آخر امریکہ کی تقدیر کا فیصلہ ہوہی گیا ، صدارت کا ہما ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر بیٹھ گیا اور اب اگلے چار سال امریکہ کے اقتدار پر ٹرمپ کی اجارہ داری ہوگی ۔جب قیام پاکستان کی جدوجہد پورے جوبن پر تھی ،مسلمان سروں پر کفن باندھے اپنی آزادی کے لئے نبرد آزما تھے اور برصغیر میں فرنگی کا سورج غروب ہونے جارہاتھا۔تحریک قیام پاکستان پورے عروج پر تھی 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ بڑی کامیابی حاصل کرچکی تھی اور برطانوی استعمارکی صفیں لپیٹی جانے کا سامان ہوچکا تھا ۔
اسی سال یعنی 1946 میں نیویارک میں ایک پراپرٹی کے بڑے کاروباری شخص فریڈ ٹرمپ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ۔کسے خبر تھی کہ وہ بڑا ہوکر امریکہ کا صدر بنے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے فورڈم یونیورسٹی سےتعلیم کی ابتدا کی اور پھر یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے بوارٹن سکول سے اکنامکس میں ڈگری حاصل کی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدٹرمپ نےاپنے والد کے کاروبار میں ہی گہری دلچسپی لی اورآخر کو اس نے بھی رئیل اسٹیٹ کے ایک کامیاب کاروباری کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا۔
1970 تا 1980 وہ سال تھے جس میں ٹرمپ نے نیویارک کی پراپرٹی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری کا پھریرا ایسا لہرایا کہ اس کی لازوال شہرت نے اسے امریکہ کے اقتدار تک پہنچا دیا ۔ سال 2024 میں اس نے دوسری بار امریکہ کی صدارت کا تمغہ اپنے سینے پر سجالیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنےگزشتہ صدارتی دورانیے میں پاکستان کےحوالےسےجارح پالیسی اپنائی اور سیکورٹی، انسداد دہشت گردی اور افغانستان میں استحکام کے حوالے سخت اقدامات پر زور دیا جبکہ 2018 میں پاکستان کو دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام قرار دے کر پاکستان پر یہ الزام عائد کردیا کہ اس نے دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف اقدام میں مکمل طور پر تعاون نہیں کیا اس لئے اس کی فوجی امداد معطل کی جاتی ہے ۔اس سخت پالیسی کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔پھر امریکہ نے افغان مذاکرات کے حوالے سے کی جانے والی پیش رفت کی بنیادپر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات میں آئی سردمہری مٹانے کا عندیہ دیا مگر خطے میں بڑھتے ہوئے چائنا کے کردار پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تشویش رہی جس کا ازالہ کسی طور نہ ہو سکا لہٰذا یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے پر اس پالیسی میں کوئی لچک پیدا کرپائے گا۔اس حوالے سے دوسری بار صدربننے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جو مجوزہ کابینہ منصہ شہود پر آنے کے واضح امکانات دکھائی دے رہے ہیں اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نئے دور اقتدار میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کس قسم کے تعلقات کی نوعیت رکھ پائے گا۔
مثلا JD Vance جو کہ ریپبلیکن سینیٹرہیں ان کو ٹرمپ کی طرف سے نائب صدر امریکہ منتخب کئےجانے کے آثارنمایاں ہیں اورنائب صدرمنتخب ہوجانے پرانہیں خارجہ پالیسی اور اقتصادی امور کا نگران بنایا جائیگا اور انہیں ٹرمپ کابینہ میں نمایاں حیثیت حاصل ہوگی۔اگر جے ڈی وینس امریکہ کے ممکنہ نائب صدر بن جاتے ہیں تو پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وہ ٹرمپ ہی کی پالیسی سے اتفاق کریں گے کیونکہ وہ بھی ٹرمپ ہی کی طرح امریکہ فرسٹ” پالیسی کے حامی ہیں جس کے مطابق یہ دونوں بظاہر عالمی سطح پرکم مداخلت کے حق میں ہیں ۔تاہم وینس کا زیادہ تر فوکس چین پر ہوگااور وہ ایشیا کی حد تک بھارت اور چائنا کے تنازعے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں۔
کشف پٹیل جو ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں نیشنل سیکورٹی کونسل کے مشیر اور محکمہ دفاع کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں انہیں اس مرتبہ بھی شاید نیشنل سیکورٹی کے ہی کسی اہم عہدے کے لئے چنا جائے گا۔یہ بھی ممکن ہےکہ انہیں سی آئی اے کےڈائریکٹر کا منصب تفویض کیاجائے۔اگر ایساہوا تو یہ مذکورہ ادارے میں سخت گیر پالیسیوں کا واضح اشارہ ہوگا۔دیگر عہدیداروں میں مارکو روبیو، رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر،اسٹیفن ملر،مائیک والٹز، ویوک راماسوامی،سوزی وائلز،ایلان مسک اورکئی دوسرے افراد کے بارے پیشین گوئیاں ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ میں مختلف خدمات سرانجام دینے پر مامور کیا جائیگا۔
تاہم ان میں بیشتر لوگ ایسے ہیں جن کا جھکائو انڈیا کی طرف ہے اور وہ چائنا کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو کسی صورت بہتر نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ بعض ایسے ہیں جو یہ چاہتے ہی نہیں کہ خطے میں چائنا کا عمل دخل بڑھے اور پاک چائنا تعلقات کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔جہاں تک بانی پی ٹی آئی کا معاملہ ہے امریکی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی حوالے سے سابق وزیراعظم پاکستان کے تعلقات کی نوعیت دوستی کی ہے تو اس کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ اس رشتے کے داخلی پالیسی پر کوئی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ چین کے حوالے سے اسٹریٹیجک مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کو پروان چڑھایا جائے گا۔اس لئے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور سیاسی اثرورسوخ کو کسی ذاتی ہمدردی کی بجائے پاک امریکہ کے وسیع تر تعلقات کے تناظر میں ناپا تولا جائے گا۔