Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

دہشت گرد بی ایل اے

بلوچستان سے آنے والی خبریں بے حد تشویش ناک ہیں۔ محب وطن طبقات دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر پریشان ہیں۔ گزشتہ روز کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خود کش حملے سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوا کہ کالعدم بی ایل اے اور اس کی زیلی تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے معصوم اور سادہ لوح شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں۔ دھماکے کی ذمہ داری فوری طور پر کالعدم بی ایل اے کی ذیلی تنظیم مجید برگیڈ نے قبول کی ہے۔ اس سے پہلے بھی مجید برگیڈ کے دہشت گرد کراچی شہر میں چینی شہریوں پر حملے میں ملوث پائے گئے تھے۔ اگرچہ کالعدم بی ایل اے کی زیادہ تر مجرمانہ کاروائیاں بلوچستان میں محدود ہیں تاہم کچھ عرصے سے مجید برگیڈ کے دہشت گرد ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گرد حملے کر رہے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کر کر کے ان تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کو سند فراہم کی ہے جس کے تحت ان گروپوں کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ کالعدم بی ایل اے کے وسیع ہوتے دائرہ کار اور اسٹریٹیجک اہداف پر دہشت گرد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنظیم ایک وسیع تر تباہ کن ایجنڈے پر کاربند ہے۔
نام نہاد بلوچ حقوق کی علمبردار تنظیموں اور شعلہ بیان لیڈروں کی خاموشی بہت معنی خیز ہے ۔مقام حیرت ہے کہ جب بھی دہشت گرد گروہ سادہ لوح نہتے شہریوں کو نشانہ بنا بناتے ہیں تو بلوچ حقوق کے نام نہاد علمبردار دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سوال بے حد غور طلب ہے کہ آخر دہشت گردی کس طرح بلوچ عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے بلوچ عوام روزگار کے طلبگار ہیں ۔انہیں اپنے بچوں کے لیے سستی تعلیم کی سہولیات درکار ہیں ۔ بلوچستان میں صنعتی ترقی کے ذریعے خوشحالی اور امن کی بحالی ہی بلوچ عوام کے مسائل کا حل ہے۔ بدقسمتی سے بلوچ حقوق کے نام نہاد علمبردار اپنی تمام توانائیاں سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف الزام تراشی اور لعن طعن میں ضائع کرتے ہیں ۔ان کی منافقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی دہشت گرد گروہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں تو انسانی حقوق کے جعلی علمبرداروں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ لسانی تعصب کی بنیاد پر واویلا مچانے والے نام نہاد گروہ دراصل علیحدگی پسند کالعدم دہشت گرد گروہوں کے ہم خیال ہیں۔ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بہیمانہ واقعات دراصل انہی گروہوں کی متعصبانہ اور نفرت انگیز پروپیگنڈا مہم کا شاخسانہ ہیں۔ ان گروہوں کی بد نیتی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نہتے مزدوروں کا قتل ہوتا ہے تو یہ گروہ دہشت گردوں کے بجائے پاک فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ان لسانی گروہوں کی سوشل میڈیا پروپیگنڈا مہمات اس طرح ڈیزائن کی جاتی ہیں کہ عوام کی توجہ کالعدم دہشت گرد گروہوں کے جرائم سے ہٹ کر ریاستی اداروں کی جانب ہو جائے۔ انسانی حقوق کے پرفریب نعرے بلند کرنے والے نام نہاد پریشر گروپ درحقیقت کالعدم تنظیموں کے حق میں عوامی رائے ہموار کرتے ہیں اس منفی طرز عمل کا ایک مظاہرہ اس لانگ مارچ میں نظر ایا جس کی قیادت ایک منہ پھٹ لیڈی ڈاکٹر کر رہی تھی۔ بلوچ خواتین پر مشتمل لانگ مارچ نے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے۔
دھرنے کے دوران صبح و شام ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی رہی۔ ایسی ہی کاروائی چند ہفتوں قبل گوادر شہر میں بھی کی گئی۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس طرح کے دکھاوے کے احتجاج اور دھرنوں سے بلوچستان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ البتہ پر فریب نعرے لگانے والی چند شعلہ بیاں خواتین نے سوشل میڈیا اور مغربی دنیا میں اپنا پروفائل بہتر کر لیا۔ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بہتر قیادت اور سنجیدہ دلائل کا استعمال کیا جائے۔ یہ سنجیدہ ذمہ داری سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائی کرنے والے منہ پھٹ گروہ نہیں نبھا سکتے۔ رات کی تاریکی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں کا قتل کس طرح بلوچ عوام کے مسائل کا حل قرار دیا جا سکتا ہے ؟سی پیک اور اس کے ذیلی منصوبے بلوچستان کی ترقی کے ضامن ہیں۔ ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردی کا ہتھیار استعمال کرنے والے درحقیقت بلوچستان اور بلوچ عوام کے دشمن ہیں۔ بلوچ عوام ترقی چاہتے ہیں جبکہ دہشت گرد ترقیاتی منصوبوں کو برباد کر رہے ہیں۔ بلوچ نوجوان تعلیم کے طلبگار ہیں جبکہ دہشت گرد ان کے ہاتھ سے قلم اور کتاب چھین کر ہتھیار تھما رہے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے بیرونی سرمایہ کاری درکار ہے جبکہ دہشت گرد گروہ پے در پے حملے کر کے سرمایہ کاری کے امکانات برباد کر رہے ہیں۔ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بی ایل اے جیسے کالعدم گروہ پاکستان کی ترقی اور خطے میں چین کے پھیلتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے غیر ملکی آقاں کے اشارے پر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گرد حملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کالعدم بی ایل اے اور اس کی زیلی تنظیمیں بلوچ عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ ملک دشمن دہشت گرد گروہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں