018ء میں افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی گئی تھی۔ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 2020ء میں امریکی اور طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا۔ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کی اور پاکستان کی چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکہ نے چین کی عالمی طاقت بننے کی پالیسیوں کو چیلنج کیا اور پاکستان پر دبا ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے تعلقات کو چین کے ساتھ مزید مستحکم نہ کرے۔اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کے صدر منتخب ہو چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کیا تبدیلیاں آئیں گی۔
ٹرمپ کے خطاب سے یہ واضح ہوا کہ وہ اپنی پچھلی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، خاص طور پر ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نئی جنگوں کے بجائے موجودہ تنازعات کو حل کرنے پر توجہ دیں گے۔ تاہم، ان کی “امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا” کی پالیسی شاید پاکستان کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔پاکستان اس امن عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس حوالے سے تعاون مزید اہمیت اختیار کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت ضروری ہے۔ دوبارہ صدارت کے دوران بھی ٹرمپ اس بات پر زور دے سکتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے مفادات کے حق میں اپنی پالیسیوں کو زیادہ فعال اور متوازن بنائے۔ تاہم، اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی تعلقات میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کرتا ہے تو اقتصادی تعاون اور امداد میں اضافے کی امید کی جا سکتی ہے۔ایک اور اہم پہلو جو پاکستان کے لیے چیلنج بن سکتا ہے وہ چین کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تنا کا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ گہرے اقتصادی اور دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور ٹرمپ کی پالیسی میں چین کے خلاف سخت اقدامات شامل ہیں۔ اگر ٹرمپ چین کے خلاف اپنی پالیسیوں میں شدت لاتے ہیں تو پاکستان کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں کس طرف کھڑا ہوگا۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون میں کمی کا امکان ہے کیونکہ ٹرمپ اپنی ’’امریکا فرسٹ‘‘پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اس کے باوجود اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتا ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ بہتری آ سکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں ہمیشہ اتار چڑھا آتا رہا ہے، اور ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان میں امن عمل اور چین و روس کے ساتھ تعلقات جیسے مسائل پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے مستقبل کی شکل کو تشکیل دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں