Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سیاسی شعور کی اہمیت

ملک جیسے ہی معیشت کی بحال کی طرف جانے لگتا ہے،نادیدہ قوتیں اس کا راستہ روکنے کی سعی شروع کردیتی ہیں۔پاکستان کو وجود میں آئے 77 برس بیت گئے۔لیکن ان 77 برسوں میں ہم وہ نہ کر سکے جس کے لیےپاکستان بنایا گیاتھا۔ پاکستان بڑا ہی ذرخیز اور معدنی دولت سے مالا مال ملک ہے۔بلوچستان میں اس قدر سونا ہے، تانبے، گیس،پٹرول،کوئلے اور دیگر بہت سی قدرتی معدنیات کے اتنے ذخائر ہیں جو بلوچستان کے پہاڑوں اور مٹی کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔نیتوں میں فتور آجائے اور اپنے ہی اپنوں کو نوچنے لگیں تو پھر یہی ہونا ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے ہم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔سیاست کے نام پر ہر ایک نے اپنی دکان سجائی ہوئی ہے جہاں جھوٹ،مکرو فریب اور جھوٹے دعوئوں کی پروڈکٹ بغیر کسی لائسنس کے بیچی جاتی ہے۔ خریدار بھی اتنے سادہ اور معصوم ہیں کہ جھوٹ کی ہر پروڈکٹ کو اس سیاسی دکان سے کسی سودے بازی (Bargaining) کے بغیر چپ چاپ خریدلیتے ہیں۔اس لیے ہمارا یہ حال ہے اور ہم عوام حالات کی چکی میں پس رہے ہیں۔بہت سوچا تو بات سمجھ میں یہی آئی کہ ہمارے ملک میں پختہ سیاسی نظام نہیں۔جو نظام ہے وہ ہمیشہ سے ہی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار رہا ہے۔جس ملک میں مضبوط اور مستحکم سیاسی نظام ہوتا ہے وہ نظام وہاں کے عوام کےسیاسی شعورکی نمائندگی کرتا ہے۔باشعور قوم کے افراد سیاستدانوں کے جھوٹے وعدوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنتے۔کسی بھی سیاستدان کو اپنے جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتےبلکہ باشعور لوگ تو ہمیشہ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔پاکستان میں غربت،جہالت،بے روزگاری اور امن و امان کی ابتر صورت حال کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق کی عدم دستیابی نے عوام کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیاہے۔روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے وہ پریشانیوں میں اس قدر گِھر جاتے ہیں کہ اپنا سماجی شعور ہی گہنا بیٹھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منتخب ہونے والے اپنے نمائندوں کے ہاتھوں بار بار نقصان اٹھاتے ہیں۔جس کے بعدملک کے سیاسی نظام میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔عوام میں سیاسی شعور کی کمی کے باعث آئے دن سیاستدان ان کے جذبات سے کھیلتے اور انہیں نت نئے وعدوں سے بہلاتے ہیں۔اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔سیاسی شعور میں کمی کے باعث عوام کا استحصال صرف سیاستدان ہی نہیں کرتے،انتظامیہ بھی اس استحصال میں برابرکی شریک ہوجاتی ہے۔انکےساتھ غلاموں جیسا برتائو کرتی ہے۔پاکستان کے عوام،خصوصاً نوجوان آئین میں موجود اپنے حقوق سے متعلق آگہی نہیں رکھتے جس کے باعث ادارے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں۔تقسیم ہند کے بعد جس طرح پاکستان کو پورے اثاثے نہیں ملے،اسی طرح اس کے حصے میں آنے والے سیاستدان بھی ترقی پسند سیاسی نظریات سے محرومی کے باعث قوم کے لیے سیاسی میدان میں کسی صحت مند سیاسی روایت کی بنیاد نہیں رکھ سکے بلکہ سرمایہ دارانہ نظریات اور جاگیردارانہ نفسیات کے ساتھ انہوں نے قوم پر حکمرانی ہی کی جس کے بعد اب ہمارے ملک میں بچگانہ سیاسی عہد کا آغاز ہو چکا ہے۔فرسودہ نظام اور اس نظام کی فرسودہ قیادت نئی نسل کو کچھ بھی نہیں دے سکی،نہ شعور ،نہ ہی آگہی، سیاست کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا ہے۔نئی نسل کو سیاست کی کوئی شدبد نہیں، اسی لیے حادثانی رہنما اور سیاستدان عوام کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور ان کےجذبات سے کھیلنا اپنا مشغلہ سمجھتے ہیں۔اسی لیئے پاکستان میں تباہی کے اصل ذمہ دار یہ رہنما ہی ہیں جو تاثر یہ دیتےہیں کہ سب اچھا ہے اور اچھا ہی چل رہا ہے۔
حقیقت میں بچگانہ ذہنیت کے حامل یہ خود پسند سیاستدان نوجوانوں کی ملکی سیاست سے مایوسی کاسبب بن رہے ہیں۔کافی مسائل ہیں جو عوام کےلیے اب چیلنج بن چکے ہیں۔کچھ عناصر نے ان مسائل کو مزید اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ملک کا ترقی کے راستے پر گامزن ہونا قدرے مشکل نظر آتا ہے۔یہ سیاستدان دیمک زدہ نظام کے ڈھانچے سے کچھ اس طرح سےچمٹے ہوئے ہیں کہ ان عفریتوں سےکسی انقلاب کےبغیرچھٹکارا پانا ممکن نہیں۔ کمزور معاشی حالات،غربت،روزگار کے مسائل،ترقی کے کم ہوتے مواقع،منفی،مذہبی اور سیاسی اثرو رسوخ، امن و امان کی خراب صورتحال اور ناانصافیوں نے نوجوان نسل کو بنیاد پرستی، انتہاپسندی، جرائم، جہالت اور نفرت کی طرف ایسا مائل کر دیا ہے کہ جسے قوم کی امنگوں کا ترجمان بننا تھا وہ خود بہت سے روگوں کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔سچ یہ ہے کہ موجودہ نظام نے شعوری طور پر نوجوانوں کو اپنا ہدف بنایا ہے۔انہیں ناصرف سیاسی اور سماجی ترقی کے شعور سے محروم رکھا گیا ہےبلکہ حکومت اور نظام نے انہیں مذہبی عسکریت پسندوں کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔جس سے ان کی شناخت، سماجی، معاشی، سیاسی،ثقافتی اور ان کے تمام انسانی حقوق بھی پامال ہو کر رہ گئے ہیں۔دیکھا جائے تو آج ان عسکریت پسند جماعتوں نے اپنے جرائم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن تاریخ میں لکھے اس سیاہ باب کو وہ ہرگز تاریخ سے نہیں مٹا سکتے۔ہمارے جتنے بھی نوجوان ہیں۔ ان کا سیاسی شعور بہت اہمیت کا حامل ہے۔( 1) اسے سیاست میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ سیاست معاشرتی ترقی کا اہم جزو ہے۔خراب سیاسی نظام کے نتیجے میں ہر روز ہزاروں لوگ اپنی جان سے اور ذریعہ معاش سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔( 2) ہمارے نوجوان کو آگاہ رہنا چاہیے کہ ہمارے اردگرد کے ماحول میں کیا ہو رہا ہے؟ کیونکہ ریاست میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے خود کو اپ ڈیٹ نہیں رکھیں گے تو سیاسی جدوجہد میں اپنی صحیح سمت کا انتخاب نہیں کر سکیں گے۔ (3)جوانوں کو اندھا دھند سیاسی تقلید سے بچنا جاہیے۔سیاسی جدوجہد کا درست فیصلہ کرنے کے لیے معاشرے میں موجود تمام بیانیوں اور نظریات کے بارے میں جاننا شعوری طور پر بہت ضروری ہے۔ملک میں بہت سی جماعتیں اور لیڈر ہیں۔بیشتر سیاستدانوں کے اپنے پبلک ریلیشنز آفیسر ہیں جو عوام کے دل جیتنے کے لیے اپنے لیڈر کے بارے میں مبالغہ آرائی پر مبنی پروپیگنڈہ مہم چلاتے ہیں۔پذیرائی کے لیئے لیڈر کی تقاریر میں سے کچھ ٹچ پروپیگنڈہ مہم کا حصہ بنا لیتے ہیں اس طرح عوام کا دل پرچایا جاتا ہے۔دھوکہ دینے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے لیکن سماجی طور پر آج کا بیدار اور باشعورنوجوان اس پروپیگنڈہ مہم میں خوبصورت ماسک کے پیچھے چھپے اصل چہرے کو پہچان لیتا ہے۔ہمارے ملک میں عوام کی خدمت کے نام پر ہوس اقتدار کا جو کھیل کھیلا جاتا ہے وہ نہایت قابل شرم ہے۔سیاست کے اس کھیل نے پاکستانی کلچر،تہذیب و تمدن اور اخلاقیات کو ملیامیٹ کر دیا ہےجس سے انارکی کا کلچر فروغ پارہا ہے۔مقتدر ادارے اور عدلیہ اس بے ہودگی پر خاموش رہے تو پھر ہمارا خدا ہی حافظ ہے۔ملک کی تباہی میں ہمارے سیاستدانوں کا جو کردار اور ہاتھ ہے وہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ایسی جماعتیں اور سیاستدان جو نیک نامی کا باعث نہیں۔ فوج،ملک اور آئین سے غداری کرتے ہیں۔معاشی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔اقتدار کی بھوک میں کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ان کا محاسبہ بہت ضروری ہے تاکہ ملک کی ترقی کا جو خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا ہم اسے پورا ہوتے دیکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں