تاریخ کے صفحات پر جب نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ایسے عظیم رہنمائوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی اور قوم کی ترقی کے لئے سنگ میل قائم کیے۔ ایک ایسا ہی رہنما سلطان صلاح الدین ایوبی تھا جس نے نہ صرف جنگوں میں اپنی بہادری کی دھاک بٹھائی بلکہ سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے بھی اہم اقدامات کیے۔ ان کا یہ وژن اور کام آج بھی عالمی تاریخ میں ایک سنہری مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔سلطان صلاح الدین ایوبی کا دور ایک نہایت اہم تاریخی دور تھا خصوصا جب انہوں نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کیا اور پھر اس علاقے کی تعمیر و ترقی کی جانب توجہ دی۔ انہوں نے سڑکوں کی مرمت اور نئے راستوں کی تعمیر کی تاکہ فوجی نقل و حرکت تیز ہو سکے اور تجارتی سرگرمیاں بہتر ہوں۔ ان سڑکوں نے نہ صرف فوجی مقاصد کو پورا کیا بلکہ عوامی فائدے کے لیے بھی ان کا اہم کردار تھا۔اسی طرح ان کے زیر نگرانی بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی بہتری نے مسلمانوں کی معیشت کو تقویت دی اور علاقے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔اگر ہم ماضی کو دیکھیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت کے حکمرانوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہ صرف سڑکوں کا جال بچھایا بلکہ معاشی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دار و مدار اس کے بنیادی ڈھانچے پر ہوتا ہے، اور اس بات کو سمجھتے ہوئے پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں بھی ملک میں سڑکوں کے جال کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری ہیں۔ شہباز شریف کا نام پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ان کے دور میں جو ترقیاتی اقدامات اٹھائے گئے ان میں سڑکوں کی تعمیر، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نے پاکستان کی معیشت کو نیا رخ دیا۔ 90 ء کی دہائی میں ان کے بڑے بھائی محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان میں روڈ نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ نظام کی بہتری کے لئے متعدد منصوبے شروع کیے گئے تھے جن میں موٹر ویز کی تعمیر اور ہائی ویز کے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا اثر نہ صرف ٹرانسپورٹ کے نظام پر پڑا بلکہ ملکی معیشت اور عوام کی زندگیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی۔
آج وزیر اعظم شہباز شریف کی نگرانی میں ان منصوبوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی قیادت میں متعدد نئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہو رہی ہے۔ ان میں سے ایک اہم منصوبہ اسلام آباد میں جناح ایونیو پر انڈر پاس کی تعمیر ہے۔ اس منصوبے کو ریکارڈ 42 دنوں میں مکمل کیا گیا جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹریفک کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس منصوبے کی تکمیل پر کہا کہ یہ ملک کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور اس کے اثرات پورے پاکستان پر پڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیں اسی طرح ترقی کرتی ہیں، شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہمیشہ مثبت نکلتا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں جو منصوبے جاری ہیں وہ اس بات کا غماز ہیں کہ ملک کی ترقی میں سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کا کردار کس قدر اہم ہے۔ ان کی قیادت میں اس سے قبل بھی کئی سڑکوں کی تعمیر اور اہم منصوبوں کی تکمیل ہوئی ہے جنہوں نے پاکستان کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور تجارتی روابط کو مضبوط کیا۔ شہباز شریف نے ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے جو تیز رفتاری دکھائی ہے، وہ قابل تحسین ہے اور اس سے ان کی قیادت کا اخلاص اور معیار واضح ہوتا ہے۔
نواز شریف کو پاکستان کے جدید موٹر ویز اور ہائی ویز کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دور میں سی پیک جیسے منصوبوں کا آغاز ہوا جنہوں نے پاکستان کے معیشتی روابط کو عالمی سطح پر مضبوط کیا۔ سی پیک کے تحت سڑکوں اور ہائی ویز کی تعمیر نے نہ صرف پاکستان کے دوسرے علاقوں کو آپس میں جوڑا بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو بھی مستحکم کیا۔ یہ منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہو رہے ہیں۔
نواز شریف کے دور میں پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھایا گیا جس سے نہ صرف عوام کی سفری سہولتیں بہتر ہوئیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ان منصوبوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط تجارتی راستہ فراہم کیا جو نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ان اقدامات کو آگے بڑھایا اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا۔ ان کی قیادت میں جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں وہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یقینا سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور یہ بات سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور سے لے کر آج تک کے رہنماں کی حکمت عملیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ان رہنمائوں نے نہ صرف اپنے وقت میں سڑکوں کی تعمیر کو اپنی ترجیحات میں رکھا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ یہ سڑکیں نہ صرف فوجی یا تجارتی مقاصد کے لئے ہوں بلکہ عوامی فلاح کے لئے بھی ان سے فائدہ حاصل کیا جائے۔اس تمام ترقی کا راز ان رہنماں کی دور اندیشی اور وژن میں چھپا ہوا ہے جو سمجھتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سڑکوں کا جال ہی ملک کی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی سے لے کر نواز شریف اور شہباز شریف تک ہر رہنما نے سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی ہے۔پاکستان میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرح آج بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو اپنے وژن سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں اور اس بات کا یقین ہے کہ یہ ملک مستقبل میں ایک عظیم اقتصادی طاقت بنے گا۔