سویت یونین کی افغانستان پر جارحیت کے حوالے سے امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ ’’45سال قبل 1979ء کو سابق سوویت یونین کی سرخ افواج نے اپنے چند کٹھ پتلیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا۔یہ وہ وقت تھا جب افغان عوام کے دین، آزادی، خوش حالی اور اجتماعی امن و سکون کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔‘‘الحمدللہ افغان بہادر قوم اس جارحیت کے خلاف خاموش نہ رہی، بلکہ بہ یک آواز و اتحاد اور بہادری کے ساتھ سرخ افواج کے مقابلے میں ڈٹ گئی۔ انہوں نے جہاد کے راستے میں اپنی جان، مال اور ہر قیمتی چیز قربان کر دی۔افغان عوام کی قربانیوں، ہجرتوں، شہادتوں اور جہادی محنتوں کے نتیجے میں، اللہ جل جلالہ کی نصرت سے 9سال بعد وہ دن آیا جب غرور و نخوت سے سر شار انہی سرخ افواج کو افغانستان میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ شرمندگی کے ساتھ یہاں سے فرار ہو گئیں۔یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان عوام اپنے دین سے محبت کرنے والے، آزادی اور خودمختاری کو اہمیت دینے والے اور اپنی عقیدے کے دفاع میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہ باعزت قوم ہمیشہ دین پر قائم، متحد اور سربلند رہے گی، امارت اسلامیہ 26 دسمبر 1979 ء کی سوویت یونین کی جارحیت کی مذمت کرتی ہے اور اس کے خلاف افغان عوام کے جہاد اور قربانی پر فخر کرتی ہے۔ اس موقع پر سوویت قبضے سے آزادی اور جہاد کی راہ میں قربان ہونے والے تمام شہداء کے لئے جنت میں اعلیٰ درجات اور زخمیوں اور معذوروں کے لیے اجر عظیم کی دعا کرتی ہے۔
امارت اسلامیہ اپنے آئندہ نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے دین اور وطن کے دفاع کی راہ میں اپنے اسلاف کے راستے پر چلیں اور ہر قسم کی جارحیت اور ظلم کے خلاف بہادری سے ڈٹ جائیں۔ سوویت یونین 45 سال قبل 27 دسمبر 1979 ء کو افغانستان پر حملہ آور ہوا ، جس کے خلاف افغان عوام نے لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کی اور سوویت افواج کے خلاف برسرپیکار رہے جس میں 15لاکھ افغان عوام شہید، لاکھوں زخمی اور لاکھوں ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، جبکہ سوویت افواج کے 14ہزار سے زائد فوجی اور 195بڑے کمانڈر ہلاک، ہزاروں فوجی زخمی ہوئے، نیز ان کے ہزاروں ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ دس سال کی گھمسان لڑائی کے بعد روس نے افغانستان سے فوجی انخلا کا آغاز کیا، اور 15فروری 1989 ء کو افغانستان سے اپنا آخری فوجی دستہ واپس بلایا، یہ فیصلہ میخائل گورباچوف نے کیا تھا، جو اس وقت کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری تھے اور اسے آج بھی سراہا جاتا ہے۔افغانستان کی تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور رہی ہے۔ اس پر تین بار برطانوی سامراج نے فوج کشی کی اور ہر بار انہیں شکست ہوئی، جب انگریز سامراج نے 16ویں صدی میں برصغیر پر قبضہ جمایا تو اس نے 1839 ء میں افغانستان پر کوئٹہ،قندھار کے راستے حملہ کیا اور 1942ء تک جاری رہنے والی لڑائی میں انگریز افواج کو شکست ہوئی۔ پھر 36برس کے بعد دوسری بار انہوں نے 1878ء میں افغانستان پر حملہ کیا اور ایک سال کی قلیل مدت میں انہیں دوسری مرتبہ شکست سے دوچار ہونا پڑا، اور 1919 ء میں انہوں نے تیسری مرتبہ افغانستان پر حملہ کیا، تاہم اس بار بھی انہیں ہزیمت اٹھانا پڑی اور افغانستان ہمیشہ کے لئے ان کی یلغار سے محفوظ ہوا۔ 1919ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد امان اللہ خان افغانستان کے حکمران بنے اور 8 برس کے بعد 1927ء میں ملک چھوڑ کر یورپ چلے گئے۔ 1929ء میں نادرشاہ ملک کے حکمران بنے، اور 1933 ء میں ان کو قتل کرنے کے بعد ان کے صاحبزادے ظاہرشاہ نے اقتدار سنبھالا اور 1973ء تک حکومت کی۔ یہ عرصہ ملک کے لئے نیک شگون سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس دوران ملک بھی پرامن رہا اور کسی بیرونی قوت نے بھی ملک پر جارحیت نہیں کی۔ 1973 ء میں سردار محمد داود خان صدر بن گئے اور پانچ سال تک حکمران رہے۔ 24 اپریل 1978 ء کو کمونسٹ پارٹی کے رہنما نور محمد ترکی نے فوجی بغاوت کے ذریعے صدر داود خان کو شہید کرکے اقتدار پر قبضہ جمایا۔ وہ ڈیڑھ سال تک منصب صدارت پر فائز رہے تاہم کچھ عرصہ بعد حفیظ اللہ امین کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ رہے اور 14 ستمبر 1979ء کو ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 9 اکتوبر 1979 ء کو انہیں قتل کر دیا گیا اور ان کی ہلاکت کے بعد حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کیا۔
حفیظ اللہ امین نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اس لئے روس ان پر اعتماد نہیں کرتا تھا اور ان کے اقتدار کے تین ماہ بعد 27دسمبر 1979ء کو سوویت افواج نے افغانستان پر یلغار کی اور حفیظ اللہ امین کو قتل کرکے ببرک کارمل کو ملک کا صدر بنایا۔ روسی افواج، کمیونسٹ حکومت کی مدد کو پہنچی تھیں اور اپنے 14ہزار فوجی جوان گنوا بیٹھی، اس تنازع نے سوویت یونین کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔1989 ء میں سوویت افواج کے انخلا کے بعد ڈاکٹر نجیب بدستور برسراقتدار رہے جن کے خلاف بھی مجاہدین نے مزاحمت جاری رکھی اور 1992ء میں ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا، مگر بدقستمی سے پھر مجاہدین آپس میں لڑ پڑے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور لاقانونیت اور انارکی کی کربناک صورتحال پیدا ہوئی، جس کے خلاف امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے علم جہاد بلند کیا اور قندہار سے اسلامی تحریک کا آغاز کیا، جس نے ہرات تک فتوحات حاصل کیں اور پھر مشرق کی طرف پیش قدمی کی، افغان عوام نے ہر صوبے میں ان کا استقبال کیا اور 1996 ء میں کابل کو بھی فتح کرکے امارت اسلامیہ کے نام سے اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ ملک کے 95 فیصد رقبے پر کنٹرول حاصل کیا اور ایک مثالی اسلامی حکومت قائم کی۔آخرکار امریکہ نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر 7اکتوبر 2001ء کو افغانستان حملہ کیا اور بیس برس تک کامیابی حاصل کرنے کی امید پر جنگ لڑی، جب مایوس ہوا تو مذاکرات کے ذریعے 29 فروری 2020 ء کو دوحہ معاہدے کے بعد فوجی انخلا کا آغاز کیا اور 31 اگست 2021 ء کو آخری فوجی کابل سے نکالا۔ یوں ایک صدی میں تین سپرپاورز انگریز، سوویت اتحاد اور امریکہ سمیت نیٹو کو افغان عوام نے شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان عوام ملک کے سچے وفادار ہیں اور ملک کی آزادی کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ افغانستان نصف صدی کے بحرانوں سے نکل گیا ہے اور امارت اسلامیہ کی پالیسی لاضرر و لاضرار پر مبنی ہے۔ مستحکم افغانستان پڑوسی ممالک سمیت خطے کے مفاد میں ہے جس پر امارت اسلامیہ کے حکام بار بار تاکید کرتے ہیں۔