یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسئلہ کشمیر وہ رستا ہوا ناسور ہے جس کی وجہ سے خطے کا امن دائو پر لگا ہے۔ پاکستان کا ریاستی موقف بہت واضح ہےکہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اور علاقائی حیثیت کا تعین کرنے کا حق صرف کشمیری عوام کا ہے۔ اس بنیادی حق کا استعمال صرف آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ موقف انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے مروجہ اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے ۔بھارت کا موقف اس کے برعکس ہے۔ 77 برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ جاری ہے۔ کشمیری عوام اس قبضے کے خلاف کئی محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔ حریت کشمیر کی شمع بدستور روشن ہے۔ بھارت کے ناجائز تسلط کے خلاف کشمیری عوام مسلسل متحرک رہے ہیں ۔آزاد کشمیر کا خطہ عوام کی قابل فخر جدوجہد کا ثمر ہے ۔ایک جانب مقبوضہ جموں و کشمیر ہے جہاں بھارتی افواج اور تمام ریاستی ادارے جبر تشدد،دھونس اور دھاندلی کے ذریعے مقامی آبادی کے بنیادی حقوق سلب کر کے زمین کے ٹکڑے پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ اس جابرانہ قبضے کی حقیقت یہ ہے کہ زمین کے ٹکڑے پر تو بھارت کا غیر قانونی قبضہ برقرار ہے البتہ عوام کے دل اور ذہن ریاستی قبضے میں نہیں ہیں۔کشمیری عوام کے قلب و ذہن میں آزادی کا جذبہ گھر کیے ہوئے ہے ۔اس جذبے کا ایک مظاہرہ چند روز قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی میں بھی دکھائی دیا ہے۔
ایک طویل وقفے کے بعد بالآخر مودی سرکار نے مقبوضہ علاقے میں دھاندلی زدہ الیکشن کروا ہی دئیے۔ ان دھاندلی زدہ الیکشن کے بطن سے جنم لینے والی اسمبلی میں مودی سرکار کا پالا جن جماعتوں سے پڑا ہے وہ بھارتی تسلط کے خلاف سخت گیر موقف نہیں رکھتیں۔ اکثریت حاصل کرنے والی نیشنل کانفرنس سمیت پی ڈی پی اور دیگر جماعتیں ماضی میں بھی قابض بھارت سے دوستانہ میچ کھیلتی رہی ہیں ۔ عبداللہ اور مفتی گھرانے کے افراد کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ ایسے ڈھیلے ڈھالے موقف کی حامل جماعتوں پر مشتمل اسمبلی نے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس سے نئی دلی کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چوہدری کی قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ منسوخ شدہ آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو دی گئی خصوصی آئینی حیثیت کو بحال کیا جائے ۔لگ بھگ پانچ برس قبل بی جے پی نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ اس سے قبل ریاستی اسمبلی اور محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت کو تحلیل کر کے مقبوضہ علاقے کو لیفٹیننٹ گورنر کی عملداری میں دے دیا گیا تھا اس غیر قانونی اقدام کے بعد کشمیری عوام کے دلوں میں بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کا جذبہ مزید توانا ہو گیا۔ مودی سرکار کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی قرارداد اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پہ تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ایسے متنازعہ خطے میں کوئی فریق یکطرفہ طور پرعلاقائی حیثیت میں تبدیلی کا مجاز نہیں کشمیرکو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر بھارت مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ایا ہے۔
مسلم دشمن سیاست اور نفرت انگیز بیانئے کو پروان چڑھانے کے لیے مودی سرکار نے جموں کشمیر کو اپنا اولین ہدف بنا رکھا ہے آرٹیکل 370 کی منسوخی بھی اسی شیطانی منصوبے کا حصہ تھا۔ گورنر راج کے دوران بھارت نے اسرائیلی ماڈل پر عمل کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے اور غیر مقامی ہندوں کو مقبوضہ علاقے میں بسانے کی سازش پر عمل شروع کیا۔ اس کے علاوہ انتخابی حلقہ بندیوں میں اس طرح ناجائز تبدیلیاں کی گئیں کہ بی جے پی کے امیدواروں کی شکست کوفتح میں بدلاجاسکے ۔ ان جعل سازیوں کے بعد وجود میں آنے والی ہومیوپیتھک اسمبلی سے بی جے پی کو ایسی قرارداد کی توقع نہیں تھی کہ جس میں ارٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ سامنے آجائے ۔ توقعات کے برعکس یہ قرارداد پیش ہوچکی ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے اس سے قبل قومی انتخابات میں بھی بی جے پی مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر پائی تھی ۔کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق مودی سرکار اپنی جھینپ مٹانے کے لیے ریاستی جبر اور دہشت گردی کا ہتھیار استعمال کر سکتی ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ نوزائیدہ اسمبلی اور نیشنل کانفرنس کی حکومت کو بھی فارغ کردیاجائے ۔ پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ میں بھارت کے ناجائز اقدامات کو مسترد کیا ہے ۔اگرچہ مقبوضہ جموں کشمیر اسمبلی کی قرارداد ایک خوش آئند پیشرفت ہے تاہم پاکستان کو ارٹیکل 370 کی بحالی پہ توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی تسلط کو ہدف بنانا چاہیے۔ جموں کشمیر پر بھارت کا قبضہ ناجائز ہے۔ ایسی صورت میں بھارتی ریاست کا ہر اقدام ناجائز ہے ۔چنانچہ آبادی کے تناسب میں تبدیلی،غیر مقامی ہندوئوں کو جاری کردہ ڈومیسائل اور حالیہ انتخابات کے نتیجے میں جنم لینے والی اسمبلی بھی ناجائز ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہے اور اسی مطالبے کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے پیش کیا جانا چاہیے۔