پاکستان کی تاریخ میں 9 مئی 2023 ء کا دن ایسا سیاہ دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہ دن تھا جب قومی املاک اور مسلح افواج کی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ عوامی احتجاج کے پردے میں ہونے والے ان حملوں نے ریاستی عملداری کو براہ راست چیلنج کیا۔ اس دن کے ذمہ داروں کو ڈیڑھ سال بعد فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائیں۔ یہ فیصلہ انصاف کے عمل میں ایک اہم پیش رفت ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ انصاف کی یہ فراہمی اتنی تاخیر سے کیوں ہوئی؟
سانحہ 9 مئی کے واقعات کو محض عوامی غصے کا نتیجہ کہنا حقائق سے انحراف ہوگا۔ ان حملوں کو ایک منظم سازش کے تحت انجام دیا گیا، جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا اور مسلح افواج کو نشانہ بنانا تھا۔ حملہ آوروں نے قومی یادگاروں اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، جو کہ پوری قوم کے لیے فخر کی علامت تھیں۔ یہ واقعات نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنے۔
ڈیڑھ سال کے طویل عرصے کے بعد یہ فیصلہ آیا، جو کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اتنے اہم نوعیت کے مقدمات میں بھی عدالتی نظام فوری فیصلے نہیں دے سکتا، تو عام شہری کے لیے کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟ فوجی عدالتوں نے سانحہ9مئی کے مقدمات کو اہمیت دیتے ہوئے 25 مجرمان کو سزائیں سنائیں۔ یہ فیصلے مضبوط شواہد اور قانونی کارروائی کے تحت دیے گئے۔ فوجی عدالتوں کا یہ اقدام ایک مضبوط پیغام ہے کہ ریاست اپنی عملداری قائم رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر ملوث افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ انصاف مکمل ہو۔سانحہ 9 مئی کے حوالے سے سب سے زیادہ زیر بحث شخصیت عمران خان ہیں۔ وہ اس سانحے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ جیل میں قید ہونے کے باوجود وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک قیدی کو اس طرح کی آزادی دی جا سکتی ہے؟ عمران خان اور ان کے حامی اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک وہ اس سازش کے تمام پہلوئوں کا جواب نہیں دیتے، تب تک وہ شک کے دائرے میں رہیں گے۔
سانحہ 9 مئی کے واقعات نے پاکستانی معاشرے میں موجود تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ یہ واقعات ایک انتباہ تھے کہ سیاسی بیانیے کو اگر بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ تشدد اور انتشار میں بدل سکتا ہے۔ نفرت پر مبنی سیاست نے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا بلکہ ریاستی اداروں کو بھی نشانہ بنایا۔
ریاست پاکستان کے لیے9مئی کے واقعات ایک بڑا امتحان تھے۔ ان واقعات کے بعد تمام شواہد اکٹھے کیے گئے اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا گیا۔ تاہم، اس سانحے کے ماسٹر مائنڈ اور دیگر ذمہ داران کو سزا دینا اس عمل کو مکمل کرے گا۔9 مئی کے واقعات کے بعد نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات نے ملک میں سیاسی بے چینی کو مزید بڑھا دیا اور عوام کا اعتماد ریاستی اداروں پر کمزور ہوا۔ اگرچہ فوجی عدالتوں کے فیصلے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک قدم ہیں، مگر اس سانحے کے حقیقی اثرات کو زائل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔انصاف کا نظام صرف اسی وقت موثر ہو سکتا ہے جب وہ تیزی سے اور بغیر کسی تعصب کے کام کرے۔ فوجی عدالتوں کے فیصلے ایک اہم مثال ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ عدلیہ اور دیگر ادارے کیوں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں؟ ریاست کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ ایسے مقدمات جلد از جلد نمٹائے جائیں۔
سانحہ 9 مئی کے واقعات اور ان کے نتائج عوام کے لیے ایک سبق ہیں کہ نفرت انگیز اور گمراہ کن سیاست کے نتائج ہمیشہ خطرناک ہوتے ہیں۔ عوام کو اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایسے عناصر کو مسترد کرنا ہوگا جو ریاست اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔سانحہ 9 مئی کے ملزمان کو دی جانے والی سزائیں ایک اہم سنگ میل ہیں۔ یہ فیصلے صرف ان افراد کو سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ پاکستان میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ تاہم، انصاف کے اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ماسٹر مائنڈ اور دیگر ذمہ داران کو بھی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔