Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

امیت شاہ اور بھارت کے اجرتی قاتل

کینیڈا کی سرزمین پر ہردیپ سنگھ نجر کا خون ناحق بھارت کے گلے میں پھنسی ہڈی بن چکا ہے۔ اسی طرز کی واردات گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف کامیاب نہ ہو سکی اور بھارتی را کا ایجنٹ نکھل گپتا چیک ریپبلک میں گرفتار ہو کر اب امریکہ کی تحویل میں پہنچ چکا ہے۔یہ سنسنی خیز خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ بی جے پی کے رہنما اور مودی حکومت میں وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی کینیڈین حکومت نے سکھوں کے قتل کے جرم میں نامزد کیا ہے ۔ مودی سرکار کا یہ نیا ِاعزاز عالمی سطح پر سرحد پار دہشت گردی اور اجرتی قاتلوں کی سرپرستی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔علیحدگی پسند سکھوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کینیڈاپہلے بھی بھارت کو خبردار کرچکا تھا۔ کینیڈا کی پولیس کو سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد مل گئے تھے۔ کینیڈا کی حکومت نے پولیس کی جانب سے تشویش ناک رپورٹس موصول ہونے کے بعد بھارت کے خلاف انتہائی قدم اٹھایا ۔ بھارت میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب کینیڈاکے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی وقت کے مطابق رات دیر گئے وزیر خارجہ اور عوامی سلامتی کے وزیر کے ہمراہ اوٹاوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے لیکن بھارت اس سلسلے میں تعاون نہیں کر رہا۔رپورٹس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ کینیڈا نے بھارتی ہائی کمشنر سنجے کمار ورما سمیت 6 سفارتی اہلکاروں کو ملک بدر کر دیا۔ کینیڈا سے چھ انڈین سفارتکاروں کو بے دخل کرنے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد اوٹاوا میں نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں پولیس سربراہ مائک ڈیوہیم نے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت کے ایجنٹ کینیڈامیں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ جس سے مقامی معاشرے اور شہریوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ملک کی مختلف سیکورٹی فورسز کی مشترکہ تفتیش کے بعد کینڈین پولیس کے سربراہ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ پولیس کو حاصل ہونے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی حکومت کے ایجنٹ کینیڈامیں قتل اور پرتشدد وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں بھارتی قتل کی سازش سے بال بال بچے تھے۔
ادھر کینیڈا کی حکومت نے گزشتہ ہفتہ نئے شواہد سے متعلق بھارت کو آگاہ کردیا ہے۔ پولیس کی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ کینیڈامیں تعینات بھارتی سفارتکار اور قونصل خانوں کے اہلکار اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر خفیہ سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ کینیڈاکی جانب سے سکھ رہنما قتل کیس میں بھارتی ہائی کمشنر سمیت دیگر سفارت کاروں کو شامل تفتیش کرنے پر مودی سرکار تلملا اٹھی اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق کینڈین سفارت کاروں کو ہی ملک بدر کردیا۔ کینیڈانے بھارتی ہائی کمشنر سمیت 6 اعلیٰ سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا تاہم بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان سفارت کاروں کو سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت واپس بلا لیا۔ بعد ازاں مودی سرکار نے نہ صرف کینڈین ناظم الامور کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا بلکہ کینیڈاکے قائم مقام ہائی کمشنر سمیت 6 اعلیٰ سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم بھی دیا۔
45 سالہ خالصتانی رہنما ہردیب سنگھ نجر کو گزشتہ سال جون میں مسلح افراد نے کینیڈاکے علاقے کولمبیا میں قتل کر دیا تھا۔کینیڈانے اس قتل کا الزام بھارتی خفیہ ایجنسی را پر عائد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تفتیش سے معلوم ہوا کہ اس واردات میں بھارتی سفارت کار بھی ملوث تھے۔ جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں اور متعدد بار ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرچکے ہیں۔ کینیڈامیں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں بھارتی عہدیداران کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایک نیا سفارتی تنازع جنم لے رہا ہے جس کے دوران پہلے کینیڈاکی حکومت نے بھارت کے ہائی کمشنر سمیت پانچ دیگر سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور بعد میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت نے بھی کینیڈاکے چھ سفارت کاروں کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایت کی۔ کینیڈاکے علاقے برٹش کولمبیا میں 18جون کو خالصتانی رہنما 45 سالہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ممکنہ ملوث ہونے کے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے دھماکہ خیز الزامات کے بعد بھارت اور کینیڈاکے درمیان کشیدگی پیداہو گئی تھی۔ جبکہ چند روز قبل ہی کینیڈاکے شہر ونی پگ میں ایک اور سکھ علیحدگی پسند رہنما سکھدول سنگھ عرف سکھا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ کینڈین وزیراعظم نے کہا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل میں ممکنہ طور پر بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق 1.4 سے 1.8 ملین کے قریب بھارتی نژاد کینڈین شہری ہیں۔ بھارت میں پنجاب سے باہر سکھوں کی سب سے زیادہ آبادی کینیڈا میں ہی ہے۔ بھارت میں سکھوں کی آبادی دو فیصد ہے اور کچھ سکھ علیحدگی پسند سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ملک خالصتان بنانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔کچھ شہریوں اور کاروبار کرنے والوں کو بھارتی حکومت کے لیے کام کرنے کے لیے دھمکایا اور مجبور کیا جاتا تھا اور بھارت کی حکومت ان افراد سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر جنوبی ایشیائی نژاد شہریوں کو ٹارگٹ کرتی تھی۔کینیڈا میں سنگین نوعیت کے مجرمانہ کیسوں میں مبینہ طور پربھارتی حکومت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے کئی معاملات کی تفتیش چل رہی ہے۔ کینیڈین حکام یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ خالصتان کے حامیوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے جرائم پیشہ گینگ کا استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس حوالے سے خاص طور پر بشنوئی گینگ کا نام سامنے آیا ہے ۔
یاد رہے کہ لارنس بشنوئی بھارت کا ایک گینگسٹر ہے جو گجرات کی ایک جیل میں قید ہے۔ لارنس بشنوئی پر پنجابی گلوکار سدھو موسے والا سمیت درجنوں افراد کے قتل کا الزام ہے اور حال ہی میں ممبئی کی سیاسی شخصیت بابا صدیقی کے قتل میں بھی بشنوئی پر ہی شک کیا جا رہا ہے۔حال ہی میں کینڈین اہلکاروں نے پولیس کی تفتیش سے حاصل ہونے والے شواہد بھارت کو فراہم کر دیے تھے جن کے مطابق بھارت کے چھ سفارتکار مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت تھے۔ تاہم بھارتی حکومت عدم تعاون کی پالیسی پر کاربند ہے۔ کینیڈاسے بے دخلی کی اطلاع پر بھارت نے ہائی کمشنر اور سفارتی عملے کو واپس بلوالیا۔ سفارتی عملے اور را کے حاضر سروس اہلکاروں کے بعد اب وزیر داخلہ امیت شاہ کی اجرتی قاتلوں کی سرپرستی کا انکشاف بھارت کے مجرمانہ ریاستی کردار کو عالمی سطح پر بے نقاب کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں