Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عالمی منافقت پر پاک فوج کا سیدھا جواب

دنیا میں انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے اکثر ممالک اور تنظیموں کا اصل چہرہ اس وقت بے نقاب ہوتا ہے جب ہم ان کے کردار کا موازنہ مختلف تنازعات اور مظالم کے تناظر میں کرتے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس نے اس منافقت پر روشنی ڈالی جو سانحہ 9 مئی پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی طاقتوں کی دوغلی پالیسیوں میں جھلکتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم بلکہ غزہ، شام، لیبیا اور دیگر خطوں میں جاری ظلم و بربریت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی کو بے نقاب کیا۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیری عوام کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں افراد جیلوں میں قید ہیں، خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور بے گناہ نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بجا فرمایا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مظالم پر خاموش ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی نے بھارت کو مزید حوصلہ دیا ہے، اور وہ کشمیر میں اپنے ظلم و ستم میں مزید اضافہ کرتا جا رہا ہے۔9 مئی کے سانحے میں پاکستان کے حساس عسکری مقامات اور قومی یادگاروں پر حملے کرنے والے ملزمان کو سزائیں دینے پر امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خوامخواہ کی تکلیف ہو رہی ہے۔ یہ مجرم نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ پاکستان کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینا عالمی منافقت کی واضح مثال ہے۔ یہ وہی ممالک اور تنظیمیں ہیں جو اپنے ہاں چھوٹے سے چھوٹے جرم پر سخت ترین سزائوں کی حمایت کرتی ہیں، لیکن جب بات پاکستان کی آتی ہے تو انسانی حقوق کے نام پر دوغلی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔غزہ میں اسرائیل کی بمباری نے وہاں کے معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جارحیت نے غزہ کے شہریوں کو نہ صرف جسمانی طور پر زخمی کیا بلکہ ان کے معاشی اور نفسیاتی حالات کو بھی ناقابل بیان حد تک متاثر کیا۔ اسرائیلی فوج نے نہ صرف فوجی اہداف بلکہ گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا۔ بچوں اور خواتین سمیت بے شمار معصوم لوگ اس بمباری کا شکار ہوئے ہیں، اور ان کا خون عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ظلم پر مکمل خاموش ہیں۔ وہ تنظیمیں جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، وہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت پر خاموش تماشائی بن کر بیٹھی ہیں۔ غزہ کے مظلوم عوام کی آہیں اور چیخیں ان کے لیے صرف ایک عبوری خبر بن کر رہ جاتی ہیں، اور جب تک یہ ظلم کسی اور خطے میں نہیں ہوتا، ان تنظیموں کا ردعمل صفر رہتا ہے۔
شام میں لاکھوں افراد مارے گئے، بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں، لیکن عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ظلم پر کوئی واضح اور موثر موقف اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس، جب کسی اور خطے میں تھوڑی سی بھی غیر مستحکم صورتحال پیش آتی ہے تو ان طاقتوں کی فریاد آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ لیبیا میں بھی بیرونی مداخلت اور خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، اور اس کی قیمت نہ صرف اس ملک کے عوام نے چکائی بلکہ پورے شمالی افریقہ کو عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن عالمی برادری کا ردعمل ہمیشہ عارضی اور مفاد پر مبنی رہا، جس سے ان خطوں میں انسانی حقوق کی پامالی کو تقویت ملی۔
بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ عالمی ضمیر کے لیے ایک چیلنج ہے۔ بابری مسجد کی شہادت سے لے کر دہلی فسادات اور حالیہ دنوں میں سکھوں کے قتل تک، بھارت میں اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ انسانی حقوق کی حمایت کی ہے اور دنیا کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف ہمیشہ اصولی اور واضح رہا ہے کہ کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ اسی طرح پاکستان نے فلسطین کے مسئلے پر بھی واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے۔دنیا کو دوہرے معیار سے نکل کر ایک منصفانہ نظام اپنانا ہوگا جہاں انسانی حقوق کے قوانین کا اطلاق تمام ممالک اور اقوام پر یکساں ہو۔ اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سیاسی مفادات کے بجائے انسانی قدروں کو مقدم رکھنا ہوگا۔پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید موثر بناتے ہوئے ان مظلوموں کی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچانی چاہیے۔ خاص طور پر کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو عالمی فورمز پر اٹھانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں