پائولو کوئیلھو برازیل کا معروف ادیب ہے جو 24اگست 1947 ء میں پیدا ہوا ۔اس کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ انجینئر بنے ،مگر پائولو کو لکھنے پڑھنے کا شوق تھا ،اسی لئے آغاز زندگی میں وہ صحافت کے شعبے سے منسلک ہوگیا یوں اس کی ایک اور تمنا بھی بر آئی کہ اسے تھیٹر میں کام کرنے کا موقع مل گیا۔اس کی پوری زندگی نشیب و فراز میں گزری ،یوں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کے نفسیاتی مسائل کی گمبھیرتا کی وجہ سے اسے ہسپتال کے شعبہ نفسیات میں چند دن گزارنے پڑے۔وہ ایک آزاد منش انسان کے طورپر زندگی بسر کرنا چاہتا تھا مگر اس کے والدین اسے عملی بنانے کے چکر میں تھے اور اپنے بیٹے کے مزاج کو سمجھ پا نے میں مطلق نا کام رہے۔
کوئیلھو کی پوری زندگی اپنی تلاش اور روح کے اسرارو رموز جاننے کی جستجومیں بیتی اور یہی اس کے لے ناولوں کا بنیادی موضوع رہا۔ ادبی دنیا میں اسے اپنے ایک ناول The Alchemistسے بین الاقوامی شہرت ملی ،جو لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوا،دنیا کی مختلف زبانوں میں اشاعت کے زیور سے آشنا ہوا۔اب تک دنیا میں فروخت ہونے والے ناولوں میں سب سے آگے ہے۔پائولو نے مختلف موضوعات پر پینتیس کے گرد کتابیں لکھیں جن میں ناولوں کی تعداد بائیس کے قریب ہے۔پائولو کے ناول اس کی حقیقی زندگی کا عکس ہیں جن میں اس کے روحانی تجربات اور نفسیاتی مسائل کے علاوہ اس کی ذہنی کیفیات کی جھلکیاں بھی جا بجا ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔
دراصلکوئیلھو کے والدین نے اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اپنے لگائے ہوئے اندازوں پر اس کو زندگی گزارنے پر مصر رہے جس کی وجہ سے اس کے اندر باغیانہ جذبات و احساسات جڑ پکڑتے چلے گئے۔
پائولو کا ایک ناول The Devil and Miss Prymجو سن دوہزار میں میں پہلی مرتبہ شائع ہوا اس میں اس کی روحانی کیفیات کا بھر پور اظہار ملتا ہے ۔اس میں اس نے خیرو شر اور نیکی و بدی کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کے غیر متوازن ہونے پر پیدا،ہونے والے سوالات کے جوابات تلاشنے کی سعی کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان حالات میں بیرونی عناصر انسان پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں ۔اس کے اخلاقی پہلوئوں کو اس نے انتہائی موثر طریقے سے بیان کیاہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ اس نے انسانی ضمیر کے حوالے سے بھی فکری گرہیں خوب کھولی ہیں۔
ناول کی کہانی کاآغاز ایک چھوٹے سے گائوں وسکوس سے ہوتا ہے جہاں ایک ایسا اجنبی فروکش ہوتا ہے جس کے پاس سونے کی دس انگوٹھیاں ہوتی ہیں اور وہ شخص گائوں کے باسیوں کو اس امر پر اکساتا ہے کہ وہ فلاں ایک آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دے تو وہ اسے یہ ساری انگوٹھیاں انعام کے طور پر دے دیگا۔اس کی اس پیشکش سے گائوں کے لوگوں کے اندر لالچ اور حرص پیدا ہوجاتا ہے اور ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ یہ کام میرے ہاتھوں انجام پذیر ہو اور میں اس قیمتی انعام کاحقدار ٹھہروں ۔ان کے ضمیر کھلبلی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔تاہم گائوں کی ایک نوجوان دوشیزہ جو روحانی طور پر بہت طاقتور ہوتی ہے وہ گائوں کے لوگوں کو یہ شیطانی فعل مسترد کرنے کی طرف مائل کرتی ہے ۔وہ گائوں کے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے کہ ایک انسان کی جان سونے کی انگوٹھیوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے ۔یہی دوشیزہ ہی ناول کا مرکزی کردار ہے جو انسان کے اجتماعی کردار کو نیکی اور بدی کے بیچ نیکی کو چن لینے پر مجبور کرتی ہے ۔
پائولو نے اس ناول میں انسانی فطرت کی اخلاقی گرہوں کو خوب صورت اور دلکش پیرائے میں پے در پے کھولا ہے اور اچھائی کے جذبوں کی اہمیت کو کمال فن سے اجاگر کیا ہے ۔پائو لوکوئیلھو انسانی فطرت کے تضادات کو تہہ در تہہ قارئین پر کھولتا ہے اور انہیں روح کی مسرت کو منتخب کرنے میں بہتری اور کامیابی کے خواب سے آشنا کرتا ہے اور اسی کو انسانی فطرت کا اصل تقاضہ ثابت کرتا ہے ۔
1947 ء میں پیدا ہونے والا ادیب آج بھی اپنے روحانی کیف میں مبتلا خوبصورت زندگی بسر کر رہا ہے۔وہ ایک زود نویس لکھاری ہے کہ پیرانہ سالی میں بھی اپنے قلم کی طاقت سے دنیا کو نیکی اور بدی کے درمیان فرق کی راہ سجھانا اپنی ذمہ داری گردانتا ہے اور وہ غزہ کے عوام پر روا ظلم کے خلاف قلمی جنگ کررہا ہے۔