پانی کا بحران اس وقت دنیا کے سامنے ایک سنگین چیلنج کے طور پر موجود ہے، جو نہ صرف انسانیت کے لیے خطرہ بن چکا ہے بلکہ کرہ ارض پر زندگی کے تمام مظاہر کے لیے بھی یہ خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، اور پانی کے وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔دنیا کی نصف آبادی کو سال کے کچھ حصے میں پانی کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ لاکھوں افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ ماہرین کے مطابق، 2030 ء تک پانی کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے اس قلت میں شدت آئے گی۔ یہ مسئلہ اب ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی زد میں ہیں۔دنیا میں پانی کی کمی والے خطوں پر نظر دوڑائیں تو اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ یہ دنیا کے سب سے خشک ترین علاقے ہیں۔ یہاں پانی کی قلت بنیادی طور پر کم بارش، زیادہ درجہ حرارت، اور زیادہ آبادی کی وجہ سے ہے۔سعودی عرب، یمن، اور اردن میں بھی پانی کے وسائل کی شدید قلت ہے۔ جنوبی ایشیاء جن میں بھارت، پاکستان، اور بنگلہ دیش شامل ہیں میں زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال بحران کو بڑھا رہا ہے۔دریاں پر ڈیموں کی تعمیر اور سرحدی تنازعات نے پانی کی تقسیم کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان میں سارا سال بہنے والے دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کے باوجود، پانی کی قلت ہے، خاص طور پر زراعت کا شعبہ تو اس سے بری طرح متاثر ہے۔ سب صحارا افریقہ میں پانی تک رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ خشک سالی، خراب انفراسٹرکچر، اور وسائل کی کمی لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے ممالک میں خشک سالی کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا اور مغربی ریاستوں میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے، خاص طور پر یہاں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ ہو رہے ہیں جبکہ زیرزمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، اور کئی جھیلیں خشک ہو رہی ہیں۔جنوبی یورپ خاص طور پر اسپین اور اٹلی بھی پانی کی قلت کا شکار ہیں یہاں شدید گرمی کی لہریں اور کم بارش مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ آسٹریلیا میں کئی علاقے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔زیرِ زمین پانی اور دریائی نظام کے زیادہ استعمال سے پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ پانی کی کمی کی بنیادی وجوہات میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بارش کے پیٹرنز بدل رہے ہیں۔ آلودگی صنعتوں اور زراعت سے پانی کے ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں۔ آبادی کا دبا پانی کے وسائل پر اضافی دبا ڈال رہا ہے۔ ایک روز قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں، فرانس، قازقستان، اور عالمی بینک کے اشتراک سے ون واٹر سمٹ کانفرنس منعقد ہوئی۔جس کا مقصد پانی کے مسائل کے حل کے لیے عالمی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور پائیدار حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔ کانفرنس میں ماحولیاتی تحفظ، پانی کے محفوظ استعمال، اور مالی وسائل کی فراہمی پر گفتگو اور غور و خوض کیاگیا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کانفرنس کے آغاز پر ایک عالمی آبی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد پانی کے عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پانی کے بحران کو وجود ی خطرہ قرار دیا اور اس پر قابو پانے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور عالمی قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے عالمی سطح پر پانی کے مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا اور چھ نکات پیش کیے، جن میں جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے، مالی وسائل کی فراہمی اور شفافیت کو فروغ دینا شامل ہے۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان ان چیلنجز سے ناواقف نہیں ہے، ہمارے دریا، گلیشیئرز اور ایکویفرز موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں اضافہ کے اثرات کے باعث تیزی سے کمزور ہو رہے ہیں۔ پاکستان ابھی بھی 2022 ء کے تباہ کن سیلاب سے نبرد آزما ہے جس نے اس کے آبی وسائل اور آبپاشی کے شعبے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، اس کے علاوہ لاکھوں زندگیوں اور معاش کو متاثر کیا، خشک سالی بھی ملک کے لئے اتنا ہی بڑا خطرہ ہے، ہماری تقریبا 70 فیصد زمین بنجر اور نیم بنجر علاقوں پر مشتمل ہے اور ہماری آبادی کا تقریباً 30 فیصد حصہ خشک سالی جیسے حالات سے براہ راست متاثر ہے۔ پاکستان میں متوقع درجہ حرارت میں اضافہ، عالمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ کیونکہ پاکستان ان 10ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔
پانی کے عبوری انتظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پانی سیاسی حدود سے بالاتر ہو کر قوموں کو جوڑتا ہے اور مشترکہ ماحولیاتی نظام کو فروغ دیتا ہے، انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انڈیا کے ساتھ پانی کی تقسیم میں شفافیت اور تعاون انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے آبائی شہر لاہور سے گزرنے والے دریا کے کنارے بچوں کے کھیلنے کے خوشگوار مناظر اور دریائے راوی کے کنارے ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں کو یاد کیا اور کہا کہ یہ پیاری یادیں اس بات کی ایک پرجوش یاد دہانی کے طور پر کام کرتی ہیں کہ کیا دائو پر ہے؟ شہباز شریف کی ان یادداشتوں نے یقینا چالیس سال سے زائدعمر اور بڑحاپے کی عمر میں ان لوگوں کی خوشگوار یادوں کو بھی تازہ کر دیا ہے کہ جنہوں نے پاکستان کے بہت سارے خشک ہو جانے والے دریائوں پر ایسے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں۔ ون واٹر سمٹ جیسے پلیٹ فارم پانی کے بحران کے حل کے لیے امید کی کرن ہیں، لیکن اس کے لیے تمام ممالک کو مل کر مضبوط قیادت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر آج ہم نے پاکستان کی حد تک عملی اقدامات نہ کئے تو یہ مسئلہ مستقبل میں مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گا۔ پانی کی کمی پر قابو پانے کے لئے پانی کے ذخائر کی بہتر مینجمنٹ، کالاباغ ڈیم سمیت بڑے ڈیمز کی تعمیر، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے ، عوامی آگاہی ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور ڈرپ اریگیشن جیسے منصوبے فوری شروع کرنا ہوں گے۔