Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

مسلم قوم کی صورتحال اور عروج کا راستہ

دنیا میں آج مسلمانوں کی تعداد دو ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کے پاس بے پناہ مال و دولت ہے اور خوشحالی کے مادی وسائل کی فروانی ہے۔ دنیا کے پانچ امیر ترین ممالک میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ مسلمانوں کے پاس جدید ترین اسلحے، وسیع فوجی طاقت بھی ہے، یہاں تک کہ کئی ممالک نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت کے طور پر ان میں نمایاں ہے۔ لیکن مادی اور عسکری وسائل رکھنے کے باوجود مسلمان عالمی سطح پر کمزور اور باہم بٹے ہوئے ہیں اوروہ عظمت ووقار جو مسلمانوں کی تاریخ کا ایک روشن باب تھا، آج ان میں مفقود ہے۔
قرآن اور حدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور دوبارہ عروج کے لیے چند بنیادی نکات پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ اہل علم اور مسلم زعما غور و فکر کریں۔
ایمان کی کمی اور اتحاد کا فقدان‘قرآن میں کامیابی کا راز ایمان اور اللہ پر کامل بھروسے کو قرار دیا گیا ہے۔ جب مسلمانوں کا ایمان کمزور ہوجاتا ہے اور دنیا کی محبت غالب آتی ہے، تو ایمانی قوت ختم ہونے لگتی ہے اور امت ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔‘‘(سورہ آل عمران، 3:103)
افسوس کہ آج مسلمان فرقہ واریت، سیاسی گروہ بندیوں اور ذاتی مفادات میں الجھ چکے ہیں، جو ان کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ان کے زوال کی اہم وجہ ہے۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں کے پاس نہ بڑی تعداد تھی، نہ مال و وسائل، اور نہ فوجیں۔ لیکن ان کا ایمان کامل اور اللہ پر اعتماد پختہ تھا، جس نے انہیں دنیا کی عظیم سلطنتوں پر فتح عطا کی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے عظیم سپہ سالار، جنہیں “سیف اللہ” کا لقب ملا، محدود وسائل کے باوجود رومیوں اور ایرانیوں کی عظیم سلطنتوں کو شکست دے کر تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا۔
قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا‘قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں باہمی اتحاد، اخوت، تقوی، اور اصول حیات عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘(سورہ المائدہ، 5:2)
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کو اپنی زندگی، حکمت عملی اور پالیسیوں میں شامل کریں، ایمان و تقوی کو مضبوط بنائیں، اور ایک متحدہ امت کی صورت اختیار کریں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کی مدد فرماتا ہے۔
اخوت و اتحاد اور ہم آہنگی کا فروغ*رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا‘’’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو، تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری)
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ایک امت کی حیثیت سے اخوت وبھائی چارگی اور اتحاد و ہم آہنگی کی روح کو زندہ کریں اور انسانیت کی بھلائی اور خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔ صرف یہی باہمی اخوت و محبت اور اتحاد انہیں دوبارہ باوقار اور مضبوط بنا سکتا ہے۔
انسانیت کی بھلائی اور خدمت*قرآن مجید میں ہے کہ :’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔‘‘(سورہ آل عمران، 3:110) مسلمانوں کو معاشرتی خدمت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ دنیا انہیں ایک عظیم اور باوقار قوم کے طور پر دیکھے اور ان سے رہنمائی حاصل کرے۔موجودہ صورتحال کا تجزیہ اور اصلاح کا راستہ آج کے مسلمان دنیاوی مفادات، فرقہ واریت اور ذاتی اہداف میں الجھ کر اپنے اصل مقصد سے دور ہو چکے ہیں۔ خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کو باہم تقسیم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریت اور اسلامک بینکنگ جیسے نظریات میں الجھا دیا گیا۔ انتخابات کے نام پر مسلمان باہم تقسیم ہوکر آپس کی لڑائیوں میں الجھ گئے، اس کے ساتھ ساتھ مذہبی فرقے سیاست میں شامل ہو کر باہم دست و گریباں ہوگئے اور ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے، اور اسلامی اصولوں کو چھوڑ کر ذاتی مفادات کو فوقیت دینے لگے۔دوبارہ عروج کے لئے ضروری اقدامات مسلمہ کا دوبارہ احیا اور باوقار و مضبوط قوم بننا ممکن ہے اگر وہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، ایمان کو مضبوط کریں، اور اتحاد و بھائی چارے کو فروغ دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت کریں، اور توکل علی اللہ کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ایمان کی طاقت سے وقت کی عظیم سلطنتوں کو شکست دی اور دنیا کو عروج کی مثال پیش کی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:’’اور تمہیں اللہ کی مدد صرف ایمان کے ذریعے ہی نصیب ہوگی۔‘‘
(سورہ النصر، 110:1-3)
آج مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اخوت کے ایمانی رشتے میں باہم متحد ہوں، اللہ کے سامنے خلوص سے سر خم کریں، اور دجال نظام و چھوڑ کر پورے اسلام میں واپس داخل ہو جائیں اور اس کی مکمل تعلیمات کو اپنائیں۔ یہ کافی نہیں کہ نماز، روزے تک دین کو محدود کر دیا جائے، اور دجالی سیاسی مالیاتی اور معاشرتی نظام کو اپنا کر عصر تقاضوں کا نام لے کر دھوکہ میں پڑے رہیں اور مفتیاں آخرزمان کے فتوں کے پیچھے آڑ لیکر اپنے آپ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے رہیں، بلکہ دین کے ہر پہلو کو مضبوطی سے تھامیں۔یہ وقت ہے کہ مسلمان اللہ پر کامل ایمان اور توکل کے ساتھ اسلام کی مکمل پیروی کریں، تاکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ذریعے وہ دنیا کی رہنمائی کرنے والی قوم بن سکیں۔ ورنہ صیہونی دجالی مالیاتی نظام کے پھندے سے نکلنا مشکل ہوگا، اور دنیا و آخرت دونوں میں بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا، اے مسلمانو! جاگ جا اور خلوص دل سے توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف پلٹ آئو۔

یہ بھی پڑھیں