دنیا بھر میں کئی ممالک نے انتہا پسند سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگائی ہیں تاکہ اپنے معاشرتی و سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہم کچھ ممالک میں سیاسی ، مذہبی و انتہا پسند جماعتوں پر پابندیوں کا جائزہ لیں توہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی کہ کسی بھی ملک میں حد سے گزر جانے والی جماعتوں پر پابندی کیوں ضروری ہے ؟جرمنی نے نازی پارٹی اور اس سے مشابہ انتہا پسند جماعتوں پر پابندی عائد کی ۔ جرمن آئین (Grundgesetz) کے تحت نازی ازم کی حمایت کرنے والی جماعتوں اور گروپوں کو قانونی طور پر ممنوع قرار دیا گیا ۔ 1952 ء میں جرمن وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کوئی بھی جماعت جو جرمنی کی جمہوری بنیادوں کو کمزور کرے، وہ غیر قانونی سمجھی جائے گی۔ اس کے بعد نازی پارٹی اور اس سے ملتی جلتی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔بھارت میں بھی انتہا پسند سیاسی جماعتوں اور گروپوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، خاص طور پر وہ جماعتیں جو مذہبی بنیادوں پر تشدد یا دہشت گردی کو فروغ دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارت نے ’’بابری مسجد‘‘کی مسمار ہونے کے بعد جن جماعتوں کو دہشت گرد سمجھا، ان پر قانونی کارروائی کی گئی۔ بھارت کی ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘‘(RSS) جیسے گروپوں پر بھی قانونی نظر رکھی گئی ہے، جن پر الزام ہے کہ یہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
مصر نے ’’اخوان المسلمون‘‘پر پابندی لگائی تھی، جو ایک اسلامی سیاسی تحریک ہے۔ 2013 ء میں جب مصر میں فوجی بغاوت کے بعد محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ ہوا، اس کے بعد اخوان المسلمون پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات لگے اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔روس میں ’’نیشنل سوشلسٹ‘‘ یا ’’نازیوں‘‘ اور ’’انتہا پسند گروپوں‘‘ پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔پاکستان میں ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ (TTP) اور ’’لشکر طیبہ‘‘جیسے گروہ پہلے ہی کالعدم قرار دئیے جا چکے ہیں۔یہ مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک انتہا پسند جماعتوں اور گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے قوانین اور حکمت عملی اپناتے ہیں ۔ سانحہ نومئی کے بعد ڈیڑھ سال کا وقت گزر چکا لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس وقت کے بعد کچھ سیکھا؟ کیا ہم نے وہ سبق حاصل کیا ہے جو ہمیں بہت مہنگا پڑا؟ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آ ئی ) کی جانب سے جو اقدامات اور بیانات سامنے آئے ہیں، وہ پاکستان کے استحکام کے لیے نہایت تشویشناک ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں؟ اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو کیا ہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹ سکیں گے؟کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ملک کی ساکھ، وقار اور نظریات کے اندر رہتے ہوئے سیاسی آزادی حاصل ہوتی ہے اور میں ذاتی طور پر کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں مگر اگر کوئی پارٹی یا گروہ ملک کی بنیادوں یا انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جائے تو میں تو کیا ملک کا ذی شعور اور وفادار شہری اس پر پابندی کی حمایت کرے گا۔؟ اب وزیر اعظم شہباز شریف نے اس جماعت کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف سینیٹر فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا اشارہ دیا ہے۔ سانحہ نومئی کے بعد کے حالات نے پاکستان کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ جو منظر سامنے آیا ، اس میں پاکستان کے ادارے ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہمارے عدالتی نظام کی سست روی اور ناکامی کی وجہ سے آج تک ان مجرموں کو سزا نہیں دی جا سکی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ اس وقت تک کوئی موثر کارروائی نہیں کر تے جب تک ملک میں فساد کی شدت عروج پر نہ پہنچ جائے۔
پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں جو سیاسی چالاکی اور جوڑ توڑ دیکھنے کو ملا ہے اس نے قوم کو سیاسی انتشار کی گہرائی میں دھکیل دیا ہے۔ جب قوم کی بقا کے لیے ایک موثر حکمت عملی اپنانا ضروری تھا تو ہم کیوں نہ اٹھے؟ ہم کیوں نہ وہ فیصلے کیے جو پاکستان کے مفاد میں تھے؟ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے لیے قانون سازی ہوئی تھی، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ بیشتر مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہیں لے جایا جا سکا۔ اگر ان مقدمات کو بروقت نمٹایا گیا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ پاکستان تحریک انصاف نے جو راستہ اختیار کیا، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک خطرناک گروہ بن چکی ہے جو پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ جو لوگ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پوری قوم کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں ان سے کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔ خاص طور پر ان فتنہ گروپوں کو جو ملک میں دہشت گردی، فساد اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان فسادیوں کو اگر نہ روکا گیا، تو پاکستان کو ایک اور سانحہ کا سامنا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ہماری سیاست کو نقصان پہنچائے گا بلکہ ہماری معیشت اور عوام کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ بن جائے گا۔ 2014 ء میں پاکستان میں جو کچھ ہوا، وہ آج تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ چینی صدر کے دورے کی تیاریوں کے دوران فسادیوں نے جس طرح ملک میں افراتفری مچائی، اس سے نہ صرف ہمارے ملکی مفاد کو نقصان پہنچا، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس وقت کے دھرنے نے پاکستان کے سیاسی ماحول کو جکڑ لیا اور ملک میں عدم استحکام کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ آج کے بعد ہم نے کسی بھی ایسے گروہ کو پروان چڑھنے نہیں دینا جو پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرے۔ پاکستان کے عوام اور سیاستدانوں کودیکھناہوگا کہ ہم نے کس طرف جانا ہے؟ پاکستان کو بچانا ہے یا ان فسادیوں کو حکومت میں لانے کا موقع دینا ہے؟ ذاتی و سیاسی مفاد سے آزاد ہو ہمیں وہ سخت فیصلے کرنے ہوں گے جو ملک کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔