انڈیا کے سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ کی کینسر کے خلاف جنگ ایک سبق آموز مثال ہے کہ جس سے ہمیں اللہ کی بے پایاں رحمت کی حقیقت کا ادراک ہوتا ہے۔وہ صحیح اور درست کہاوت ہے کہ اللہ کی رحمت وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسانی سوچ اور عقل ختم ہو جاتی ہے۔ سدھو کی اہلیہ کو اس سنگین بیماری کی تشخیص سٹیج فور پر ہوئی تھی، اور ڈاکٹروں نے اس کی صحت یابی کے امکانات کو مسترد کر دیا تھا ، مگر سدھو نے نہ صرف اپنے یقین کو برقرار رکھا بلکہ اپنے علم اور تحقیق کو بھی استعمال کیا۔ انہوں نے امریکی اور بھارتی ماہرین سے مشورے کیے اور ساتھ ہی غذائی طریقہ علاج پر بھی گہری نظر رکھی۔ سدھو نے اہلیہ کے کینسر کے علاج کے دوران کچھ غذائی تبدیلیاں کیں، جن میں چینی، گندم کا آٹا، اور ریفائنڈ تیل کو مکمل طور پر ترک کر دیا گیا، ان کی خوراک میں لیموں، کچی ہلدی، لہسن، ادرک، اور دیگر قدرتی اجزا شامل کیے گئے، اور ان سب کے نتیجے میں ان کی صحت میں شاندار بہتری آئی۔سدھو نے کے مطابق یہ سب کچھ ان کی اہلیہ کی غذائی تبدیلیوں اور اللہ کی رحمت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ کہانی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ اللہ کی رحمت اور قدرت کے راستے انسان کی امید سے کہیں زیادہ وسیع اور طاقتور ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ کی صحت یابی ایک زندہ مثال ہے کہ انسان جب اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو اللہ کی مدد کے دروازے کھل جاتے ہیں، چاہے حالات کتنے بھی سخت ہوں۔امید اور نا امیدی، دونوں انسان کی زندگی کے اہم جزو ہیں اور ان کے درمیان اللہ کی رحمت ایک عظیم قوت کے طور پر کام کرتی ہے۔ اللہ کی رحمت کا یہ مفہوم ہمیں مختلف مواقع پر نظر آتا ہے، خاص طور پر جب ہم ایسے حالات کا سامنا کرتے ہیں جہاں انسان کی طاقت یا عقل محدود ہو جاتی ہے۔ بیماریوں، مشکلات، اور چیلنجز کے باوجود اگر انسان کا ایمان مضبوط ہو تو پھر اللہ کی مدد اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
سدھو کی اہلیہ کو ڈاکٹروں نے ان کی صحت یابی کے امکانات محض چارفیصد سے کم بتائے تھے، پھر بھی اللہ کی رحمت نے ان کی زندگی میں ایک نیا چراغ جلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی رحمت پرکبھی بھی شک نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی قدرت سے بڑی کوئی قوت نہیں۔حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ نے ایک ایسا بل منظور کیا ہے جس میں مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد کو اپنی موت کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس بل کو ’’ڈیٹھ میڈیشن‘‘ یا ’’موت کے انتخاب‘‘کا نام دیا گیا ہے، اس میں مریضوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔ اس بل کے مطابق مریض کو اس عمل کا اختیار تب دیا جائے گا جب وہ اپنی بیماری کی شدت کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہوں گے اور ان کی زندگی آخری چھ ماہ باقی رہنے کی تصدیق کر دی جائے گی۔یہ بل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ قانون قدرت کے خلاف بھی ہے۔ قرآن اور حدیث میں اللہ کے قانون کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، اور کسی انسان کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کرے۔ اللہ کی طرف سے دی جانے والی زندگی کی قدر اور اس کے راز کو سمجھنا ضروری ہے، اور اس بل کا منظور کیا جانا ایک غیر فطری اور غیر انسانی بھی ہے کیونکہ اللہ کی حکمت اور قدرت کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی انسان کی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کرنا اللہ کے اختیار میں ہے، اور اس طرح کے بل ایک گمراہ کن سوچ کی علامت ہیں۔ انسان کو اپنی تقدیر کو اللہ کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔جو لوگ مایوس ہو کر موت کے انتخاب کی بات کرتے ہیں، وہ شاید اللہ کی رحمت کی حقیقت کو نہیں سمجھ پائے۔
برطانوی پارلیمنٹ کا یہ بل ایک سنگین غلطی ہے، جسے نہ صرف انسانی اقدار کے لحاظ ، بلکہ قدرت کے اصولوں کے مطابق بھی مسترد کیا جانا چاہیے۔ ہم اپنی زندگی میں کسی مشکل کا سامنا کرتے ہیں یا کسی بیماری میں مبتلا ہو جاتے پھر بھی اللہ کی رحمت ہمیں ہر وقت چھپا ئے رکھتی ہے، اور اللہ چاہے تو کسی بھی وقت کسی انسان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہ صرف اللہ کی رحمت ہی ہے جو انسان کی مشکلات کو حل کرتی ہے اور اس کے دل میں سکون پیدا کرتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں کبھی بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جب تک انسان کی سانسیں چل رہی ہوںاس کے لیے اللہ کی رحمت کی کوئی حد نہیں۔ اور یہ اس کی بے پناہ رحمت کی نشانی ہے۔ اللہ کی رحمت کے بارے میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ یہ ہمیشہ ہمارے خیال سے زیادہ وسیع ہے۔ مایوسی اور ناامیدی کا کوئی سوال نہیں، کیونکہ اللہ کی رحمت اور کرم سے بڑی کوئی چیز نہیں۔انگلینڈ کے پارلیمنٹ میں منظور ہونے والا یہ بل، جسے ’’موت کے انتخاب‘‘کا بل کہا گیا ہے، ایک گمراہ کن خیال ہے۔ یہ انسان کو اختیار دینے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکے، اس بل کی حمایت کرنے والے شاید یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ نے انسان کو زندگی اور موت دینے کا اختیار صرف اپنے پاس رکھا ہے۔اس بل کے ذریعے سے انسانیت کی قدر و قیمت کو بھی کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انسان کی زندگی ایک قیمتی اور عظیم نعمت ہے، اور یہ کبھی بھی انسان کے اپنے ہاتھوں سے ختم نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ کی قدرت اور حکمت پر بھروسہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر ہم اپنی تقدیر کے بارے میں کوئی صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے۔نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ کی صحت یابی کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت پر ایمان رکھنا ، اپنی آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھنا اور اللہ کی رضا میں راضی رہنا ہی انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہونا چاہئیے۔ اسی طرح برطانوی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والا بل اس بات کی یاددہانی ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔کیونکہ موت کا اختیار انسان کی ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ مایوسی اور ناامیدی کا کوئی سوال نہیں، اللہ کی قدرت اور رحمت سے مایوس ہونا کفر ہے، اور یہی وہ بات ہے جسے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہ ہر چیز سے بڑا