اسلام آباد ہائی کورٹ نے بروقت فیصلہ جاری کر کے دارالحکومت میں احتجاج پر قدغن لگا دی ہے۔ اس حکم نامے سے دارالحکومت کے تاجروں اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔آئے روز کے احتجاجوں اور دھرنوں نے جڑواں شہروں اسلام اباد اور راولپنڈی میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی اس معاملے کو مزید بگاڑ دیتی ہے احتجاج سے دو روز قبل ہی اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں شہروں میں معاشی اور تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل معطل ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری دفاتر میں حاضری کا تناسب بھی تسلی بخش نہیں ہوتا۔ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے شہر سے باہر کسی ایسے مقام کو احتجاج کے لیے مختص کر دیا جانا چاہیے کہ جس میں سیاسی سرگرمی سے عام شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہ ہونے پائیں۔غیر منظم اور منفی طرز احتجاج کا جائزہ لیا جائے تو سابق حکمران جماعت تحریک انصاف سرفہرست دکھائی دیتی ہے۔ کمال یہ ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اس جماعت کا انداز اور لب و لہجہ احتجاجی ہی رہتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران پی ٹی آئی نے بارہا اسلام اباد اور پنجاب کے بڑے شہروں میں احتجاج کا اعلان کر کے سیاسی بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ۔
ایس سی او کانفرنس جیسے اہم موقع پر اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان ایسی ہی ایک قابل مذمت مثال تھی۔ حیرت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان جماعت آئے روز وفاقی دارالحکومت اور صوبہ پنجاب کو احتجاج کا ہدف بنا کر معمولات زندگی کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ احتجاج اور دھرنوں کی حکمت عملی دراصل وفاقی حکومت کو دبائو میں رکھنے اور معاشی استحکام کی بحالی کی کوششوں میں رخنہ ڈالنے کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اپنائی گئی ہے۔ ایک قومی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ احتجاج کی آڑ میں ملک کے مفادات اور سفارتی تعلقات کو ٹھیس پہنچائے۔ پہلے ایس سی او کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے کا اعلان کر کے تحریک انصاف کی قیادت نے عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی اور اب سابق خاتون اول اور بانی چیئرمین عمران خان کی زوجہ محترمہ نے ایک نہایت متنازعہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان جاری کر کے سعودی عرب جیسے قابل اعتماد دوست ملک سے دو طرفہ تعلقات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکن بھی اس غیر مناسب بیان پر انگشت بدنداں ہیں۔کچھ پیشہ ور ترجمان یہ روایتی وضاحت پیش کر رہے ہیں کہ سابق خاتون اول کا بیان سیاق و سباق سے جدا کر کے دکھایا جا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بیان کا سیاق و سباق ہے کیا؟ پی ٹی آئی میں سابق خاتون اول کا عہدہ کیا ہے؟ دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں البتہ بانی چیئرمین عمران خان کی زوجہ ہونے کے ناطے پارٹی میں ان کا احترام اور اثر و رسوخ بے پناہ ہے۔ اسی حیثیت میں انہوں نے 24 نومبر کے احتجاج کی فائنل کال کے حوالے سے اپنی جماعت کو جو ہدایات نامہ جاری کیا وہ بھی متعدد ذرائع سے عوام تک پہنچ چکا ہے۔ بلا شبہ سابق خاتون اول کی ان تازہ سیاسی سرگرمیوں نے تحریک انصاف کے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ جماعت موروثیت کے خلاف باتیں اور دعوے کیا کرتی تھی اور اب سیاسی بحران پیدا ہوا ہے تو مرکزی قیادت کے بجائے بانی چیئرمین عمران خان کی زوجہ اور بہنیں عملی طور پر جماعت کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں ۔
تحریک انصاف میں تقسیم اور اختیار کی رسہ کشی واضح دکھائی دے رہی ہے۔ سعودی عرب سے متعلق بانی چیئرمین کی زوجہ کے بیان پر تحریک انصاف کی صفوں سے بعض قائدین نے جس طرح تنقید کی ہے اور جس انداز میں اظہارلاتعلقی کیا ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ جماعت کے اندر ایک گروہ بی بی کے تجاوز کو پسند نہیں کرتا۔ یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ حالیہ چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ دراصل نمائشی عہدے دار ہیں۔ جماعت کے اصل معاملات ان کی گرفت میں نہیں۔ صوبہ خیبر پختون خوامیں تحریک انصاف کی حکومت چلانےکے ذمہ دار وزیراعلیٰ آئینی ذمہ داریوں کے بجائے احتجاجی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ صوبہ دہشت گردی کے باعث لہو لہان ہے۔ بد انتظامی اپنے عروج پر ہے۔ گورننس پہ توجہ دینے کے بجائے اشتعال انگیز تقریر کے ذریعے اپنے کارکنان کو احتجاج اور تشدد کی آگ میں جھونکنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ وزیراعلیٰ کے پی مسلسل ہیجان انگیز بیانات سے اشتعال پھیلا رہے ہیں۔ سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے!واپس نہیں آئیں گے !بانی چیئرمین کو رہاکروائیں گے!اس حکومت کو گھر بھیج دیں گے!یہ بیانات اس زہریلی دیگ کے چند دانے ہیں جو تحریک انصاف نے احتجاج کے نام پہ سیاسی چولہے پر چڑھا رکھی ہے۔ ان بیانات کے ہر لفظ سے تشدد، انتشار، نفرت اور تفریق کا تاثر چھلک رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ احتجاج کا حق آئین نے ہر فرد اور جماعت کو دیا ہے لیکن آئین نے ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق بھی تو دیا ہے۔ کیا کوئی سیاسی جماعت احتجاج کی آڑ میں شہریوں کے بنیادی حقوق معطل کر سکتی ہے؟ کیا مقدمات کے تحت جیل میں اسیر قیدی کو عدالتی کاروائی کے بغیر رہا کیاجاسکتا ہے؟ کیا حکومت کو آئین میں دیے گئے طریقوں کے علاوہ محض پر تشدد احتجاج کے ذریعےختم کیاجا سکتا ہے؟ کیا الیکشن کی شفافیت پر دائر کیے گئے اعتراضات کا حل عدالتوں کے بجائے سڑکوں گلیوں میں سر پر کفن باندھ کر نکالا جا سکتا ہے؟ تحریک انصاف اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر کے آئین کی روشنی میں سیاسی سرگرمیوں میں ہیجان اور تشدد سے گریز کرے۔حکومت سے بھی گزارش ہے کہ رکاوٹیں کھڑی کر کے عوام کی زندگی اجیرن کرنے کے بجائے عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں طے شدہ مقام کے علاوہ عوامی مقامات پر احتجاج اور دھرنوں پر مکمل پابندی عائد کرے۔