الحاد اور ارتداد دورِ حاضر کے اہم مسائل میں شامل ہو چکا ہے جو اسلامی معاشرے کو فکری اور اعتقادی چیلنجز دے رہا ہے۔ ’’الحاد‘‘دراصل خدا کے وجود کا انکار اور دینی تعلیمات کو جھٹلانے کا نام ہے، جبکہ ارتداد دین اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب یا نظریے کو اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔یہ دونوں فتنے نوجوان نسل کو زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ دینی علم کی کمی، جدید میڈیا کا غلط استعمال اور اسلام کے بارے میں گمراہ کن نظریات کا پھیلائو ہے،افسوسناک بات یہ ہے کہ نئی نسل کے رابطے مساجد ومدارس علماء کرام اور دینی خانقاہوں سے تقریباً منقطع ہو چکے ہیں،ینگ جنریشن نے اپنا شیخ الحدیث ،شیخ الاسلام ، مولوی ،مفتی،پیرو مرشد بلکہ اب تو ماں اور باپ بھی ’’حضرت گوگل‘‘کو ہی بنا رکھا ہے، ایسے خطرناک حالات میں کہ جب الیکٹرانک میڈیا ہو،پرنٹ میڈیا ہو،یا سوشل میڈیا ہر طرف ایمان کے ڈاکو راج کر رہے ہوں درد دل رکھنے والے علما حق اور دینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ ان جدید فتنوں کا نہ صرف یہ کہ مقابلہ کریں،بلکہ نوجوانوں کو بھی ان فتنوں سے آگاہی فراہم کر کے انہیں اسلامی تعلیمات کی طرف راغب کریں، نئی نسل کے ذہنوں میں ملحدین اور مرتدین نے جو سوالات پیدا کئے ہیں انکے کے جوابات دیں، اور دین کی حقیقی روح کو اجاگر کریں، نئی نسل کو یہ بات سمجھانا ضروری ہے کہ اللہ کے دین پر قائم رہنا نہ صرف فرد بلکہ معاشرے کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔ وہ الحاد کہ جو ایک دور میں مغرب تک محدود تھا، مغرب سے نکل کر استعماری کاندھوں پر سوار مشرق میں آیا پہلے اس نے تجدد پسندی کا جال ڈالا کہیں پر اس نے نیچری طبقے کو پیدا کیا، تو کہیں پر انکار حدیث کی آواز لگی اور بتدریج ہمارے معاشروں میں سیکولرزم نے پیر پھیلائے اس کے ساتھ ساتھ لبرل اپروچ نمودار ہوئی، پھر لبرلزم کے ساتھ فیمینزم ، ہیومنزم اور دیگر لامذہبی افکار و نظریات نے اپنی جگہ بنائی، بعد ازاں دور تشکیک آیا اور دور تشکیک کے آخر میں الحاد و دہریت کا اژدہا منہ کھولے اس ضعیف امت کے وجود کو نگلنے کے لئے تیار تھا۔مگر یہ تو کبھی گمان میں بھی نہیں تھا کہ مذہبی طبقے میں الحاد جڑ پکڑ لے گا، ہمارے مدارس سے ملحدوں کو کمک مل جائے گی۔
ڈاکٹر حسیب حسن لکھتے ہیں کہ ہر روز کہیں نہ کہیں سے کسی کی کال آتی ہے کہ فلاں مذہبی ادارے سے منسلک شخص دہریت کی طرف چلا گیا ، فلاں طالب علم سیکولر ہوگیا ، فلاں صاحب الحاد سے متاثر ہوگئے، اور ایسی دل جلا دینے والے خبریں ہر اس شخص کو موصول ہو رہی ہیں کہ جو اس شعبہ میں کسی نہ کسی درجے میں کام کررہا ہے،غور کرنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ مذہبی طبقے میں تشکیک ، الحاد اور دہریت کی ترویج کا سبب کیا ہے؟ایک زمانے میں الحاد و دہریت کا دائرہ اثرنام نہاد ادبی حلقوں، یونیورسٹیز اور کالجز یا حکومتی ایوانوں تک محدود تھا، مگر ایسا کیا ہوا کہ یہ ہمارے گھروں اور اسلام کے قلعوں تک آگیا؟اگر یہ کہا جائے کہ مذہبی نوجوان خاص کر مذہبی اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوان کو الحاد کی جانب ’’سوشل میڈیا‘‘نے دھکیلا ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔جی ہاں سوشل میڈیا اس کی سب سے بڑی وجہ ہے ، مذہبی طبقے کو سوشل میڈیا سے متعارف ہوئے دس ،پندرہ سال ہی گزرے ہیں اور اسی دورانیے میں الحاد و دہریت نے اپنے پیر پھیلائے ہیں۔سوشل میڈیا پر آنے والے مذہبی طبقے کو الحاد و دہریت نے کیسے جکڑ لیا ،اگر اس بات پر غور کیا جائے تو دو بنیادی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔اول اندرونی کمزوری۔دوم بیرونی عوامل۔ اندرونی کمزوری سے کیا مراد ہے ؟یہ ایک انتہائی مشکل عنوان ہے اپنی کمزوری کو پہچان لینا اور اس کے تدارک کی کوشش کرنا کچھ اتنا آسان بھی نہیں اور اگر کوئی اس حوالے سے تنبیہ کرے تو ہم رد عمل کا شکار ہو کر اس تنبیہ کرنے والے کے مخالف ہو جاتے ہیں لیکن اس کا نقصان خود ہمیں ہی ہوتا ہے۔
مذہبی اداروں کے طلباء سے تعلق اور ان اداروں میں محاضرات کی ترتیب انتہائی محبوب عمل ہے، ہماری نظر میں یہی وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے دین کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا ہوا ہے، اس میدان میں اس طبقے کی قربانیاں بے شمار ہیں دور استعمار سے لے کر آج تک ہر ہر میدان میں کہیں پر تحریک ریشمی رومال کی شکل میں ، کہیں تبلیغ کے راستے سے کہیں عقائد باطلہ کے رد کے میدان میں کہیں ختم نبوت ﷺ کی محنت میں اور کہیں تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ناموس صحابہ ؓ اور کہیں جہاد مقدس کے حوالے سے مذہبی طبقے نے ہمیشہ صف اول میں جاکر اپنی جانوں کو قربانی کیلیے پیش کیا ہے،تو سوال یہ ہے کہ ہم میں مقصدیت کا یہ فقدان کیسے پیدا ہوا؟ڈاکٹر حسیب خان کے مطابق ،مختلف دینی اداروں میں دور جدید کے لامذہبی افکار کے حوالے سے محاضرات پیش کرتے ہوئے میں نے متعدد نوجوان علماء سے یہ سوال کیا کہ مستقبل میں آپ کو کیا بننا ہے۔اور آپ کو حیرت ہوگی کہ کسی کو یوٹیوبر بننا تھا ، کسی کو کالم نگار بننا تھا ، کسی کو صحافی بننا تھا ، کوئی میڈیا پر آنا چاہتا تھا کسی کو فلسفی کسی کو ادیب کسی کو مفکر و مدبر بننا تھا، مگر افسوس!سوائے معدودے چند ،کسی کو متکلم ، کسی کو فقیہ ، کسی کو محدث ، کسی کو محقق ، کسی کو مفسر ، کسی کو مورخ ، کسی کو داعی ، کسی کو متصوف نہیں بننا تھا۔ہم اپنے نوجوانوں کو علوم تو ضرور سکھا رہے ہیں مگر مقصدیت نہیں سکھا رہے۔
کسی زمانے میں ہر مدرسہ کسی نہ کسی خانقاہی بزرگ شخصیت سے منسلک کر دیا جاتا تھا، اور یہ ضروری نہیں کہ تصوف کے دائرے سے ہی منسلک ہو بلکہ ہر ادارے میں کچھ ایسے بڑے شیوخ ہوا کرتے تھے کہ جن کی صحبت میں رہ کر روحانی بالیدگی حاصل ہوا کرتی تھی، اور انسان باطنی حوالوں سے ترقی کرتا تھا پھر بتدریج ایسی شخصیات دنیا سے جاتی چلی گئیں، اور ان کے ساتھ روحانیت بھی جاتی رہی، اور اس کی جگہ مادیت نے اپنے پیر پھیلانے شروع کردیے، ریاست اپنے اسلامی آئین کے باوجود بحیثیت مجموعی مذہبی نہیں، نہ ہی معاشرہ بحیثیت مجموعی مذہبی ہے تو وہ مقام جو علما ء کو ملنا چاہیے تھا آخر وہ کیسے حاصل ہو پاتا!نوجوان علماء کی ایک بڑی تعداد اس مخمصے میں ہوتی ہے کہ معاش کہاں سے حاصل کریں گے معاشرے میں ہمارا کیا مقام ہوگا ہمیں کہاں پر جگہ ملے گی چونکہ مقابلہ انتہائی سخت ہے اس لیے بہت کم لوگوں کو جگہ مل پاتی ہے اور زیادہ صلاحیت والے یا پھر زیادہ تعلقات والے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
(جاری ہے )