اس وقت پاکستان کے سرمایہ دار حلقوں کے علاوہ امیرسیاستدانوں میں بھی پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق باتیں ہورہی ہیں۔ میاں نوازشریف نے امریکہ روانہ ہونے سے قبل اشارہ دیاتھا کہ و ہ پی آئی کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہرچند کہ بعد میں اس کی تردید کی گئی‘ لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ میاں صاحب پی آئی اے کو خریدنے میںدلچسپی رکھتے ہیں۔ نیز ان کے قریبی حلقوں کا یہ بھی استدلال ہے کہ اگر پی آئی اے نہیں خریدی گئی تو اس کی جگہ ایک نئی ایئر لائن شروع کی جائے گی۔ جس کا نام پنجاب ایئر لائن ہوگا۔ ہرچند کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کو ہوائی جہاز سے متعلق صنعت کو چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ لیکن ان کے دوستوں میں ایسے افراد بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایئر لائن چلانے کا یاتو تجربہ رکھتے ہیں یا پھر اس سلسلے میں کسی نئے خریدار کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سرمایہ دار بھی پی آئی اے کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلکہ خود خیبرپختونخواہ کی حکومت اس کو خرید سکتی ہے۔ اس وقت پی آئی اے سے متعلق جوبولی عوام کے سامنے آئی ہے‘ وہ دس ارب پاکستانی روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ حالانکہ پی آئی کے اثاثے اس سے کہیں زیاد ہ ہیں۔ تاہم نجکاری کی وزارت پی آئی اے کو بیچنے کے سلسلے میں خاص محتاط نظرآرہی ہے۔ کیونکہ اگر قومی ایئر لائن کو اونے پونے بیچا گیا تو یہ پاکستان کا ایک سیاسی ایشو بن جائے گا۔ اس لئے کوشش یہ کی جارہی ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کے سلسلے میں شفافیت کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو حکومت پرشدید نوعیت کی تنقید ہوسکتی ہے۔ اس لئے پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں خاصی احتیاط برتنی چاہیے ‘ دوسری طرف پی آئی اے کے قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ قومی ایئرلائن اتنی بھی خراب اور خستہ نہیں ہے کہ اس کو بحال نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اگر will ہے تو بہت سے خراب کام اچھے ہوسکتے ہیں۔
تاہم اگر پی آئی اے کو فروخت کرنا مقصود ہے تو سب سے پہلے اس ایئر لائن سے وابستہ ملازمین کا خیال رکھنا لازمی ہوگا۔ پی آئی اے کے ملازمین باالفاظ دیگر اس کی یونین کواعتماد میں لئے بغیر اس قومی ایئرلائن کی نجکاری کی گئی تو حکومت وقت کو شدید تنقیدکا سامنا کرنا ہوگا۔ چنانچہ اس کاواحد حل یہ ہے کہ غیر جانبدار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جواس کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے زیادہ بڑی بولی دینے والے کوفروخت کردی جائے۔ بلکہ میرا اس سلسلے میں اصرار ہے کہ شفایت کے پہلو کونظرانداز نہیں کیاجاناچاہیے۔ ویسے بھی پی آئی اے اس وقت بھی عوام کی نگاہوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ایک عام آدمی پی آئی پر سفر کرنا اپنے لئے اعزاز سمجھتاہے۔ بلکہ بعض ایسے افراد بھی ہیں جو بیرونی اور اندرونی سفر کے سلسلے میں پی آئی اے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ویسے بھی پی آئی اے کے پائلٹ اور اس سے وابستہ پاکستانی ارکان دنیا بھر میں اچھی شہرت رکھتے ہیں اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
دوسری طرف پی آئی اے میں ہونے والے نقصان کی وجہ وہ مفت خورے سیاستدان اور بیورو کریٹس تھے جن کو پاکستان کے اندر یا باہر جانے سے متعلق فری ٹکٹ ملتا ہے ‘ اس میں اکثریت سیاستدانوں کی بھی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ حالانکہ بہت سے صحافیوں نے فری ٹکٹ کے سلسلے میں تنقید کرتے ہوئے حکومت وقت کو مشورہ دیا تھا کہ فری ٹکٹ دینے کا سلسلہ بند کیاجائے ‘ ورنہ پی آئی اے شدید خسارے میں چلی جائے گی۔ پی آئی اے کی یونین نے بھی اس مسئلہ کو متعلقہ وزارت میں اٹھایاتھا‘ لیکن ان کے مشورں کو درخور اتنا نہیں سمجھا گیا۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی آئی اے مسلسل خسارے میں جاتی رہی خسارے کو کم کرنے سے متعلق تمام تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا‘ جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ پی آئی اے ایک خسارے پر چلنے والی ایئرلائن بن چکی ہے‘ خسارہ اتنا زیادہ ہے کہ حکومت اس کو برداشت نہیں کرسکتی ہے۔ چنانچہ اس کو نجی شعبے کے حوالے کیا جارہاہے تاکہ ایئر لائن کو اچھی طرح چلایاجائے اور مفت سفر کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے‘ کیونکہ پی آئی اے کو نقصان ایسے ہی مسافروں کی وجہ سے ہوا ہے جو مفت سفر کرناچاہتے تھے۔ ابھی تک پی آئی اے کو خریدنے کے سلسلے میں دس ارب روپے کی بولی اخبارات کی زینت بنی ہے۔ جو ہر لحاظ سے بہت کم ہے‘ صرف پی آئی اے کے اثاثے دس ارب سے زیادہ ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں بڑی احتیا ط سے کام لینا اشد ضروری ہے نیز اس ایئر لائن کو ان افراد کے ہاتھوں فروخت کرناچاہیے جن کا تعلق فضائی صنعت سے ہو اور ایئر لائن چلانے کا اچھا تجربہ رکھتے ہوں۔ اس ہی طرح یہ قومی ایئر لائن نئے خریدنے والوں کے لئے منافع بخش ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر اس قومی ایئرلائن کے فروخت کرنے کا فیصلہ بند کمروں میں کیا گیا تو اس کے نتائج وہ نہیں نکل سکیں گے جس کی بنا پر اس کو نجی شعبے کے حوالے کیاجارہاہے۔
جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں بڑے سرمایہ داروں کے علاوہ مزدوروں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیاجاناچاہیے تاکہ تنقید کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ سکے۔ پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے‘ اس سے وابستہ سینکڑوں افراد اس کی نج کاری کے سلسلے میں شفافیت کی امید رکھتے ہیں۔ نیز ان کا رکنوں کا جو ایک عرصہ دراز سے اس قومی ایئرلائن سے وابستہ ہیں ان کا بھی حکومت کو ہی سوچنا ہے تو اب بھی اس ایئرلائن کو منافع بخش بنایاجاسکتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مفت سفر کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ‘ سیاسی بنیادوں پر ملازمتیں دینے کاسلسلہ بند کیاجائے اگر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں تو پی آئی اے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ ورنہ نجکاری اس کا مقدر بن چکی ہے جس میں شفافیت لازم ہے۔