سولر انرجی کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے ذریعے توانائی کی پیداوار میں خود مختاری اور طویل مدتی بچت بھی ممکن ہے۔ سورج کی روشنی کو براہ راست بجلی میں تبدیل کرنے کے اس طریقے نے توانائی کے ذرائع کو انقلاب بخشا ہے۔ سولر انرجی، یا شمسی توانائی، قدرتی توانائی کا ایک انتہائی اہم اور قدرتی ذریعہ ہے جس کی بنیاد سورج کی روشنی پر ہے۔ سولر پینلز کی ٹیکنالوجی(جسے فوٹووولٹائک پینلز کہا جاتا ہے) سیمی کنڈکٹر مواد جیسے سلیکون سے تیار کی جاتی ہے جو سورج کی روشنی کے اثر سے الیکٹرانز کو حرکت میں لاتی ہے اور اس حرکت سے پیدا ہونے والی توانائی کو بجلی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سولر پینلز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ توانائی پیدا کرنے کے دوران کوئی آلودگی نہیں پیدا کرتے اور ماحول کے لئے انتہائی مفید ہے۔سولر انرجی کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ یہ قابل تجدید توانائی کا ایک ذریعہ ہے۔ یعنی اس کا کوئی اختتام نہیں ہے اور نہ ہی اس کی پیداوار میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سولر انرجی کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں اس سمت میں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ قدرتی وسائل کا کم سے کم استعمال کیا جا سکے اور ماحول کو تحفظ کو ممکن بنایا جا سکے۔دنیا کے کئی ممالک نے نہ صرف سولر توانائی کی پیداوار بڑھائی ہے بلکہ اس کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے مختلف حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کا بھی آغاز کیا ہے۔ ان ممالک میں چین، امریکہ، جاپان، جرمنی، بھارت اور آسٹریلیا جیسے ممالک قابل ذکر ہیں۔چین دنیا کا سب سے بڑا سولر توانائی پیدا کرنے والا ملک ہے۔ چین نے سولر فارمز کی تنصیب اور سولر پینلز کی پیداوار میں اہم پیش رفت کی ہے۔ چین کا مقصد 2030 ء تک اپنی توانائی کی پیداوار میں صاف توانائی کے حصے کو بڑھانا ہے۔ چین نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سولر توانائی پر انحصار کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سولر انرجی کی پیداوار میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔امریکہ میں بھی سولر توانائی کا استعمال بڑھ رہا ہے، خاص طور پر کیلیفورنیا اور دیگر ریاستوں میں جہاں کہ سورج کی شدت زیادہ ہے۔ امریکہ میں سولر توانائی کے منصوبے ماحول کی حفاظت اور توانائی کی کھپت میں کمی کے لئے شروع کیے گئے ہیں۔ امریکہ کے مختلف شہروں نے سولر پینلز کے استعمال کے حوالے سے مختلف اقدامات کیے ہیں تاکہ لوگوں کو ماحول دوست توانائی فراہم کی جاسکے۔جاپان میں بھی سولر پینلز کا استعمال بڑھا ہے، خاص طور پر 2011 ء کے زلزلے اور سونامی کے بعد جاپان نے صاف توانائی کے ذرائع پر زور دیا۔ جاپان نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اپنی توانائی کی پیداوار میں سولر توانائی کی حصے کو بڑھائے گا تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔اسی طرح جرمنی نے سولر توانائی کو فروغ دینے میں سب سے پہلے قدم اٹھایا تھا اور اب بھی یہ ملک سولر توانائی کی پیداوار میں عالمی سطح پر اہم مقام رکھتا ہے۔ جرمنی میں سولر توانائی کے منصوبے انتہائی کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور وہاں کی حکومت نے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور سبسڈیز فراہم کی ہیں تاکہ اس توانائی کے ذریعے عالمی سطح پر تبدیلی لائی جاسکے۔ہمسایہ ملک بھارت میں سولر توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بھارت نے 100 میگاواٹ سولر توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ توانائی کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور بھارت کے دیہی علاقوں میں توانائی کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔
بھارت میں سولر توانائی کے منصوبوں میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، اور یہ مستقبل میں دنیا کے بڑے سولر توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔آسٹریلیا بھی سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، اور اس کے جغرافیائی حالات اس بات کے لیے سازگار ہیں کہ یہاں سولر توانائی کا استعمال بڑھایا جائے۔ آسٹریلیا میں قدرتی روشنی کی فراہمی بہترین ہے جس سے سولر توانائی کی پیداوار میں مدد ملتی ہے۔پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز نے صوبے کے عوام کے لئے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے جس کے ذریعے لاکھوں افراد کو مفت سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلی مریم نواز کی ’’سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم‘‘کا مقصد عوام کو مہنگی بجلی سے نجات دلانا اور توانائی کے بحران کا حل پیش کرنا ہے۔ اس سکیم کے تحت صوبے کے وہ صارفین جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں مفت سولر پینلز دیے جائیں گے۔اس سکیم میں 100 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 550 واٹ کا سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا، جبکہ 200 یونٹ تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 1100 واٹ کا سولر سسٹم دیا جائے گا۔ یہ سکیم ایک سال میں ایک لاکھ سولر سسٹم کی تنصیب کا ہدف رکھتی ہے، جس سے نہ صرف لوگوں کو بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سکیم کے تحت صوبے میں سالانہ 57 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی متوقع ہے، جو کہ اس کی ماحول دوست نوعیت کو ثابت کرتا ہے۔وزیراعلی مریم نواز نے اس سکیم کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کا اعلان کیا ہے تاکہ اس میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، سولر پینل اور انورٹر کو صارف کے شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا تاکہ ان کی چوری سے بچا جا سکے۔ اس سکیم کے ذریعے وفاقی حکومت پر سبسڈی کا بوجھ بھی کم ہو گا اور عوام کو سستی اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔سولر انرجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک صاف، سبز اور قابل تجدید توانائی کا ذریعہ ہے نہ ہی یہ گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہے، جس سے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ علاوہ ازیں، سولر پینلز کی دیکھ بھال کی لاگت کم ہوتی ہے اور یہ طویل مدتی بچت فراہم کرتے ہیں۔سولر انرجی کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ توانائی کی خود مختاری فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین اپنی توانائی خود پیدا کر سکتے ہیں، جس سے بجلی کے بلوں میں کمی آتی ہے اور توانائی کے ذرائع پر انحصار کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، سولر انرجی دور دراز یا آف گریڈ علاقوں میں بھی توانائی فراہم کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے جہاں دیگر توانائی کے ذرائع دستیاب نہیں ۔ پاکستان میں مریم نواز کی ’’سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم‘‘ جیسے اقدامات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ہم مستقبل میں صاف اور سستی توانائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پنجاب کی سرزمین پر شمسی انقلاب کا سورج مریم نواز کی پالیسیوں کے باعث ابھر رہا ہے۔ دیگر صوبوں کو بھی ایسے انقلابی منصوبے شروع کرنے میں پنجاب کی تقلید کرنی چاہئیے کیونکہ اس کے ثمرات ملکی و عوامی مفاد میں بہت اہم ہیں۔