مولانا ابوالکلام نے فرمایا تھا ’’مسلمانوں نے سیاسیات میںدوڑنا سیکھا ہے یا بیٹھ جانا،چلنا تو کبھی سیکھا ہی نہیں‘‘ بقول مرشد شورش کاشمیری ’’مسلمان بگولے کی طرح اٹھتے،آندھی کی طرح چھا جاتے اور غبار کی طرح بیٹھ جاتے ‘‘ یہ کسی تحریکی مسئلے کے لئے قطعی فارمولا تو نہیں حالیہ معروضی حقیقت ضرور ہے۔تحریک انصاف کے نوجوان بگولوں کی مثل اٹھتے ہیں چہاردانگ ایک کھلبلی سی مچا دیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جھاگ کی طرح مسمار ہوجاتے۔یہ ہماری آنکھوں دیکھی صورتحال ہے ،اس میں شک وشبہ یامبالغہ آرائی مطلق نہیں ہے ۔
ڈی چوک پر جن جوار بھاٹوں کاہم نے نظارہ کیا وہ تحریک پاکستان کے حوالے سے تاریخ کی کتب میں پڑھا یا پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں دیکھا ۔اول تحریک میں پاک وطن معرض وجود میں آیا اوردوسری جدوجہد اگر علمائے امت آمر ضیاء کے قدموں میںڈھیر نہ کر دیتے تو حتمی نتیجہ نظام مصطفی(ﷺ) کے نفاذ کی صورت میں نکلنا تھا مگر چند وزارتوں کی خاطر خصوصاً جماعت اسلامی نے باد صر صر کو مارشل لاء کے حق میں باد نسیم بنادیااور پھر آج تک دینی جماعتوں کی قیادت پر کسی نے اعتماد نہیں کیا ۔
کپتان نے کھیل ہی کھیل میں اقتدار کا سنگھاسن پالیا اور قوم نے کھیل کے میدان کے شناور کو بہرحال ایک سنہری موقع فراہم کیا ،مگر پی ٹی آئی کی زنبیل میں وہ کچھ تھا ہی نہیں جس کی امیدیں باندھ لی گئیں ۔پھر یقینا رات کے اندھیرے میں عدالتی شب خون نے خان سے اقتدار چھین لیا مگر وہ طلسم خانہ پندار کا ایسا اسیر تھا کہ اس نے دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑ کر نہ جانے کس کے ناصائب مشورے پر اپنے ہاتھوں سے ملک کے سب سے بڑے صوبے اور کے پی کے کی حکومت کو تاراج کردیا اور پھر نوجوانوں کو ایک طلاطم خیز طوفان بد تہذیبی اسلام آباد کے ڈی چوک پر لڑنے مرنے کے لئے صف آرا کر دیا ۔
پی ڈی ایم کی حکومت کے پیچھے جو تھے انہوں نے اس یدھ کا کوئی اثر نہ لیا مگر تازہ لہو کے گرم جھونکے بہر کیف رائیگاں نہ گئے اور دوہزار اٹھارہ میں عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ کتنے طاقتور ہیں ،ریاست کے سارے ادارے اپنے تمام تر وسائل یکجا کئے اور کپتان کی شکست کے لئے کوچہ و بازار میں کود پڑے مگر ایک بار پھر امید کے چراغوں نے سب کے عزائم خاک کردیئے اب حکومت کے پاس آخری ہتھیار فارم سنتالیس تھا جسے استعمال کرکے عوام کے اعتماد کا دھڑن تختہ کردیا گیا۔ ایک بار پھر کپتان کے کھلاڑی سر پر کفن باندھے سڑکوں پر آگئے ،لاٹھی گولی کی سرکار نے کوئی ایسا دائو نہیں جو آزمایا نہ ہو مگر بانی پی ٹی آئی کا پابند سلاسل ہونا وہ نامساعد حالات پیدا نہ کرسکا کہ گرم لہوکسی کرشمے کے در وا کرنے میں صریحاً نیل ومرام رہا۔اس میں ایک بڑا تسامح یہ بھی ہوا بانی پی ٹی آئی انگلی کے کھڑا ہونے کی امید لگا بیٹھے، اس پر مستزاد عدالتی نظام نے غیر متوقع فیصلے دے کر امیدکے دیوں کی لو کو اور بھڑکایا مگر وہ جن کے لئے نرم گوشے کی گنجائش پیدا کی جانی چاہئے تھی، انہیں انتہائی حد تک مایوس کردیا گیا پھر یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے آندھی تھم گئی،غبار چھٹ گیا ۔آخر انسان کب تک بنا ہتھیاروں کے لڑ سکتاہے ۔slwo and steady wins the race کا فارمولا بھی بھلادیا گیا اور اب یہ عالم ہے کہ سچ کے سارے پرچم سرنگوں ہوچلے ہیں ۔اب پی ٹی آئی کی ساری امیدوں کا مرکز وہ ہے جس کے سامنے سینہ تان کر کہاگیا تھا کہ “absulotely not “نسل نو کو سراب کے پیچھے بھگانا،مگر اب مسئلہ یہ بھی ہے کہ پیچھے بھاگنے والے کتنے رہ گئے ہیں، وہ جنہیں قیادت سونپی گئی ہے وہ بھی تو ریت کے ڈھیر یا پھر غبار راہ ہی ٹھہرے۔جن کے بارے یہ کہا جاسکے کہ ’’ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘‘ تاہم اتنا ضرور ہے اب کی بار چنگاری راکھ کے ڈھیر میں دبی ضرور ہے بجھی نہیں ۔