فیلڈ مارشل ولہلم وون مانسٹین دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے ایک اہم کمانڈر تھے، جنہوں نے فرانس پر حملے اور مشرقی محاذ پر اپنی قیادت سے عالمی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔ جنگ کے بعد 1945 ء میں وون مانسٹین کو برطانوی افواج نے گرفتار کر لیا اور ان پر مشرقی محاذ پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے گئے۔ انہیں جنگی قیدیوں سے بد سلوکی اور اعلیٰ کمانڈ کے احکامات کی خلاف ورزی جیسے جرائم میں مجرم قرار دے کر 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح نیکولائی یگودا سوویت یونین کے خفیہ پولیس کے سربراہ تھے اور اسٹالن کی حکومت کے دوران ’’گرینڈ پرج‘‘ میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قتل و غارت میں ملوث تھے۔ ان پر جاسوسی، غداری اور بے گناہ لوگوں کی موت کی سازش کے الزامات عائد کئے گئے۔ 1938ء میں انہیں گرفتار کیا گیا اور ایک خفیہ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ یگودا کو مجرم قرار دے کر 1940ء میں سزائے موت دے دی گئی اور وہ اسٹالن کے دور کے ایک اہم مجرم کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں، جن کے اقدامات نے سوویت یونین میں خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کیا۔دنیا بھر میں فوجی قیادت اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران کے خلاف عدالتی کارروائیاں ہمیشہ ایک اہم موضوع رہی ہیں۔ ان کیسز کا تعلق یا تو جنگی جرائم، بدعنوانی یا کسی قسم کی اخلاقی خلاف ورزیوں سے ہوتا ہے، جو ان طاقتور افسران کی بدنامی اور ان کے کیریئر پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی کیسز عالمی سطح پر شہرت حاصل کر چکے ہیں اور عالمی سیاست اور فوجی تاریخ پر ان کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان میں امریکہ کے جنرل جارج ایس پیٹن سے لے کر جرمنی کے فیلڈ مارشل وولہلم وون مانسٹین تک، ہر ایک کا معاملہ اپنے طور پر منفرد تھا۔ ان معاملات کے پیچھے نہ صرف ذاتی مفادات بلکہ عالمی تنازعات اور فوجی حکمت عملی بھی کارفرما تھی۔
دنیا کے مختلف ممالک میں فوجی افسران کے خلاف کارروائیاں یا فوجی کورٹ مارشل ایک معمول کی بات ہے، خاص طور پر ان افسران کے خلاف جو اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ یہ فوجی عدالتیں اس بات کی ضمانت فراہم کرتی ہیں کہ طاقتور ترین شخصیات بھی قانون کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتیں۔ ان عدالتوں کا مقصد نہ صرف فوجی حکمت عملی اور قیادت کو درست سمت میں رکھنا ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ ہر فرد کو جوابدہ بنایا جائے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جنرل جارج پیٹن کا کیس ایک مثال ہے جس میں انہوں نے ایک فوجی کو ناکردہ جرم میں پھنسا دیا تھا، جس کے بعد ان پر شدید تنقید ہوئی، تاہم وہ باضابطہ طور پر کورٹ مارشل کا شکار نہیں ہوئے۔ اسی طرح نازی جرمنی کے ایچمن کو ہولوکاسٹ کے الزامات پر اسرائیلی ایجنٹس نے گرفتار کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی، جو کہ جنگی جرائم کے بعد ہونے والی سب سے مشہور کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان عالمی مثالوں کے باوجودجب بات آتی ہے پاکستان کے فوجی ادارے کی تو یہاں بھی فوجی قیادت اور انٹیلی جنس کے سربراہوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ مگر ایک خاص طبقہ اپنی آزادی یا اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت فوجی عدالتوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے لگتا ہے۔ سب سے حالیہ اور اہم کیس پاکستان کے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا ہے، جن پر نہ صرف ملکی سیاست میں مداخلت کے الزامات ہیں، بلکہ دیگر سنگین معاملات میں بھی ان کا کردار مشتبہ رہا ہے۔ پاکستان کے فوجی ادارے میں جب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس پر ملک بھر میں بحث چھڑ گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی ہے اور ان پر متعدد الزامات ہیں جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا الزام شامل ہے۔یہ معاملہ پاکستان کی فوجی قیادت کے خود احتسابی کے بیانیے کو تقویت فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ فیض حمید کا کیس دیگر عالمی فوجی افسران کی طرح عالمی سطح پر شہرت حاصل نہیں کر سکا، لیکن پاکستان میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس سے فوج کی اندرونی صفوں میں احتساب اور شفافیت کا تاثر ملتا ہے۔ ان الزامات میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کے فوجی ادارے میں فیض حمید جیسے اعلیٰ افسر کے خلاف کارروائی ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ فوجی قیادت کو ہر صورت میں اپنی ذمہ داریوں کا پابند بنانا ضروری ہے۔ یہ فوجی ادارے کی جانب سے اپنے داخلی احتساب کے عمل کو مزید مضبوط کرنے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فوجی قیادت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ادارے کی ساکھ کو مزید مستحکم کرے اور عوامی سطح پر یہ تاثر پیدا کرے کہ فوج میں تمام افسران کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستان کی فوج کا ردعمل ہمیشہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارے اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی غلط سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرتے اور انہیں درست کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھاتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلانے کے عمل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فوجی قیادت کے سامنے اخلاقی اور قانونی اصولوں کا احترام سب سے اہم ہے۔ فیض حمید کی گرفتاری سے فوجی ادارے کا پیغام یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی طاقتور شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو نہ صرف فوجی قیادت بلکہ پورے ملک کے عوام کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے ایک نئی راہ متعین ہو رہی ہے، جہاں قومی مفاد کے لیے کسی بھی طاقتور افسر یا ادارے کی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔دنیا بھر میں فوجی عدالتوں کی اہمیت اور ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان عدالتوں کا مقصد فوجی افسران کی غلطیوں کا حساب کتاب کرنا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینا ہوتا ہے۔ پاکستانی فوج میں بھی یہی نظام قائم ہے، جس کے تحت فوجی افسران کے خلاف عدالتی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ یہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فوجی ادارے میں کوئی بھی فرد قانون کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتا، اور اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔طاقتور ترین لوگ بھی قانون کے تابع ہیں۔ جنرل عاصم منیر کے آنے کے بعد پاکستان کے فوجی ادارے میں خود احتسابی کا عمل مضبوط ہو چکا ہے، اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کیس کے بعد یہ مزید واضح ہو گیا ہے کہ ادارے اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتے۔عمران خان جیسے سیاستدان کی وجہ سے جنرل فیض کو کیا حاصل ہوا، اب بھی جو افسران پی ٹی آئی کے بیانئیے کی حمایت کر رہے ہیں انہیں اس بات سے سبق حاصل کرنا چاہئیے کہ فوج ایک دفاعی ادارہ ہے اور اسکا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئیے۔