ٹرمپ ابھی وائٹ ہائوس پہنچے بھی نہیں ہیں کہ ان کے انتخابی وعدہ(دنیابھرمیںجنگ بند کرانے)کی تکمیل کیلئے مشکلات نے سراٹھانا شروع کردیاہے۔ جوبائیڈن نے بالآخر یوکرین کو روس میں طویل فاصلے تک مارکرنے والے امریکی ساختہ میزائل فائرکرنے کی اجازت دے دی ہے۔پیوٹن نے یوکرین کواے ٹی اے سی ایم ایس میزائل کوروس کے اندر استعمال کرنے کی اجازت دینے پرجوبائیڈن کو’’مناسب اور ٹھوس‘‘ ردعمل کی تنبیہ اور فوری طور پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے روس کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے اصول میں تبدیلیوں کی منظوری دیتے ہوئے نئے قواعداورشرائط کااعلان کردیاہے،جن کے تحت اب روس اپنے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کافیصلہ کرے گا۔
روس کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے اصول میں ترمیم ستمبرمیں تجویزکی گئی تھی اور منگل کویوکرین کے ساتھ جنگ کے ایک ہزارویں دن پراس پرمہرثبت کی گئی ہے۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق روسی سرزمین کے اندراس طرح کا حملہ ’’امریکااور اس کی حواری ریاستوں کی روس کے خلاف براہ راست جنگ میں شمولیت تصورکی جائے گی۔دمتری پیسکوف نے کہاکہ نیاجوہری ڈاکٹرائن’’بروقت‘‘شائع کی گئی ہے اورپیوٹن نے اس سال کے اوائل میں اس کو اپ ڈیٹ کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ اس کو موجودہ حالات سے ہم آہنگ بنایاجائے۔
روسی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیاہے کہ اگرامریکاکی جانب سے فراہم کردہ میزائل روس پر داغے جاتے ہیں توماسکواس حملے کویوکرین کی جانب سے حملہ نہیں بلکہ اسے امریکی حملہ تصورکرے گا۔ کریملن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہاگیاہے کہ’’روس اورپیوٹن نے اپنے مؤقف کوبہت واضح کردیاہے اور امریکاکایہ فیصلہ اس تنازعے میں واشنگٹن کی شمولیت کی ایک نئی سطح کی نشاندہی کرتاہے۔یہ’’واضح‘‘ہے کہ سبکدوش ہونے والی بائیڈن انتظامیہ’’جلتی پرتیل کا کام‘‘کررہی ہے اور اس تنازعے میں پہلے سے موجودکشیدگی کومزیدبڑھانے کیلئے اقدامات کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔
امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیرجون فائنر نے کریملن کے اس بیان پرردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں امریکاپریوکرین روس جنگ میں جلتی پرتیل چھڑکنے کاالزام لگایاگیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکاشمالی کوریا کی افواج کی اس جنگ میں شمولیت کی روسی حکمتِ عملی پرنظررکھے ہوئے ہے اور امریکاکی جانب سے روس پریہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ہم اس کا جواب دیں گے۔بائیڈن اس حوالے سے سنجیدہ ہیں کہ جتنابھی ممکن ہوسکے وہ اپنی بقیہ مدت میں یوکرین کی مددکرسکیں۔اس کاایک مقصدیوکرین کوعسکری طورپرمضبوط بناکر کسی بھی ممکنہ امن مذاکرات میں اس کی پوزیشن بہتربنانا ہے‘‘۔’’خطے میں یہ آگ روس کے یوکرین پرحملے کی وجہ سے لگی تھی اوربنیادی مسئلہ اس کاتسلسل،شمالی کوریا کی افواج کی میدانِ جنگ میں موجودگی اورملک بھرمیں فضائی حملوں میں آنے والی ’’شدت‘‘ہے۔اس لیے میں روس سے یہ سوال پوچھناچاہوں گاکہ یہاں آگ پرکون تیل ڈال رہاہے اورمجھے نہیں لگتاکہ یہ یوکرین کے لوگ ہیں‘‘۔واضح رہے کہ یوکرین کئی ماہ سے روسی حدود میں حملے کیلئے امریکاکی جانب سے فراہم کیے جانے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت طلب کررہاتھا۔
آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (اے ٹی اے سی ایم ایس) بنیادی طورپرزمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہیں،جو300 کلومیٹرکی دوری تک ہدف کونشانہ بناسکتے ہیں ۔ ان میزائلوں کی یہی رینج انہیں یوکرین کیلئے اہم بنادیتی ہے۔آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کو یا تو ایم 270 ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم یعنی ایک جگہ پر نصب سسٹم((یم ایل آرایس ) یاپھرایک جگہ سے دوسری جگہ پرآسانی سے منتقل ہو جانے والے ایم 142ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم(ایچ آئی ایم اے آرایس)سے فائرکیاجاتاہے۔یہ میزائل ٹھوس راکٹ پروپیلنٹ سے ایندھن بھرتے ہیں اور خاصے تیزرفتارہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں روکناانتہائی مشکل ہوجاتاہے۔نیویگیشن کو لانچ سے پہلے پروگرام کیاجاتاہے اورانرشیل اور سیٹلائٹ گائیڈنس کااستعمال کرتے ہوئے انہیں ہدف کی جانب داغاجاتاہے،اوریہ اپنے ہدف کو تقریباً 10کلومیٹرتک درست اندازمیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتاہے۔ میزائلوں کودومختلف اقسام کے وارہیڈمیں میں تقسیم کیاجاتاہے جن میں سے ایک کی مدد سے بڑی تعدادمیں میزائل داغے جاتے ہیں اوراس کی مددسے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کوغیرمؤثرکیاجاسکتاہے۔دوسری قسم یونٹری وار ہیڈہے،جو225کلوگرام کاایک بڑادھماکہ خیزورژن ہے جوکسی بڑے مقام یا تنصیبات کوتباہ کرنے کیلئے ڈیزائن کیاگیاہے۔یہ میزائل پہلی بار1991میں خلیج جنگ میں استعمال کیے گئے تھے۔امریکاابھی اس میزائل کومزیدبہترکرنے کیلئے 500کلومیٹرتک اس کی رینج بڑھانا چاہتاہے ۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یوکرین کویہ میزائل ملیں گے یانہیں۔امریکی اجازت ملنے کے بعداب یوکرین ان میزائلوں کوروس کے خلاف استعمال کرسکے گا۔شاید پہلے مرحلے میں وہ کرسک میں ان میزائلوں کااستعمال کرے،جہاں یوکرینی افواج ایک ہزارمربع کلومیٹرخطے پرمورچہ زن ہے۔ یوکرین اورامریکاکوروس اورشمالی کوریا کی طرف سے کرسک کے علاقے میں حملوں کاخدشہ ہے۔ یوکرین ایسی صورت میں ان میزائلوں کااستعمال کرسکتاہے اوروہ اس دوران روس کے فوجی اڈوں، انفراسٹرکچراوراسلحے کے ڈپوکو ہدف بناسکتا ہے ۔
ان میزائلوں کے مقابلے میں روس نے بھی دفاعی انتظامات کررکھے ہیں اورکسی بھی ایسے ممکنہ حملے کوروکنے کیلئے اس نے پہلے ہی فوجی تنصیبات جیسے لڑاکاجہازبھی ملک کے اندرمنتقل کر دئیے ہیں۔تاہم مزیدامدادبھیجنے کیلئے روس کو مشکلات کاسامنا کرناپڑسکتاہے کیونکہ ایسی امداد بھیجنے میں وقت لگتاہے۔ایک مغربی ملک کے سفارتکار کے مطابق ’’مجھے نہیں لگتاکہ یہ بہت فیصلہ کن ہوگا۔ان کے مطابق یہ یوکرین کو دی جانے والی ایک علامتی مددکے طورپرہی دیکھاجانا چاہیے۔اوریہ سب روس کے جنگی اخراجات میں اضافے کاباعث بن سکتا ہے۔
زمینی حقائق اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ روس اب کسی بھی دن روسی کرسک کے علاقے سے یوکرین کی افواج کوبے دخل کرنے کیلئے ایک بڑاحملہ کرسکتا ہے۔یوکرین امریکی فراہم کردہ میزائل کو حملے کے خلاف دفاع کیلئے استعمال کرسکتا ہے، جس میں فوجی اڈوں،بنیادی ڈھانچے اورگولہ بارود ذخیرہ کرنے والے مراکزسمیت روسی اہم ٹھکانوں کونشانہ بناسکتا ہے۔یہ ہتھیاریوکرین کو ایک ایسے وقت میں کچھ فائدہ دے سکتے ہیں جب روسی افواج ملک کے مشرقی حصے میں قدم جمارہی ہیں۔
یوکرین کے صدرولادیمیرزیلینسکی امریکا کی جانب سے دورتک مارکرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندی ہٹانے کے بارے میں کئی ماہ سے کوششیں کررہے تھے تاکہ یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کاموقع مل سکے جبکہ پیوٹن کی جانب سے ماضی میں مغربی ممالک کواس حوالے سے پابندی ہٹانے کے بارے میں خبردار کیا جاتا رہاہے کہ روس اسے نیٹوکی اس جنگ میں براہِ راست مداخلت کے طورپردیکھے گا۔اس کامطلب یہ ہوگاکہ نیٹوممالک اورامریکاروس کے خلاف لڑرہے ہیں۔یہ لانگ رینج میزائل دراصل امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن بناتی ہے۔
ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ300کلومیٹرتک مارکرسکتے ہیں اورانہیں ان کی رفتارکی وجہ سے تباہ کرناخاصا مشکل ہوتا ہے۔امریکاکی جانب سے یہ ہتھیاریوکرین کو سپورٹ پیکج کے طورپردیئے جاتے رہے ہیں اوریہ پہلے یوکرین نے کریمیا میں استعمال کیے ہیں۔ یوکرین کرسک کے علاقے میں ایک دہائی سے زائدعرصے سے یہ میزائل اور امریکی اسلحے کا استعمال کر رہاہے۔تاہم امریکانے کبھی کیئوکو روس کے اندران میزائلوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔یوکرین نے یہ مؤقف اختیارکررکھا تھاکہ’’ان میزائلوں کی اجازت نہ دیناتوایسا ہی ہے کہ جیسے لڑائی میں کسی کاایک ہاتھ اس کی پشت پر باندھ کراسے کہاجائے کہ اب لڑو‘‘۔زیلنسکی نے ابھی تک اس امریکی فیصلے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم انہوں نے یہ کہاتھا کہ حملے الفاظ سے نہیں کیے جاتے،میزائل خوداپناپتہ دیں گے۔اطلاعات کے مطابق امریکاکی پالیسی میں نئی تبدیلی اس وقت واقع ہوئی جب یوکرین کے زیر قبضہ کرسک کے علاقوں میں روس کی مددکیلئے شمالی کوریاکے فوجی بھی خطے میں آئے۔یوکرین کرسک کے علاقے پراگست سے قابض ہے۔(جاری ہے)