Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

امریکی صدر ٹرمپ اور فلسطین کامسئلہ

امریکہ کے حالیہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر امریکہ کا صدر منتخب کرلیا گیاہے۔ ان کا مقابلہ کملا ہیرس سے تھا‘ جوان کے مقابلے میں ایک کمزور امیدوار تھیں۔تاہم انہوں نے اپنی انتخابی تقریروں میں ٹرمپ کے خلاف رکیک حملے کئے اور کہا کہ اگر وہ دوبارہ انتخابات جیت گئے تو وہ دنیا میں قیام امن کی کوششیں ناکام ثابت ہونگی۔ لیکن کملا ہیرس کی ٹرمپ کے خلاف ذاتی اور سیاسی گفتگو کا امریکی ووٹر پر کسی بھی قسم کااثر نہیں ہوا بلکہ ٹرمپ ان ریاستوں میں بھی کامیاب وکامران رہےجہاں سے انہیں جیتنے کی امید نہیں تھی۔ اب ٹرمپ ایک بار پھر وائٹ ہائوس میں 20جنوری2025 سے براجمان ہوجائیں گے۔ ٹرمپ کی شخصیت اور ان کی صدارت کے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ اس کا فی الوقت فوری تجزیہ ناممکن ہوگا لیکن یہ ضرور کہاجاسکتاہے ٹرمپ کا جنوبی ایشیا کے ممالک میں زیادہ تر جھکائو بھارت کی طرف ہوگا۔ ماضی میں جب وہ امریکہ کے صدر تھے تو انہوں نے بھارت کادورہ کیاتھا‘ اس دورے کے دوران دہلی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے ‘ لیکن ٹرمپ نے اپنے قیام دوران اس مذہبی تصادم کی نہ تو مذمت کی اور نہ ہی اپنی تقریروں میں اس کا ذکر کیا، حالانکہ ٹرمپ کے دہلی میں قیام کے دوران مسلمانوں کا قتل عام کیا گیاجبکہ ان کی املاک کو بھی لوٹا گیا۔ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف آرایس ایس کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کا نہ تو نوٹس لیا اور نہ ہی اس کی مذمت کی۔ وہ کسی بھی لحاظ سے بھارت کو اپنے مذمتی بیان سے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے تاہم ٹرمپ کے اس رویے پر مسلمانوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔
اب ٹرمپ ایک بار پھر امریکی صدر منتخب گئے ہیں۔ وہ جنوری میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ مشرق وسطیٰ کا ہے، خصوصیت کے ساتھ اسرائیل جس طرح فلسطینیوں کا قتل کررہا ہے اس کی مثال جدید دنیا میں نہیں ملتی ہے۔ حالانکہ تمام امن پسند ممالک بشمول اقوام متحدہ اسرائیل پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ فی الفور جنگ بندی کرے اور حماس کے ساتھ مذاکرات کاراستہ اختیار کرے تاکہ فلسطین میں امن قائم ہوسکے۔ نیز دوریاستوں کے تصور کو عملی جامعہ پہنایاجاسکے تاکہ اسرائیل اور فلسطین رہنمائوں کے درمیان اس مسئلہ پر تفصیلی بات چیت سے جہاں کوئی نتیجہ نکل سکتاہے وہیں دوریاستوں کے تصور کو اس بات چیت کے ذریعےباثمر نتیجہ نکل سکتاہے ۔
دراصل ٹرمپ خود بھی چاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ سمیت جہاں جہاں بھی مقامی جنگیں جاری ہیں، ان کو رکناچاہیے بلکہ دنیا کو معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے امن کی راہ اپنانی چاہیے۔ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک ماہر معاشیات ہیں اور امریکہ کے کامیاب بزنس مین بھی ہیں۔ انہیں اس بات کاادراک ہے کہ امریکہ کواس وقت معاشی ترقی کی سخت ضرورت ہے، امریکی عوام میں مہنگائی اور غربت نے امریکہ کے سیاسی ومعاشی نظام کو بہت متاثر کیا ہے، اس وقت میں امریکہ میں لاکھوں عوام غربت کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں جن کو اس حصار سے نکالنے کی ٹرمپ کی ذمہ داری ہے۔ تاہم ٹرپ اپنی معاشی پالیسیاں ایسی ترتیب دیں گے جس کی بنا پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ امریکہ آسکے جو بعد میں امریکی اکانومی کو مضبوط کرنے سبب بن سکے ۔
نیز ٹرمپ اپنے سیاسی تعلقات میں ان ممالک کو ترجیحی دیں گے جہاں امریکہ کا مال فروخت ہوسکے۔امریکہ جنوبی ایشیا میں اپنے سیاسی ومعاشی تعلقات کے سلسلے میں بھارت کو ترجیح دے گا بھارت کی 300ملین کی مڈل کلاس امریکی مال سمیت ہرقسم کا مال خریدنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹرمپ کی کوشش ہوگی کہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کو دیرپا بنیادوں پر حل ہوناچاہیے ۔ ورنہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ خطہ اگر جنگ کے شعلوں میں پھنس گیاتو دنیا ایک نئے خطرناک معاشی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ابتدائی دنوں میں امریکہ کی معیشت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے اور اس کے ساتھ ہی امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ لانے کی بھی کوشش کریں گے۔وہ بنیادی طور پر جنگوں کے خلاف ہیں کیونکہ جنگیں دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے ممالک مثلاً مشرق وسطیٰ میں قیام امن کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گےجس کیلئے وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے سیاسی ومعاشی تعلقات کو زیادہ کواہمیت دیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ذہانت اور قابلیت سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور عربوں کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس وقت اسرائیل ایک جارح کی حیثیت سے مسلسل غزہ اور مغربی کنارے پر عربوں کی سرزمین پر بمباری کرکے دہشت پھیلا رہاہے جس میں اب تک چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
ٹرمپ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کی حمایت نہیں کریں گے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ دونوں ان متحارب گروپوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے اس علاقے میں امن کی کوئی راہ استوار ہوجائے۔ ٹرمپ اپنے دل میں سعودی عرب کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات کو وسعت دیناچاہتے ہیں کیونکہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ مضبوط ملک سعودی عرب ہی ہے جو سیاسی بنیاد پر پورے عربوں کی نمائندگی کرتاہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض عرب ممالک سعودی عرب کی خارجہ پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں لیکن وہ اس کی پالیسی کی راہ میں رکاوٹ بھی نہیں بنناچاہتے ہیں۔
جہاں تک بھارت اور پاکستان کا تعلق ہے توٹرمپ ان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرانے کی کوشش کریں گے تاہم اس کی ترجیح بھارت ہوگا جوکہ ایک بڑی منڈی ہے اور وہاں امریکہ کا مال بہ آسانی فروخت ہوسکتاہے۔ دراصل موجودہ دور معیشت کا ہے، امریکہ اس ملک کو ترجیح دے گا جہاں اس کا مال فروخت ہوگا۔ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں