Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مرد مریخ سے اور عورتیں زھرہ سے ہیں؟

ڈاکٹر جان گرے امریکہ کے معروف ماہر نفسیات، مصنف اورMotivational اسپیکر ہیں ۔ ان کا بنیادی موضوع انسانی تعلقات میں رسائی اور رواداری ہے ۔خصوصاً ازدواجی زندگی میں خوشیاں پیدا کرنا اور ماں باپ اور اولاد کے درمیان ہم آہنگی اور خوشگواریت کا فروغ ان کی دلچسپی کا اہم موضوع ہے ۔
انہوں نے اپنی ایک کتاب’’مرد مریخ سے اور عورتیں زھرہ سے‘‘ Men Are From Mars,Women Are From Venus سے عالمی شہرت پائی۔اس موضوع کے حوالے سے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر نئی سوچ متعارف کروائی۔
ڈاکٹر جان گرے 28دسمبر1951 ء میں امریکی ریاست ٹیکساس میں پیدا ہوئے۔ابتدائی عمر سے ہی نفسیات کے سبجیکٹ میں وہ گہری دلچسپی رکھتے تھے ،خصوصاً انسانوں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں میں نارسائی ان کی خصوصی توجہ کا مرکز تھی ۔گو انہوں نے علم نفسیات میں پی ایچ ڈی کیا ،مگر انسانی تعلقات کی روحانی کیفیات کے ادراک کے لئے انہوں نے ایک ہندو یوگی مہارشی مہیش سے مراقبے کے مدارج سے متعلق بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے مذہبی حوالے سے انسانی رشتوں کے درمیان حسن تعلق کی نوعیت کو سمجھا،خصوصاً عورت مرد کے درمیان پائے جانے والے جذباتی تعلقات کا عمیق مطالعہ کیا اور یہ نظریہ پیش کیا کہ عورت اور مرد کی بنیادی ضروریات، ان کے جذبات اور مسائل میں بہت تفاوت ہوتا ہے۔
جب تک عورت مرد کے تعلقات کے بیچ احترام نہ ہو ان کا آپس کا رشتہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب ’’مرد مریخ سے ہیں اور عورتیں زھرہ سے‘‘نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے اور دنیا کی 40 سے زیادہ زبانوں میں اس کاترجمہ کیا گیا۔جان گرے نے ہندو دیومالامیں پائے جانے والے عورت کی عزت ووقار کو فقط سمجھا ہی نہیں بلکہ انہیں اپنی تحقیق کا حصہ بنایا اور اس نقطہ تک پہنچے کہ عورت مرد کے ازدواجی تعلق میں فقط جذبات ہی کا عمل دخل نہیں نہیں ہوتا بلکہ اس سے زیادہ اس رشتے میں ایک دوسرے پر اعتماد کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔یہ باہمی اعتماد ہی ہوتا ہے جو محبت و الفت اور چاہت کی بنیاد بنتا ہے۔
جان گرے کے نظریات نے دنیا کے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کی قربتوں میں حیات افروزی کے نت نئے رنگ بھرے۔انہوں نے دنیا بھر میں سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے والدین اور میاں بیوی کے درمیان تعلق کی بہتر نوعیت کو بھر پورطریقے سے اجاگر کیا ۔صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے والدین کے اچھے رویوں کی وجہ سے اولاد میں پائی جانے والے عمدہ کردار اور اور بہترانسان بننے کے پہلوئوں کو بھی اجاگر کیا۔جان گرے کی اپنی ازدواجی زندگی آئیڈیل رہی اور اس نے اپنے عملی کردارو اوصاف سے دنیا پر یہ واضح کیا کہ کرہ ارض کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ مرد عورت ایک دوسرے کو سمجھیں تبھی وہ اچھی نسل پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔
جان گرے نے اپنی تحقیق سے دنیا پر یہ ثابت کیا کہ عورتوں اور مردوں کے رویوں میں ہی نہیں بلکہ ان کے جذبات میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ فرق اس وقت تک نہیں مٹ سکتا جب تک ان کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے اور آپس میں تعلق کو مضبوط بنانے کااحساس شعوری سطح پر نہ ہو۔
انہوں نے اپنی ایک اور کتاب “Children Are From Heaven”میں بچوں کی پرورش اور تربیت کے حوالے سے والدین کو نادر اور اہم معلومات مہیا کی ہیں ۔اس میں انہوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ بچوں کی تربیت اور ان کی شخصیت کے نکھار کے لئے خیال رکھنا چاہئے کہ ہر بچہ اپنی ذات میں منفرد ہوتا ہے اس لئے اس کی انفرادیت کو خصوصی طور پر توجہ کا مرکز و محور بنایا جانا چاہیئے۔اسے اپنی توقعات کا مطیع بنانے کی بجائے اس کی خواہشات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیئے اس طرح اس کی فطری صلاحیتیں زیادہ اجاگر ہوتی ہیں۔ اسے دوسرے بچوں کے سامنے سرزنش کرنے کی بجائے الگ سے سمجھاناچاہیئے۔نیکی اور بھلائی کے احساس سے جوڑنے کے لئے اس کے روبرو ایسے رویئے اور کام کرنے چاہئیں جن سے نیکی اور بھلائی کا تصور ابھرتا ہو ۔اسے معاشرے کا آئیڈیل فرد بنانے کے لئے ماں باپ کو آئیڈیل زندگی گزارنے کی راہ پر چلنا چاہیئے۔ان کا آپس کا رویہ ہی بچوں کے لئے آئیڈیل تراشنے کا نمونہ بنے ، خاص طور پر بچوں کی پرورش و پرداخت اور تربیت اپنی مشترکہ ذمہ داری تصور کی جانی چاہیئے ۔تبھی بچے اچھے انسان بننے کے قابل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں