یہ سال کی بات ہے جب پاکستان کے عام انتخابات ہونے والے تھے، ملک ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکمرانی نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا تھا، خزانہ خالی تھا، اور دہشت گردی کا عذاب عوام کے لئے مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔ دہشت گرد گروہ، خاص طور پر فتنہ خوارج، اپنے حملوں میں شدت لا رہے تھے، جس کے باعث ملک بھر میں بم دھماکے، خودکش حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں روزمرہ کا معمول بن چکی تھیں۔ اس دوران پاکستان کی تمام بڑی سیاسی اور دینی جماعتیں، جیسے پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی، فتنہ خوارج کے بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے اپنی انتخابی مہمات نہیں چلا پا رہی تھیں۔ ایسے میں، بیرونی آقائوں کے اشارے پر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو ایک نہایت خطرناک ڈیل کے تحت فتنہ خوارج اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے رہنمائوں سے ملاقات کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس ملاقات میں ایک خوفناک سازش تیار کی گئی، جس کے تحت تحریک انصاف کو کھل کر انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی گئی اور طے پایا کہ کسی بھی مخالف جماعت کو انتخابی مہم چلانے کی آزادی نہیں دی جائے گی۔ اس ڈیل کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم کروائی گئی اور قومی اسمبلی میں بھی اتنی سیٹیں جتوا دی گئیں کہ پی ٹی آئی مرکز میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھرے۔نتیجتاً، 2013ء کے انتخابات میں شیطانی منصوبہ کامیاب ہو گیا، اور پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع ملا۔ اس دوران شدت پسندوں نے سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا، خاص طور پر ان جماعتوں کے کارکنوں کو جو ٹی ٹی پی کے خلاف تھے۔ خیبر پختونخوا کا خون آلود منظر اور انسانی جانوں کا یہ سودا ایک خوفناک منظرنامہ تشکیل دیتا ہے، جس نے پاکستان اور ملکی سیاست پر انتہائی خطرناک نتائج چھوڑے ہیں۔
یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ عمران خان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ ہوا تھا جس کی تفصیلات پی ٹی آئی کے سابق عہدیدار اور عمران خان کے قریبی ساتھی جاوید بدر نے حال ہی میں بیان کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی دیں گے اور باقی تمام جماعتوں کو مہم چلانے نہیں دیں گے۔ اس ڈیل کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم کو کامیابی سے چلایا اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ جاوید بدر کے مطابق، عمران خان نے اپنے رہنمائوں کو سختی سے ہدایت دی تھی کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان نہ دیں اور اس تنظیم کے ساتھ کسی قسم کا تنازع پیدا نہ کریں۔ یہ ڈیل اس وقت کے سیاسی ماحول سے میل کھاتی ہے، جہاں دیگر سیاسی جماعتیں، جیسے پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم، دہشت گردی کی کارروائیوں کا شکار ہو رہی تھیں اور ان کے کارکنوں کو انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مہم ان حالات سے مکمل طور پر محفوظ رہی اور وہ کھلے عام جلسے کرتی رہی۔جاوید بدر کے انکشافات اس بات کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کی اتحادی سیاست نے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات ڈالے۔ دوسری جماعتوں کے کارکن دہشت گردی کے خوف سے انتخابی مہم نہیں چلا سکے۔ اس طرح، پی ٹی آئی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ٹی ٹی پی کی طرف سے فراہم کی گئی حمایت تھی، جس نے ان کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا۔عمران خان ہمیشہ اپنی سیاست کو اصولی اور صاف ستھرا قرار دیتے رہے ہیں مگر جاوید بدر کے انکشافات نے ان کے اس دعوے کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ایک شخص جو خود کو انصاف کا علمبردار کہتا ہے، اس کا دہشت گرد تنظیم کے ساتھ ڈیل کرنا ایک سنگین اخلاقی اور سیاسی سوال پیدا کرتا ہے۔ جاوید بدر کے مطابق، عمران خان نے اقتدار کے حصول کے لیے ٹی ٹی پی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اس کے ذریعے خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت قائم کی۔اگر ان طریقوں کا موازنہ کیا جائے تو ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ سرگرمیاں براہ راست انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں، جو ایک فوری اور واضح خطرہ ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کا کردار اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرا ہے۔ پی ٹی آئی نے نوجوانوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ذہنی طور پر متاثر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا، اور انہیں ایک خاص بیانیے کے ذریعے انتہا پسندی کی طرف مائل کیا۔ اس عمل نے ایک نسل کو سماجی اور سیاسی انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا، جس کا اثر ملک کے سیاسی، سماجی اور اخلاقی ڈھانچے پر پڑا۔پی ٹی آئی کی سیاست جس میں الفاظ اور خیالات کو ہتھیار بنا کر عوامی ذہنوں کو متاثر کیا گیا۔
ایک نئی قسم کی ذہنی دہشت گردی کو فروغ دے رہی تھی۔ یہ عمل ملک کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتا تھا اور سماجی توازن میں خلل ڈالنے کا باعث بن سکتا تھا۔ اسی طرح ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے طریقوں میں بہت فرق تھا، لیکن دونوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی تھیں۔پاکستان تحریک انصاف کے جرائم اور ٹی ٹی پی جیسے ملک دشمن عناصر کی سرگرمیاں زیادہ سنگین ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کا مقصد نہ صرف ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بلکہ ملک کی قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچانا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ریاست پر تین مرتبہ حملے کیے گئے، جو پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور خطرناک مثال ہیں۔ 9مئی کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ حملے ایک سال کی منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے اور ان کا مقصد نہ صرف قومی وقار بلکہ ریاستی استحکام کو نشانہ بنانا تھا۔پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کے واقعات کی مثال نہیں ملتی، اور ان واقعات نے نہ صرف ملکی امن و امان کو نقصان پہنچایا بلکہ اس نے ایک نئی سیاسی حقیقت کو جنم دیا۔ ان واقعات کو یاد رکھنا اور ان سے سبق سیکھنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاست کو اس سے متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔