پاکستان میں ’’خواتین‘‘ کے حقوق کے نام پر چورن بیچنے والی این جی اوز تو بہت ہیں،میرا جسم میری مرضی والیوں کا بدبودار ایجنڈا بھی اپنے جوبن پہ ہے، خواتین کے حقوق کی آ ڑ لینے والے یورپ کے دسترخوانی راتب خوروں نے پاکستان کی عفت مآب خواتین کو برائیلر مرغیوں سے زیادہ کمزور مشہور کر رکھا ہے،حالانکہ یہ بات غلط ہے،دین اسلام مسلمان مردوں کی طرح مسلمان خواتین کو بھی دلیر، بہادر اور شجاع بننے کی ترغیب دیتا ہے،خواتین کے حقوق کی آڑ میں میرا جسم میری مرضی اینڈ کمپنی اگر پاکستانی خواتین پر یورپ زدہ بے حیائی اور فحاشی کا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کرے گی، تو اس خاکسار کی صحافتی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کی عزت مآب خواتین کے سامنے اسلام کی ان پاکباز شہزادیوں کے مستند بہادرانہ کارناموں کا تذکرہ کر کے ان سے اپیل کرے کہ وہ اپنے مقام کو پہنچا نیں،اور خواتین کے حقوق کے نام پر چورن بیچنے والے ’’جیب کتروں‘‘کے ناپاک ایجنڈے سے بچنے کی کوشش کریں، سیدناضرار بن ازور ایک ایسے مرد جری تھے اور شہ سوار تھے کہ لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے تھے تو ان کے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور ان کے آگے لاشیں۔ اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کی صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ان کی بہادری پر بے شمار مرتبہ حضرت خالد بن ولید کو تعریف کرنے اور انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔
ملک شام میں رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے فلسطین کے قریب جنگِ اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرار حسب معمول میدان میں اترے اور صف آرا دشمن فوج پر طوفان کی طرح ٹوٹ پڑے اتنی تیزی اور بہادری سے لڑے کہ لڑتے لڑتے دشمن فوج کی صفیں چیرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے بچھڑ کر دشمن فوج کے درمیان تک پہنچ گئے۔ دشمن نے انہیں اپنے درمیاں دیکھا تو ان کو نرغے میں لے کر بڑی مشکل سے قید کر لیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓنے اپنی فوج کے بہادر نوجوانوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ضرارؓ کو آزاد کروانے کے لئے ہدایات دینے لگے۔ اتنے میں انہوں نے ایک نقاب پوش سوار کو دیکھا جو گرد اڑاتا دشمن کی فوج پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے۔ اس سوار نے اتنی تند خوہی اور غضب ناکی سے حملہ کیا کہ اس کے سامنے سے دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ حضرت خالدؓ اس کی شجاعت دیکھ کر عش عش کر اٹھے اور ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ سوار کون ہے؟ سب نے لاعلمی ظاہر کی کہ وہ نہیں جانتے۔ حضرت خالدؓ نے جوانوں کو اس سوار کی مدد کرنے کو کہا اور خود بھی مدد کرنے اس کی جانب لپکے۔گھمسان کی جنگ جاری تھی کبھی حضرت خالد بن ولیدؓ اس سوار کو نرغے سے نکلنے میں مدد کرتے اور کبھی وہ سوار حضرت خالدؓ کی مدد کرتا۔ حضرت خالدؓ اس سوار کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کے پاس گئے اور پوچھا کون ہو تم؟ اس سوار نے بجائے جواب دینے کے اپنا رخ موڑا اور دشمنوں پر جارحانہ حملے اور وار کرنے لگا موقع ملنے پر دوسری بار پھر حضرت خالدؓ نے پوچھا اے سوار تو کون ہے؟ اس سوار نے پھر جواب دینے کی بجائے رخ بدل کر دشمن پر حملہ آور ہوا تیسری بار حضرت خالدؓ نے اس سوار سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ اے بہادر تو کون ہے؟ تو نقاب کے پیچھے سے نسوانی آواز آئی کہ میں ضرار کی بہن خولہ بنت ازور ؓہوں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک اپنے بھائی کو آزاد نہیں کروا لیتی۔ حضرت خالدؓنے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا تو کہنے لگی آپ نے منع کر دینا تھا۔ حضرت خالدؓ نے کہا آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی ہم تھے آزاد کروانے کے لیے تو حضرت خولہ ؓنے جواب دیا کہ جب بھائیوں پر مصیبت آتی ہے تو بہنیں ہی آگے آیا کرتیں ہیں۔ پھر مسلمانوں اور حضرت خولہ نے مل کر حضرت ضرارؓ کو آزاد کروا کر دم لیا۔
حضرت ضرارؓ والے واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد شام کے عیسائیوں نے اپنے ایک کمانڈر بولص اور اس کے بھائی بطرس کی قیادت میں مسلمانوں کے ایک چھوٹے لشکر پر حملہ کرکے کچھ مسلمان خواتین کو گرفتار کرلیا، جن میں حضرت خولہؓ بھی شامل تھیں۔گرفتار شدہ عورتیں قبائل عرب سے مقابلہ کرنے کی خوگر اورعادی تھیں۔ یہ سب عظیم اور غیرت مند خواتین آپس میں جمع ہوئیں اور حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا نے انہیں مخاطب کرکے کہا:حمیر کی بیٹیو!اور اے قبیلہ تبع کی یادگارو! کیا تم اس بات پر رضا مند ہو اور یہ چاہتی ہو کہ رومی کافر اور بے دین تم پر غالب آجائیں؟ تم ان کی لونڈیاں، باندیاں بن کر رہو۔ کہاں گئی تمہاری وہ شجاعت اور کیا ہوئی تمہاری وہ غیرت جس کا چرچا عرب کی لونڈیوں میں اور جس کا ذکر عربی مجلسوں میں ہوا کرتاتھا؟ ۔ میرے نزدیک اس آنے والی مصیبت سے تمہارا قتل ہوجانا بہتر اور رومیوں کی خدمت کرنے سے مرجاناافضل ہے۔یہ سن کر عفیرہ بنت عفار حمیریہ نے کہا:اے بنت ازور!تم نے ہماری شجاعت وبراعت، عقل ودانائی، بزرگی اور مرتبہ کے متعلق جو کچھ بیان کیا، وہ واقعی سچ ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہمیں گھوڑے کی سواری کی عادت ہے اور دشمن کا رات کے وقت بھی قافیہ تنگ کردینا آتا ہے۔ مگر یہ تو بتلائیے کہ جو شخص نہ گھوڑا رکھتا ہو، نہ نیزہ، اس کے پاس کوئی ہتھیار ہو نہ تلوار ، ایسا شخص کیا کرسکتاہے؟ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں دشمن نے اچانک گرفتار کرلیا۔ ہمارے پاس اس وقت کوئی سامان نہیں، ہم بکریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے پھر رہے ہیں۔یہ سن کر حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا،قبیلہ تبایعہ کی بیٹیو!خیموں کی لکڑیاں اور ستون تو موجود ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم انہیں اٹھا اٹھا کر بدبختوں پر حملہ آور ہوں۔ ممکن ہے کہ ارحم الراحمین ہماری مدد کریں اور ہم غالب آجائیں۔ ورنہ کم از کم شہید ہی ہو جائیں تاکہ یہ کلنک کا ٹیکہ تو ہماری پیشانیوں پر نہ لگنے پائے۔اس کے بعد ہر ایک عورت نے خیمہ کی ایک ایک لکڑی اٹھائی۔ حضرت خولہ بنت ازورؓ خود بھی کمر باندھ کر ایک بڑی سی لکڑی کاندھے پر رکھ کر آگے ہوئیں۔ حضرت خولہؓ نے اپنی اس نسوانی فوج کو مخاطب کیا اگر تم کمزور ہوگئیں تو یاد رکھنا تمہارے سینوں کو نیزے توڑ دیں گے اور تمہاری گردنوں کو تلواریں کاٹ ڈالیں گی۔ تمہاری کھوپڑیاں اڑ جائیں گی اور تم سب یہیں ڈھیر ہو کر رہ جائو گی۔یہ کہہ کر آپ نے قدم بڑھایا اور ایک رومی کے سر پر اس زور سے لکڑی ماری کہ وہ زمین پر گر پڑا اور مرگیا۔ رومیوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جیسے ہی کوئی شخص ان کے قریب پہنچتا تھا یہ پہلے لکڑیوں سے اس کے گھوڑے کے ہاتھ پیر توڑ دیتی تھیں اور جس وقت وہ سوار الٹے منہ گرتا تھا تو ضربیں مار مار کر اس کا سر توڑ دیتی تھیں، اس لئے ان تک کوئی نہ پہنچ سکا۔ان بہادر خواتین نے اسی طرح تیس سوار موت کے گھاٹ اتاردیئے۔ بطرس یہ دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا۔ گھوڑے سے نیچے اترا اور اس کے ساتھ اس کے ہمراہی بھی پیدل ہوگئے۔ پھر وہ سب نیزے اور تلواریں لے کر خواتین اسلام کی طرف بڑھے۔ خواتین آپس میں ایک دوسرے کی طرف لپکیں اور آپس میں کہنے لگیں،ذلت کی زندگی سے عزت کے ساتھ مرجانا بہت زیادہ افضل ہے۔حضرت خولہ بنت ازورؓکی طرف اس نے دیکھا جو ایک شیرنی کی طرح دوڑ رہی تھیں۔ بطرس یہ سن کر غصہ میں بھر گیا اور ساتھیوں سے کہنے لگا کہ تمام ملک شام اور گروہ عرب میں اس سے زیادہ اور کیا شرم کی بات ہوگی کہ عورتیں تم پر غالب آجائیں۔ یسوع مسیح اور بادشاہ ہرقل کے خوف سے ڈرو اور انہیں قتل کردو۔رومی یہ سن کر جوش میں آگئے اور سب نے مل کر خواتین پر یک لخت حملہ کردیا۔ خواتین اس شدید حملہ کو صبر و استقامت سے برداشت کر رہی تھیں، اور داد شجاعت دیتے ہوئے بہادری سے لڑتی رہیں کہ اسی دوران انہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ اور ان کے لشکر کو دیکھا جو گرد وغبار اڑاتا ہوا اب ان کے قریب پہنچ چکا تھا۔ مجاہدین کی تلواریں چمکتی ہوئی خواتین کو نظر آرہی تھیں۔حضرت خالد بن ولید ؓکے لشکر نے حملہ کرکے اپنی بہادر بہنوں کو چھڑا لیا، اور پھر حضرت ضرار ابن ازور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دشمن کے سپہ سالار بطرس پر ایسا شدید اور بہادری کے ساتھ حملہ کیا اور اس کو جہنم رسید کر دیااللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بھی اور تمام مسلمانوں کو بھی اسی طرح کی شجاعت اور بہادری نصیب فرمائے ۔(آمین ثم آمین)