تینوں آرمی سروسز چیفس کی مدت ملازمت کو بڑھا دیا گیا۔ 4نومبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والے بل کے تحت اب یہ مدت ملازمت تین سے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ترمیمی ایکٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں اب ججوں کی تعداد 17سے بڑھا کر 34کر دی جائے گی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز ہے۔چونکہ لاہور ہائی کورٹ،سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا ہائی کورٹس میں ججوں کی تعداد پہلے ہی مناسب اور ضرورت کے مطابق ہے۔اس لئے ان تینوں صوبوں میں ہائی کورٹس کو نہیں چھیڑا گیا۔اس قانون سازی پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی سخت نالاں ہے۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی دبے دبے الفاظ میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھا کر حکومت اپنی مرضی کے جج لانا چاہتی ہے تاکہ ان سے مرضی کے فیصلے لیئے جا سکیں۔
پی ٹی آئی آج کل پوری طرح زیر عتاب نظر آتی ہے۔عدالتوں سے عمران خان کی اگرچہ کئی مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے لیکن ضمانت ملنے کے باوجود فوجی عدالت کی تلوار اب بھی ان کے سر پر لٹکی ہوئی ہے۔9 مئی سنگین اور بڑا جرم ہے جسے قوم بھول سکتی ہے نا فوج۔9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی کے 122 ارکان اور لیڈر مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں جن میں بزرگ رہنما یاسمین راشد،محمود الرشید اور اعجاز چودھری بھی شامل ہیں۔ان تینوں رہنمائوں کی ضمانت کے تمام حربے ناکام ہو چکے ہیں۔تیاری ہو رہی ہے کہ 9مئی کے حوالے سے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالت میں چلیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے جیسے ہی درپیش آئینی رکاوٹ ہٹتی ہے۔پی ٹی آئی رہنمائوں کے کیس سماعت کے لئے فوجی عدالت میں بھیج دئیے جائیں گے۔ جہاں چٹ منگنی،پٹ بیاہ کے مصداق ان کیسز کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ذرائع ظاہر کر رہے ہیں کہ 9مئی کے کافی ٹھوس ثبوت استغاثہ کے پاس موجود ہیں۔پی ٹی آئی قیادت کو اس بات کا خدشہ ہے مقدمات فوجی عدالت میں چلنے کی صورت میں عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنمائوں کا سزائوں سے بچنا مشکل ہے۔کتنی سزا ہوتی ہے؟ یہ اب فوجی عدالت طے کرے گی۔ملک میں پی ٹی آئی نے سیاست کا جو کلچر متعارف کرایا ہے،ہرگز بھی قابل تقلید اور قابل رشک نہیں۔سیاست گفت و شنید کا نام ہے۔بات چیت کے دروازے سیاست میں بند نہیں کیئے جاتے۔ لیکن پی ٹی آئی نے گفتگو کے سب دروازے بند کر دئیے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پی ٹی آئی سیاست میں تنہا رہ گئی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے بیانات سے لگتا ہے جیسے پورا پاکستان فتح کر لیں گے۔کہتے ہیں بانی کی کال پر پورا پاکستان نکلے گا اور اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا جب تک بانی رہا نہیں ہو جاتے۔کوئی شک نہیں جائز مطالبات کے لئے پرامن احتجاج سب کا حق ہے۔ جمہوریت میں تو اس پر کوئی قدغن نہیں۔لیکن اس کی اجازت اور یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ احتجاج کے نام پر ریاست کو کمزور اور عوام میں بے یقینی پیدا کر کے ملک کے معاشی مسائل کو خراب کرنے کی کوشش کرے۔پی ٹی آئی کو انتخابی نتائج پر اعتراض ہے تو یہی اعتراض اسے 2014 ء میں بھی تھا لیکن 2018 ء کے انتخابی نتائج پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا۔کیا یہ دوغلا پن نہیں۔کیا اسے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش سمجھا جائے؟ یہ بھی سوال ہے کیا صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)اور صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریت نہیں ملی اور کیا اس اکثریت کی بنیاد پر دونوں صوبوں میں ان کی حکومتیں نہیں بنیں؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے اس میں ریاستی اداروں کا کیا کردار ہے؟ کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کسی ثبوت کے بغیر وہ اداروں کو بدنام کرے۔ پی ٹی آئی انتخابی نتائج پر اگرچہ بدگمانی کا اظہار کرتی ہے، لیکن کیا ان کے لوگ جیت کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود نہیں۔عجیب بات ہے جہاں سے جیت کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں،ان کی وہ جیت ٹھیک ہے لیکن جہاں سے ہارے ہیں وہاں دھاندلی ہوئی ہے۔محسوس ہوتا ہے ان کی یہ ساری کوششیں حصولِ اقتدار کے لیئے ہیں۔ملک،ریاست یا عوام کی بہتری کے لئے نہیں۔
آج سیاست میں عدم برداشت نے بہت سے مسائل پیدا کئے ہیں۔دوسروں کی جیت یا فتح جب کسی کو قبول نہ ہو تو اس قسم کے حالات پیدا کر دئیے جاتے ہیں۔آج ہم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں۔ری پبلکن پارٹی کے امریکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حریف صدارتی امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر پی ٹی آئی میں خوشی اور جشن کا سماں ہے۔پاکستان کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے،اس پر بات ہو رہی ہے اور اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔تاہم پی ٹی آئی صدر ٹرمپ سے امید لگائے بیٹھی ہے کہ ان کے آنے سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اب ممکن ہو سکے گی۔لیکن یہ محض گمان اور قیاس ہے،نہیں لگتا کہ صدر ٹرمپ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے پاکستانی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ پر کوئی دبائو ڈالیں گے،اس لئے سمجھتا ہوں پی ٹی آئی کو بانی کی رہائی کے لئے اپنی عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے سیاسی یا آئینی معاملات میں کوئی مداخلت کریں گے یا مداخلت کا ارادہ رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی کو یہ خیال بھی دل سے نکال دینا چاہئے کہ ان کی کال پر عوام کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئے گی اور ایک انقلاب برپا کر دے گی یوں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گی۔یاد رکھنا چاہئے ریاست کبھی کمزور نہیں ہوتی۔ٹکرانے کا بالآخر وہی انجام ہوتا ہے جس انجام سے آج پی ٹی آئی دوچار ہے۔یقینی طور پر 26ویں آئینی ترامیم کے بعد اب وہ حالات نہیں رہے۔پی ٹی آئی جس کی منتظر تھی، یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس بننے سے انہیں جو مایوسی ہوئی ہے اس کا اندازہ ہم کر سکتے ہیں۔