جرمن زبان کے معروف فکشن رائیٹر فرانز کافکا نےویسے تو اپنی زندگی میں انتہائی اہم موضوعات پر تین ناول تحریر کئےتاہم اس کا سب سے پہلا ناول (The Tial)اس کی وفات کے بعد 1925 میں اشاعت پذیر ہوا، جو موضوع کے اعتبار سے ہمارے موجودہ حالات پر منطبق ہوتا ہے ۔اس کا یہ ناول اپنے اندر ایک پراسرار کہانی رکھتا ہے جو نوکرشاہی کے ظلم ستم اور بربریت کو ظاہر کرتا ہے،ایسی بربریت اور ستم ظریفی جس کے سامنے انسان بے بس و بے کس نظر آتاہے۔ناول کا مرکزی کردار ایک شخص جوزف کی زندگی کی کہانی سناتا ہے جو ایک بنک میں ملازمت کرتا ہے اور ایک دن کسی ظاہری جواز کے بغیر اسے حراست میں لے لیا جاتا ہے ،اسے کچھ معلوم نہیں کہ اسے کس جرم کی پاداش میں گرفتارکیاگیا ہے ،اس پر لگائے الزام کی نوعیت کیا ہے؟ اس کے اس کیس میں جوزف کی بے گناہی کو ثابت کرنے کیلئے وکلا عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں ،مگر اس کیس کی پیچیدگیاں وکلا کی سمجھ بوجھ اور فہم و ادراک سے ماورا ہوتی ہیں۔کوئی نہیں جان پاتا کہ ملزم پر عائد کی گئی فردجرم کیا ہے اور نوکر شاہی نظام اس سے کس مقصد کے لئے کیااگلوانا چاہتا ہے۔یوں ناصرف دھیرے دھیرے ملزم کے رگ و پے میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا چلا جاتا ہے بلکہ اس کی امید کے سب در بھی بند ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ناول کا اختتام اپنے جرم سے ناآشنا شخص کو موت کے دہانے جا کھڑا کرتا ہے اور ایک دن دو افراد اسے بے بسی کی حالت میں شہر سے دورلے جاکر قتل کر دیتے ہیں۔اس ناول میں نظام کی معاشرتی ناہمواری اور ناانصافی کو علامتی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ،جس میں اندھے اور انصاف سے بےبہرہ نظام کی بے حسی کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ نوکر شاہی کے کردار کی بہیمت پرفلسفیانہ انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے اور دورجدید کےانسان میں نظام زندگی پراختیاررکھنے والی قوتوں کےجبر کی نشاندہی کی گئی ہے۔کافکا نے یہ ناول بیسویں صدی کے پہلےیا دوسرے عشرےمیں لکھامگر اس میں مصنف کی دور اندیشی کا کمال یہ ہے کہ اس نے سوسال بعد رونما ہونےوالےحالات کی پیشین گوئی کی اور ہم آج بھی نوکرشاہی یا عدالتی نظام میں وہی خرابیاں پاتےہیں جن کا نوحہ کافکا نےایک صدی پہلےانسان کو یہ بتادیاتھا کہ آج ہی کے نہیں بلکہ مستقبل کی انسان کا بھی یہی مقدر ہے کہ وہ طاقتور قوتوں کے ظلم کاشکار رہے اور یہ سراغ بھی نہ پاسکے کہ اسے کس جرم کا سزاوار بنایا گیا ہے ، بس اس کاقصور یہ ہے کہ استبدادی قوتوں کے سامنے سر بہ سجود رہے ۔کافکا نے ذاتی زندگی میں بہت ساری مشکلات کاسامنا کیا ،وہ نظام ہائے زندگی سے مایوس بھی بہت ہوا اور ناامید بھی مگر اس نے انسانی درد و غم کو علامت و استعارے میں بیان کرنے کا نیا اور جدید پیرایہ اختیار کیا جو آج کے ادیب وشاعر کو بھی اپنی بات کرنے کاحوصلہ اور انداز بیان کااسلوب مہیاکرتا ہے ۔کافکا کا شمار بیسویں صدی کےمقبول ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔تنہائی ،بیگانگیت اور معاشرتی ناہمواریوں کو کافکا نے زبان و بیان کےجس نئے اورخوبصورت پیرائے میں بیان کیاوہ اسی پر بس ہے ۔تاہم بہت کم عمر (40) پانے کے باوجود اس نے بڑے ادب میں اونچا مقام حاصل کیا اور اپنے بعد کے اردوفکشن لکھنے والوں کو اپنا گرویدہ ہی نہیں بنایا بلکہ اسلوب نگارش کے سحر میں مبتلا تب انتظار حسین جیسے اردو کے نامور افسانہ نگار نے متاثر ہوکر افسانہ “مکھی” تحریر کیا۔