Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عطا اللہ تارڑ کا عزم اور درپیش چیلنج

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے برادرانہ اور تاریخی نوعیت کے رہے ہیں۔ یہ نہ صرف سیاسی اور اقتصادی میدان میں مضبوط ہیں بلکہ ثقافت، مذہب، اور عوامی سطح پر بھی گہرے روابط کا مظہر ہیں۔ حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی ترکیہ کے صدارتی ہیڈ آف کمیونیکیشنز پروفیسر فحرتین التون سے ملاقات اس تعلق کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ استنبول میں ہونے والی اس ملاقات میں میڈیا کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے، عوامی سفارت کاری کو فروغ دینے، اسلاموفوبیا اور مس انفارمیشن کے خاتمے کے لیے اقدامات اور میڈیا وفود کے تبادلوں پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ پروڈکشنز کی تیاری اور پی ٹی وی کے ساتھ ترکیہ کے سرکاری ٹی وی ٹی آر ٹی کی مشترکہ نشریات پر بھی اتفاق کیا گیا۔پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ پروڈکشنز نہ صرف دونوں ممالک کی ثقافتوں کو اجاگر کریں گی بلکہ عوامی روابط کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنیں گی۔ ترک ڈرامہ ارطغرل غازی کی پاکستان میں بے پناہ مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے اور اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی فنکاروں کو ترکیہ میں پسند کیا جانا اس تعلق کو مزید تقویت دیتا ہے۔
دنیا بھر میں اسلاموفوبیا اور مس انفارمیشن کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کا میڈیا تعاون کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پروفیسر فحرتین التون نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کوششوں سے ان مسائل کا مئوثر حل ممکن ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز کے درمیان ورکنگ گروپ کی تشکیل اور فوکل پرسنز کی نامزدگی ایک مثبت قدم ہے۔ ملاقات کے دوران تفریح اور سیاحت کے شعبے میں تعاون اور مشترکہ منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ پاکستان اور ترکیہ دونوں سیاحتی لحاظ سے بھرپور ممالک ہیں، اور اس تعاون سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ دنیا بھر میں ان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں نوجوان نسل کو پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی تعلقات سے آگاہی فراہم کرنی ہوگی۔ یہ نسل نہ صرف ان تعلقات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے گی بلکہ اسلاموفوبیا اور مس انفارمیشن جیسے عالمی مسائل سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
پروفیسر فحرتین التون نے پاکستان میں میڈیا کی ترقی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستانی میڈیا کو اسلامی دنیا کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم قرار دیا۔ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے ترک میڈیا کی کوریج پر پاکستان کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مزید قربت پیدا کرے گا۔ماضی میں عمران خان کی حکومت کے دوران پاکستان اور ترکی کے درمیان میڈیا تعاون کے دعوے تو بہت کئے گئے تھے، لیکن عملی طور پر یہ کام صرف ایک یا دو ترک ڈراموں کو اردو میں ڈب کر کے نشر کرنے سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ان کے دور میں میڈیا تعاون کے بڑے منصوبے اور پی ٹی وی میں اصلاحات صرف کاغذی دعووں تک محدود رہے۔ اس کے برعکس، عطا اللہ تارڑ نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا ہے کہ وہ دھن کے پکے ہیں اور جو کام کرنا چاہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔عطا اللہ تارڑ کی شخصیت اور قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان میڈیا تعاون صرف کاغذی منصوبوں تک محدود نہیں رہے گا۔ حال ہی میں انہوں نے پی ٹی وی نیوز کی اسکرین کو یکسر تبدیل کر کے اسے دنیا کے بہترین نیوز چینلز کے معیار کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا ثبوت ہے۔ ان کی قسمت اور قابلیت کا امتزاج اس بات کی گارنٹی دیتا ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے معیار کو نہ صرف ترکیہ بلکہ بین الاقوامی معیارات کے برابر لے آئیں گے بلکہ عطا اللہ تارڑ کا یہ عزم اور وژن پاکستان کے میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک نئی روح پھونک سکتا ہے۔ ان کے اقدامات اس بات کی ضمانت ہیں کہ جو منصوبے وہ شروع کریں گے، ان پر عملدرآمد یقینی ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا سرکاری میڈیا بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی کرے گا اور دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کی محنت اور عزم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اپنے مشن کو کامیاب بنانے میں ہر ممکن کوشش کریں گے، اور اس سفر میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ٹی آر ٹی ترکی کا سب سے بڑا اور سب سے اہم سرکاری نشریاتی ادارہ ہے، جو ترکی کے عوام کے لیے ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ پر مختلف پروگرام فراہم کرتا ہے۔ ٹی آر ٹی کو 1964ء میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ترکی میں عوامی خدمت کے لیے میڈیا مواد فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ ترکی کی ثقافت، تاریخ، اور اقدار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ترکی کا مثبت تشخص بھی پیش کرتا ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور ٹی آرٹی ورلڈ کے اشتراک سے دونوں ممالک کے موقف کو مزید مضبوطی کے ساتھ دنیا بھر میں پیش کیا جا سکے گا۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان میڈیا تعاون ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں مدد دے گی بلکہ اسلاموفوبیا اور مس انفارمیشن جیسے عالمی مسائل سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ عطا اللہ تارڑ کی قیادت میں یہ اقدام پاکستان کے میڈیا کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس پر عملدرآمد کیا جائے اور ماضی کی ناکامیوں سے سبق بھی سیکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں