ایک معروف ٹی وی چینل پر مشہور ترقی پسند، آزاد خیال صحافی، اپنی طلسماتی چڑیا کی پشین گوئیاں بتا رہے تھے اسی دوران انہوں نے چند مختلف کتب کے سرورق اسکرین پر دکھاتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ’’ بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں انتہائی خوفناک کتب کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔جن کے مطالعے کی وہ اپنے پڑھے لکھے نوجوان کارکنوں کو بھی ترغیب دیتے ہیں ،اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی جماعت کے کارکن سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں جس کے دوران تخریبی کارروائیاں اور توڑ پھوڑ بھی کرتے ہیں ۔‘‘
موصوف ایک کتاب From Ditatorship to Democracy کا ذکر بار بارکررہے تھے ۔اول تو ان کے اس ذکر سے مجھے مجیب شامی بہت یاد آئے انہوں نے ایک بار فرمایا تھا کہ ’’میاں نواز شریف کے ڈرائنگ روم میں کتاب کی صورت سوائے ٹیلی فون ڈکشنری کے مجھے اور کوئی کتاب دکھائی نہیں دی جو ان کے زیر مطالعہ ہو‘‘ اس سے ملتی جلتی بات اوریانا فلیشی نے بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کے ڈرائنگ روم سے متعلق بھی کی تھی۔
بہرحال جس خوفناک موضوع کے حوالے سے چڑی باز صحافی نے اندیشوں اور وسوسوں کا اظہار کیا Gene Sharp کی کتاب میں ایسی کوئی تشویشناک بات نہیں ہے کہ جو سیاسی کارکنوں کو دہشت گردی یا پر تشدد احتجاج کی ترغیب دے ۔اس کتاب میں مصنف نے آمریت کے عمل کو جمہوری کلچر میں تبدیل کرنے کے بارے بتایا گیا ہے اور اس سیاسی عمل کے دوران تشدد پسندانہ رویوں سے مطلقًاجتناب پر زور دیا گیا ہے ۔
’’فرام ڈکٹیٹر شپ ٹو ڈیموکریسی‘‘ میں جمہوری سیاسی جدوجہد کے طریقے بتائے گئے ہیں اور ان طریقوں پرعمل پیرا ہونے کے لئے اور اپنی جدوجہد کا حقیقی ثمر حاصل کرنے کے لئے تشدد سے گریز پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جین شارپ نے اس کتاب میں سیاسی جدوجہد کے عملی پہلوئوں پر زیادہ انحصار کرنے کا کہا ہے اور سول نافرمانی،ہڑتال، آمرانہ رویوں کے خلاف مزاحمت اور سیاسی بائیکاٹ کو ترجیح دینے کے سوا کسی بھی موقع پر متشددانہ افعال سے روکا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے سیاسی رہنمائوں اور کا رکنوں کو جمہوری عمل کے حسن کو چیلنج نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
مصنف نے آمریت کی قباحتوں کو مقدور بھر اجاگر کیا ہے مگر اس کے خلاف مزاحمت میں کہیں نفرت آمیزی کے دخل کو روا رکھنے کی طرف کسی طور مائل نہیں کیا ۔
مذکورہ کتاب کو آمروں سے جمہوریت کے واگزار کرانے کا ایک عمدہ منشور قرار دیا جاسکتا ہے ۔حقیقت حال بھی یہی ہے کہ سیاسی ماہرین نے اس کتاب میں شامل معروضات کو پذیرائی کی نظر سے دیکھا ہے اور کہیں بھی مرکزی تھیوری سے کوئی بڑا اختلاف نہیں کیا۔ اسکرین پر دکھائی گئی دیگر کتب کے بارے کسی اور اظہاریئے میں تفصیلی ذکر کیاجائے گا۔
سردست قیدی نمبر804 کی مذکورہ کتاب کے ٹیکسٹ کے حوالے سے چند امورکا ذکر ضروری ہے کہ اس میں شک نہیں وہ دنیا کے بارے ادب اور اہم ماہرین سیاست سے اپنی سیاست کی روح کو ترو تازہ رکھتے ہیں اور From Ditatorship to Democracy بھی ایک ایسی ہی عالمگیر سیاسی حکمت عملی کی بنیاد بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے سیاسی کارکن اور قومی سیاسی رہنما اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں ۔اب جہاں تک پی ٹی آئی کے کا رکنوں کا تعلق ہے کبھی کبھی وہ خود یا ان کے سیاسی مظاہروں میں شامل ہو جانے والے شرپسند عناصر جدوجہد کا رخ بدل دیتے ہیں ،اس امر پر دھیان دینا ضروری ہے اور یہ فقط پی ٹی آئی کے کارکنوں ہی کے لئے نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت کے کارکنوں کو آمریت کے خلاف مزاحمت میں ملی مفادات سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے یہاں سیاسی جماعتیں سیاسی کارکنوں کے کندھوں پر بیٹھ کر حکومت کے ایوانوں میں تو پہنچ جاتی ہیں مگر انہوں نے کارکنوں کی تربیت کے لئے اسٹڈی سرکل بنانے کی زحمت کبھی گوارہ نہیں کی ۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں کچھ عرصہ کے لئے ضلعی سطح پر سٹڈی سرکل بنائے گئے مگر جونہی وہ امور مملکت میں مصروف ہوئیں ایسے تمام کام بھلا دیئے گئے بلکہ پارٹی کار کنوں کی وہ عزت اور وقار جو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بنایاتھا اسے طاق نسیاں پر رکھ دیا گیا۔