اس وقت پی ٹی آئی کے بانی اور رہنما عمران خان پابندی سلاسل ہیں اور یہ نہیں کہاجاسکتا ہے کہ انہیں کب رہائی ملے گی۔ حکومت ان سے مذاکرات کرنے کے سلسلے میں زیادہ سنجیدہ نظرنہیں آرہی ہے حالانکہ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی حکومت وقت سے مذاکرات کرنے کے لئے آمادہ نظرآتی ہے۔ تاکہ ملک میں سیاسی انتشار سے بچاجاسکے۔ تاہم پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ اگر 24نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکن ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے توعمران خان کو جیل سے رہا کرانے کی تحریک زور پکڑے گی ایسی صورت میں حکومت کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ پی ٹی آئی کے نمائندوں سے بامقصد مذاکرات کرکے سیاسی بخار کو کم کیاجاسکے۔ویسے بھی موجودہ حکومت جس طرح اقتدار میں آئی ہے‘ عوا م کا اس پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت وقت کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔تاہم اس کے باوجود حکومت اگر اپنے منشور کے مطابق پاکستان کے عوام کی خدمت کرناچاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ پی ٹی آئی سے ملک کے حالات کے پس منظر میں بات چیت کرے تاکہ عوام کو یہ امید پیدا ہوسکے کہ سیاسی سکون کی صورت میں ان کے لئے رزق روزگار کے مسائل حل ہوسکیں۔ اس وقت پاکستان میںعمومی طور پر معاشی حالات بہتر نہیں ہیں۔ نئے کارخانے نہیں لگ رہے ہیں اور نہ ہی برآمدات میں اضافہ ہورہاہے‘ بیرونی ممالک سے ترسیلات کے ذریعے اکانومی اپنے پائوں پرکھڑی ہے‘ لیکن ملک کے معاشی حالات کو مزید بہترکرنے کے سلسلے میں باثمر اقتصادی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے‘ محض وزارت خزانہ کی جانب سے یہ کہہ دینا کہ معیشت ترقی کررہی ہے ۔دراصل حقیقت سے گریز کرنے کے مترادف ہے۔
معیشت کی ترقی کو جانچنے کا آسان فارمولا یہ ہے کہ پڑھے لکھے اور ناخواندہ لوگوں کو روزگار مل رہاہے یانہیں۔ اس وقت پاکستان میں پڑھے لکھے اور ناخواندہ حضرات کیلئے روزگار کے مواقع کم ہیں‘ نیز حکومت وقت نے ابھی تک کوئی ایسی معاشی پالیسی کا اعلان نہیں کیاہے جس سے یہ اندازہ لگایاجاسکے کہ معیشت کس رخ پہ جارہی ہے۔عوام کو اس سے کتنا فائدہ مل رہاہے‘ محض زرعی شعبے کی ترقی پر انحصار کرناعقل مندی نہیں ہے‘ کیونکہ زرعی شعبہ ایک خاص حد تک بے روزگاری کو ختم کرسکتاہے‘ لیکن بے روزگاری کاخاتمہ اور عوام کے معاشی حالات میں بہتری صنعتی شعبے کی ترقی سے وابستہ وپیسوستہ ہے۔ جن ممالک نے حال ہی میں ترقی کی ہے اس کی کلیدی وجہ صنعت سازی ہے ۔ پاکستان کے پالیسی ساز ابھی تک زرعی شعبے کی ترقی پر اٹکے ہوئے ہیں۔ حالانکہ صنعتی ترقی ہی اصل میں ترقی کا دوسرا نام ہے۔ ملک مضبوط ہوتاہے اور اس کے ذریعے روزگار پیدا ہوتاہے اور عوام میں خوشحالی بھی آتی ہے۔ اس وقت پاسکتان میں حقیقی ترقی کی رفتارنامناسب ہے‘ چنانچہ حکومت کو چاہے کہ وہ ایسی پالیسی کااعلان کرے جس کی روشنی میں اہل ثروت سرمایہ لگاکر اپنے لئے اور اپنے ہم وطنوں کیلئے نئے روزگارکے ذرائع پیداکرسکیں۔ صنعتوں کا قیام اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی کھپت صرف صنعتوں کے قیام کی صورت میں ہی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ چین اور دیگر ممالک میں ایسا ہوا ہے ۔
دوسری طرف پاکستان میں ابھی تک جاگیرداری نظام اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے‘ ہرچند کہ جاگیرداری کوئی بری شہ نہیں ہے لیکن موجودہ دور میں ترقی کا انحصار صنعتوں کے قیام سے وابستہ ہے۔ کیونکہ صنعتوں کے قیام کی صورت میں عوام کو روزگار ملتاہے۔ ان کا معیار زندگی بھی بدلتاہے اور نئی سوچ بھی جنم لیتی ہے جو بعد میں ترقی کے امکانات پیدا کرنے میں معاون ومددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس صدی میں جن ترقی پذیرممالک نے اقتصادی ترقی کی ہے‘ انہوں نے صنعت سازی ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایاتھا۔ پاکستان اس لحاظ سے ابھی تک صنعت سازی کے ضمن میں وہ مراحل طے نہیں کرسکا ہے کہ یہ کہاجاسکے کہ پاکستان ایک ابھرتا ہوا صنعتی ملک ہے۔ پاکستان کا زیادہ تر انحصار زرعی شعبے سے وابستہ ہے‘ جبکہ جدیدصنعتوں کا قیام سست رفتاری کا شکار ہے۔ تاہم اگر پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے سماجی سوہلتیں مہیا کرنی ہے تو اس ضمن میں صنعت سازی کا فروغ انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ چین کی ترقی کاراز بھی صنعت سازی سے وابستہ تھا اورہے۔ حالانکہ چین اس سے قبل زراعت پراپنی ترقی کا انحصار کئے ہوئے تھا۔
جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ پاکستان ایک ابھرتا ہوا صنعتی ملک ہے لیکن ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ چین کی ہمہ گیر اقتصادی ترقی سے سبق حاصل کریں اور پاکستان کے اہل ثروت حضرات کوسر مایہ کاری کرنے کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کریں۔ کیونکہ صنعتوں کے قیام سے جہاں بے روزگاری بتدریج کم ہوسکتی ہے‘ وہیں ایک نئی سوچ بھی جنم لیتی ہے جو بعد میں ترقی کے لئے امکانات پیداکرنے کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت چھوٹی بڑی صنعتوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس میں تیزی لانے کی بھی ضرورت ہے نیز سرمایہ کاروں کو بھی آمادہ کیاجائے کہ خود ان کی معاشی ترقی کا راز بھی نئے کارخانے لگانے سے وابستہ ہے۔ خدا کاشکر ہے پاکستان کے اہل ثروت حضرات میں یہ سوچ پیدا ہورہی ہے ‘ وہ ایک اپنا سرمایہ جدید صنعتوں کے قیام میں لگارہے ہیں تاکہ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ایک خوشحال اور خوشگوار زندگی بسر کرسکیں۔ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کاحل صنعت سازی سے وابستہ ہے۔ جن ترقی پذیر ملکوں نے اس حکمت عملی کو اپنایاہے‘ وہاں بے روزگاری کم ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہوا ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو جدید صنعتوں کے قیام کے سلسلے میں پاسکتان کے اہل ثروت کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ تسلسل کے ساتھ ترقی کی راہ پرگامزن ہوسکے نیز بے روزگاری کو بھی اس حکمت عملی کے ذریعے کم کیاجاسکے۔ ذرا سوچیئے!