آپریشن گولڈ سمتھ ایک خفیہ آپریشن تھا جس کا مقصد پاکستان کے جوہری پروگرام کی معلومات حاصل کرنا تھا۔ یہ آپریشن 1980 ء کی دہائی کے آخر یا 1990 ء کی دہائی کے آغاز میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی’’را‘‘کے ذریعے شروع کروایا گیا تھا۔ اس کا مقصد پاکستان کے جوہری پروگرام کی نشاندہی کرنا اور اس پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس کی تمام فنڈنگ برطانیہ کے گولڈ سمتھ خاندان نے کی تھی۔
آپریشن کا بنیادی مقصد پاکستان کے جوہری اثاثوں اور ایٹمی پروگرام کی تفصیلات تک پہنچنا تھا تاکہ بھارت کی حکمت عملی میں بہتری لائی جا سکے اور انٹرنیشنل فورمز پر پاکستان کے جوہری پروگرام کو ایک خطرہ کے طور پر پیش کیا جاسکے۔آپریشن گولڈ سمتھ میں پاکستانی جوہری سائنسدانوں، انجینئرز اور دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ تاہم، یہ آپریشن مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا اور اس کی تفصیلات اب بھی خفیہ ہیں۔اگرچہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر متعدد خدشات رہے ہیں، تاہم پاکستان نے اس پروگرام کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور اس کا ایٹمی پروگرام دنیا کے سامنے ایک حقیقت بن چکا ہے۔
اس پروگرام کی ناکامی کے بعد نوے کی دہائی کے درمیان میں پاکستان میں گولڈ سمتھ فیملی کے ذریعے اسی پروگرام کو چیلنج سمجھتے ہوئے دوبارہ شروع کیا گیا۔ مگر اس مرتبہ کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے ذریعے نہیں بلکہ فیملی ریلیشن شپ کے ذریعے اس پروگرام کو شروع کروایا گیا۔ برطانیہ کی متنازعہ کاروباری شخصیت سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی جمائما گولڈ سمتھ کی شادی پاکستانی کرکٹر عمران خان سے کروا دی گئی اور اس طرح یہ آپریشن سال 2023 ء عمران خان کی گرفتاری تک بڑی گرمجوشی سے چلتا رہا۔ عمران خان کی یہودی لابی میں شمولیت کی خبریں ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید جیسے پاکستان کے معروف دانشور ہ ہمیں تیس سال پہلے ہی دیتے رہے مگر اس وقت اس طرف کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔ بحر حال وقت گزرتا گیا اور آپریشن گولڈ سمتھ آہستہ آہستہ اپنے کامیابی کی منازل طے کرتا گیا۔ سال 2013 ء میں پاکستان مخالف تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے ساتھ خفیہ معاہدے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بنوا دی گئی اور پھر اس پروگرام کو عروج تب ملا جب سال 2018ء میں جوڈیشل ایکٹیویزم کے نام پر تیزی سے ترقی کرتے پاکستان کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو ایک جھوٹے مقدمے میں نا اہل کروا دیا گیا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں عمران خان کو پاکستان کا وزیر اعظم بنوا دیاگیا۔
اب گولڈ سمتھ مشن کا کام انتہائی آسان ہو چکا تھا۔ یہودی لابی جو معلومات چاہتی انہیں آسانی سے ملنا شروع ہو گئیں اور یہ ڈمی وزیر اعظم بیرونی اشاروں پر ناچتا رہا ، ایجنڈے کے عین مطابق یہ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا کام سرانجام دیتا رہا اور پاکستان پر اتنا قرض چڑھا کر پاکستان کے بچے بچے کو اتنا مقروض کر دیا کہ اللہ کی پناہ۔ اس شخص نے ملکی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کا ایک کام بھی نہ ہونے دیا بلکہ نواز شریف حکومت کے جاری تمام ترقیاتی کاموں کو بھی رکوا دیا۔ بیرونی آقائوں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے پی آئی اے کا بھٹہ بٹھا کر ایک غیر ملکی نجی ائیرلائن کو فائدہ پہنچایا گیا۔ اسی طرح ریلوے سمیت دیگر اداروں اور ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کا کام بھی تیزی سے جاری رکھا۔ یہاں تک کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا گیا۔
ساڑھے تین سال کے عرصے تک اس حکومت نے ہر وہ کام کیا کہ خدانخواستہ ملک ٹوٹنے کے قریب کر دیا گیا۔ خزانے میں صرف دو ڈھائی عرب ڈالر چھوڑ کر عملًا ملک کو دیوالیہ کر گیا۔ مگر اللہ کی ذات نے پاکستان کو بنایا ہی ہمیشہ قائم رہنے کے لئے ہے ، اسمبلی کے اندر سے اس شخص کے خلاف تحریک چلی اور اسے عدم اعتماد کر کے رخصت کر دیا گیا۔جس کے نتیجے میں یہ شخص اپنے حو ش و حواس کھو بیٹھا اور اہم ملکی رازوں سے بھی پردہ اٹھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پاکستان آرمی کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کروا دیا اور مختلف بین الاقوامی اداروں کو پاکستان کی مالی مدد روکنے کی اپیلیں کرنا شرو کر دیں۔حکومت سے نکلنے کے بعد بھی یہ شخص اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور اپنی فتنہ سیاست کے ذریعے عوام کو بھڑکانے میں مصروف رہا اور باہر بیٹھ کر بھی اپنے اقتدار کی حوس اور لاچ میں اس قدر اندھا ہوا کہ سانحہ 9 مئی کروا کر ملکی بنیادوں، ریاستی اداروں پر کاری ضرب لگائی۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد چونکہ گولڈ سمتھ آپریشن رک گیا اور اب وہ وقت ہے جب گولڈ سمتھ خاندان اپنے داماد کو بچانے کے لئے سرگرم ہو گیا ہے۔ داماد اس لئے لکھا کیونکہ جمائما گولڈ سمتھ کے بھائی زیک گولڈ سمتھ آج کے دن تک عمران خان کو اپنا سابق بہنوئی نہیں کہتے بلکہ اپنا موجودہ بہنوئی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان دشمن تمام با اثر افراد ، اداروں اور تھنک ٹینکس کے ذریعے پاکستان کی حکومت پر دبائو بڑھایا جا رہا ہے اور پاکستان آرمی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاکہ یہودیوں کے داماد کو رہائی دلوائی جا سکے۔
سیالکوٹ کے خواجہ آصف جو پاکستان کے وزیر دفاع بھی ہیں ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ اپنی زبان سے دشمنوں پر وہ نشتر چلاتے ہیں کہ مخالفین کی چیخیں آسمان تک سنائی دی جاتی ہیں۔ ایک روز قبل خواجہ آصف کا آپریشن گولڈسمتھ پر ٹویٹ کرنا ایک نیا تنازعہ بن گیا ہے۔ خواجہ آصف نے اس ٹویٹ میں آپریشن گولڈسمتھ کے حوالے سے کچھ اہم نکات اٹھائے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششیں جاری ہیں۔اس ٹویٹ کے بعد ایک اور حیران کن واقعہ پیش آیا جب مرچیں زیک گولڈسمتھ کو لگتی ہیں، اور اس پر امریکہ کے سابق سفیر اور گولڈ سمتھ خاندان کے قریبی رچرڈ گرینیل نے زیک گولڈسمتھ کی ٹویٹ کو فوری طور پر ریٹویٹ کیا، حالانکہ وہ اس ٹویٹ میں ٹیگ نہیں تھے۔ یہ حرکت عالمی سیاست میں موجود طاقتور حلقوں کے مداخلت کے شواہد فراہم کرتی ہے، جو پاکستان کے معاملات میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس واقعے کے بعد ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ شک باقی ہے کہ عالمی نظام نے اپنی حقیقت بے نقاب کر دی ہے؟ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر طاقتور ممالک پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز نہیں کرتے۔تاہم عمران خان کے سالا صاحب لندن میں خواجہ آصف کے طرز تخاطب سے ضرور متاثر ہوئے ہوں گے اور شاید وہ لندن کی سڑکوں پر یہ مشہور پنجابی گیت بھی گنگناتے ہوں !
تیرے مکھڑے دا کالا کالا تِل وے
میرا کڈھ کے لے گیا دِل وے
وے منڈیا سیالکوٹیا!