Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکہ و برطانیہ کے دوہرے معیارات

دنیا بھر میں سویلینز کے مقدمات عام طور پر سول عدالتوں میں ہی سنے جاتے ہیں مگر جب خاص حالات ہوں اور کسی ملک کی فوجی تنصیبات یا فوجی نظرئیے پر حملے، غداری، دہشت گردی یا ملکی وقار جیسا معاملہ درپیش ہو تو ایسی صورت میں سویلین ہوں یا فوجی ان کے ٹرائیل وہاں قائم خصوصی عدالتوں یا ملٹری کورٹس میں چلائے جاتے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور برطانیہ کی ایسی غیر ضروری سیاسی مداخلت کو مسترد کردیا ہے ہے جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے زمرے میں آتی ہے۔ خاص طور پر ان دونوں ممالک کا 9 مئی کے مجرموں کو سزا دینے کے حوالے سے بیان جو پاکستان کے آئین اور قانونی عمل کے خلاف ہے مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ برطانیہ اور امریکا چونکہ دنیا کی بڑی طاقتیں ہیں اور اپنے آپ کو انسانی حقوق کی چیمپئین قرار دیتی ہیں مگر حالات اس کے برعکس ہیں کیونکہ یہ انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کرنے والے اسرائیل کی حمایتی ہیں اور اسے فلسطینی بچے بچیوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے کے لئے اسلحہ سپلائی کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ مگر بات جب پاکستان کی داخلی خودمختاری یا سیکورٹی کی آتی ہے تو انہیں انسانی حقوق یاد آ جاتے ہیں۔ پاکستان نے کبھی بھی ان دونوں ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش نہیں کی۔ چاہے ان ممالک میں لوگوں کو سزائیں سول عدالتیں دیں یا فوجی عدالتیں سنائیں۔ ذیل میں ہم برطانیہ اور امریکہ میں سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں صرف چند مشہور مقدمات کی تفصیل بیان کرتے ہیں جو ان کے اپنے ممالک میں چلائے گئے۔ برطانیہ کی تاریخ کو دیکھیں تو ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سویلین افراد کو مخصوص حالات میں فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا، جیسے دوسری جنگ عظیم (1939-1945) کے دوران جاسوسی یا دشمن کے ساتھ تعاون کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔
اس دوران برطانیہ نے بعض سویلینوں کو فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کروایا کیونکہ ان پر جاسوسی یا دشمن کے ساتھ تعاون کے الزامات تھے۔ ایک اور مثال آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) کے حملوں کی ہے، جہاں کچھ مقدمات سول عدالتوں میں چلائے گئے، لیکن بعض مخصوص حالات میں جیسے فوجی تنصیبات پر حملے، سویلینوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں منتقل کیے گئے۔اسی طرح انگلینڈ میں کورٹ مارشل عام طور پر فوجی اہلکاروں کے مقدمات سنتا ہے لیکن بعض اوقات سویلینز کے مقدمات بھی ان عدالتوں میں چلائے گئے ہیں۔ ایک اہم مثال ڈونلی کیس (1940)کی ہے جسے وہاں فورسز کو روکنے کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے اپنی زمین کو فوجی مقاصد کے لیے خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح، برڈن کیس (1959) میں ایک شہری پائلٹ برنارڈ برڈن پر بغیر اجازت فوجی طیارہ اڑانے کے الزام میں کورٹ مارشل کیا گیا۔ ایک اور اہم کیس R v. ’’میننگ‘‘ (2013) ہے، جس میں پرائیویٹ فرسٹ کلاس بریڈلی میننگ (اب چیلسا میننگ)کو خفیہ دستاویزات افشا کرنے کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا اور اس مقدمے میں کچھ سویلین گواہوں نے بھی گواہی دی۔ اس کے علاوہ، السویڈی انکوائری (2014) میں برطانوی فوجیوں کی جانب سے عراقی شہریوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کی گئیں، حالانکہ یہ روایتی کورٹ مارشل نہیں تھا مگر اس میں سویلین گواہوں اور الزامات کو شامل کیا گیا۔ برطانیہ خود اپنی قانونی کارروائیوں میں اسی قسم کی سختیوں کا شکار رہا ہے۔29جولائی 2024 ء کو ساتھ پورٹ میں ہونے والے نسلی فسادات کے بعد برطانیہ نے نہ صرف 200 سے زائد افراد کو سزا دی بلکہ تین کم سن بچوں کو بھی سزا دے دی جنہوں نے سوشل میڈیا پر فسادات کے حوالے سے الزامات عائد کیے تھے۔ ان افراد کو فوری طور پر جیل بھیج دیا گیا۔ایک 26 سالہ شخص کو ہوٹلز اور قانونی فرموں کو جلانے کی ترغیب دینے پر تین سال دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ پاکستان نے اس کریک ڈان پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کی مدد کی تاکہ جعلی خبریں پھیلانے والے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ان کے مقدمات پر نہ تو کسی بیرونی ملک نے اعتراض کیا ،نہ ہی ان کی قانونی کارروائی پر سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی انسانی حقوق کا رونا رویا گیا۔
اب یہاں کچھ اہم امریکی مقدمات ہیں جن میں شہریوں یا فوجی اہلکاروں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیاعمر خدھر(2010)کینیڈین شہری پر افغانستان میں کم عمری میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر امریکی فوجی کمیشن نے مقدمہ چلایا۔بنیام محمد (2008) ایتھوپیا کے شہری پر القاعدہ کے ساتھ سازش کرنے پر امریکی فوجی کمیشن میں مقدمہ چلا ۔سلیم حمدان (2008) یمنی شہری اور اسامہ بن لادن کا سابق ڈرائیور تھا جس پر امریکی فوجی کمیشن نے دہشت گردی کی حمایت کرنے پر مقدمہ چلایا تھا۔علی البہلول (2008)یمنی شہری کو القاعدہ کے ساتھ سازش کرنے پر امریکی فوجی کمیشن میں مقدمہ چلایا کر سزا سنائی گئی۔نور عثمان محمد (2011) سوڈانی شہری پر دہشت گردی کی حمایت کرنے پر امریکی فوجی کمیشن نے مقدمہ چلایا۔ابراہم القوسی (2010) سوڈانی شہری پر بھی دہشت گردی کی حمایت کرنے پر امریکی فوجی کمیشن نے مقدمہ چلایا۔چیلسیا مینگنگ (2013) امریکی فوجی سپاہی کو خفیہ دستاویزات افشا کرنے پر کورٹ مارشل کیا گیا۔میجر نیدال حسن (2013) امریکی فوجی سپاہی پر 2009ء کے فورٹ ہوڈ شوٹنگ پر کورٹ مارشل نے مقدمہ چلایا۔یہ تمام مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سویلین افراد کے مقدمات عموما غیر معمولی حالات میں ہی فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اس کے آئین کے مطابق فوجی عدالتوں کا عمل مکمل طور پر جائز ہے اور اس پر بیرونی ممالک کی مداخلت غیر منطقی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے آئینی نظام کا دفاع کیا ہے اور برطانیہ یا امریکہ کے داخلی معاملات میں مداخلت کو مسترد کیا ہے۔
دنیا کے ہر ملک کا قانونی نظام اپنے مخصوص حالات کے مطابق ہوتا ہے اور ہر ملک کو اپنے آئینی حقوق میں خودمختاری حاصل ہے، اس لئے برطانیہ، امریکہ یا دوسرے ممالک کو اپنے داخلی معاملات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور پاکستان کے آئینی اور قانونی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔پاکستان کا آئین اور قانونی نظام مکمل طور پر آئینی اور شفاف اور عوامی مینڈیٹ یعنی پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہے اور اس پر کسی بھی بیرونی ملک کا اعتراض بالکل غیر منطقی ہے۔ 9مئی 2023ء کے بعد سے اس دن کے مجرم انصاف کے منتظر تھے اور ڈیڑھ سال بعد ان کے مقدمات اختتام کو پہنچ رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے نظرئیے اور فوجی تنصیبات کا یہ اہم ترین اور ارجنٹ نوعیت کا کیس عدالتی نظام کی سست روی کے باعث ڈیڑھ سال تک لٹکتا رہا ۔ پاکستان کے آئین کے تحت، فوجی عدالتوں میں مقدمات کا جائز عمل مکمل طور پر قانونی ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا اعتراض کرنا مناسب نہیں۔دنیا کے ہر ملک کے قوانین اور اس کے قانونی عمل وہاں کے مخصوص حالات اور زمینی حقائق کے مطابق ہوتے ہیں۔ پاکستان میں فوجی عدالتوں میں مقدمات کا عمل آئینی طور پر جائز ہے کیونکہ یہ براہ راست فوج اور فوجی تنصیبات پر حملے تھے۔ اس پر کوئی بھی بیرونی ملک اعتراض نہیں کرسکتا۔ امریکہ اور برطانیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے داخلی معاملات پر توجہ دیں اور انسانی حقوق کے حوالے سے غزہ اور فلسطین میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں۔ انہیں اسرائیل کو نسل کشی کے جرائم سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بالکل ناقابل قبول ہے۔پاکستان اپنی خودمختاری اور آئین کا بھرپور دفاع کرتا ہے اور کسی بھی بیرونی ملک کی غیر ضروری سیاسی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ خاص طور پر جب بات پاکستان کے داخلی معاملات کی ہو، جیسے کہ فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات، تو اس پر بیرونی ممالک کا مداخلت کرنا غیر مناسب اور غیر قانونی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بھی عموما سویلین افراد کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں، اور فوجی عدالتیں (کورٹ مارشل)صرف مخصوص حالات میں سویلین کے مقدمات سنتی ہیں۔ یہ فوجی عدالتیں عام طور پر جنگی حالات، فوجی تنصیبات پر حملوں یا جاسوسی کے الزامات کی صورت میں کارروائی کرتی ہیں۔ ان حالات میں سویلین افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں سننا ضروری ہوتا ہے تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں