امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک سنسنی خیز رپورٹ نے بھارتی حکومت کی سرپرستی میں دنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اس رپورٹ نے بھارت کے ان غیرقانونی اور انسانیت سوز اقدامات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے، جنہیں وہ برسوں سے خفیہ طور پر انجام دیتا آ رہا تھا۔ انڈیا اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور یہاں پانچ چھ آزادی کی تحاریک چل رہی ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ سے پہلے ہم جائزہ لیتے ہیں کہ بھارت میں کہاں کون کون سی آزادی کی تحاریک چل رہی ہیں۔انڈیا میں مختلف علیحدگی پسند تحریکیں مختلف تاریخی، سیاسی، اور ثقافتی وجوہات کی بنا پر موجود رہی ہیں۔ ان تحریکوں کا مقصد بھارت سے علیحدگی یا ریاستوں کی خودمختاری میں اضافہ ہے۔ بھارت میں اہم علیحدگی پسند تحریکوں کی مثالیں کچھ یوں ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک طویل مدتی تنازعہ ہے۔ کشمیری عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھارت سے علیحدگی کی حمایت کی ہے، خاص طور پر 1947 ء کے بعد جب کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ ہوا۔ کشمیری علیحدگی پسند گروہ جیسے جے کے ایل ایف (جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ)، جے کے پی ایف (جموں و کشمیر پروگریسو فرنٹ) اور حزب المجاہدین نے بھارت سے آزاد کشمیر کے قیام کی تحریک چلائی ہے۔ یہ تحریکیں بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر میں فوجی آپریشنز اور آزادی کے حق میں کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کرتی ہیں۔شمال مشرقی بھارت کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں جن میں نیکالیا اور میزو رام کی تحریکیں شامل ہیں۔ میزو قوم کی علیحدگی پسند تنظیم Mizo National Front (MNF) نے 1960 ء کی دہائی میں میزو رام کے بھارتی یونین سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطالبات میں مکمل آزادی یا ایک خودمختار ریاست کی تخلیق شامل تھی۔ بعد میں 1986 ء میں میزو رام کے ساتھ امن معاہدہ ہوا جس کے تحت یہ ریاست بھارت کا حصہ بنی۔نکسلیٹ تحریک بھارت کے مختلف حصوں میں پھیل گئی ہے، خاص طور پر مغربی بنگال، اوڈیشا، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں۔ نکسلی تحریک کا آغاز 1967 ء میں مغربی بنگال کے نکسل باری علاقے سے ہوا تھا۔ یہ تحریک زیادہ تر کسانوں کے حقوق، زمین کی تقسیم، اور بھارت میں موجود طبقاتی فرق کے خلاف ہے۔ نکسلی دہشت گرد تنظیم CPI (Maoist) کے رہنما چمپا رام کے مطابق، اس تحریک کا مقصد بھارتی حکومت کے خلاف ایک مسلح جدوجہد ہے۔تامل ناڈو میں علیحدگی پسند تحریک کا آغاز 1940 ء کی دہائی میں ہوا تھا جب تمل قوم پرستی کے علمبرداروں نے تامل ناڈو کو بھارت سے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس تحریک کو تمل تائیوا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، تامل ناڈو میں ایل ٹی ٹی ای(تمل ایلاہم کی آزادی کے لیے تنظیم) کی تحریک بھی تھی، جو سری لنکا میں تملوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی تھی۔ ان تحریکوں میں کچھ قوتوں کا بھارت کی سیاسی اور ثقافتی آزادی سے الگ ہونے کا مطالبہ تھا۔پنجاب میں خالصتان کی تحریک 1980 ء کی دہائی میں ایک علیحدہ سکھ ریاست کے قیام کے لیے شروع ہوئی تھی۔ سکھ قوم کے کچھ گروہ بھارت سے علیحدہ ہونے اور خالصتان کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کرنے کے خواہشمند تھے۔ اس تحریک کا آغاز بی بے سنگھ اور پرامندر سنگھ جیسے رہنمائوں سے ہوا تھا، اور اس میں بھارتی حکومت کے ساتھ کشیدگیاں اور خونریزی شامل تھیں۔ اس تحریک کی شدت 1984 ء کے آپریشن بلیو اسٹار کے بعد بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں سکھوں کے مذہبی مقام ہرمندر صاحب (امرتسر) پر بھارتی فوج کی کارروائی کی گئی تھی۔آسام میں بھی علیحدگی پسند تحریکیں رہی ہیں، جن میں آسام اسٹوڈنٹس یونین کا اہم کردار رہا ہے۔
1980 ء کی دہائی میں آسام میں کئی علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہوئے، جن میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام شامل ہے۔ ان کا مطالبہ آسام کی مکمل خودمختاری اور علاقے کے قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کا کنٹرول تھا۔ان تحریکوں کا حل بھارتی حکومت کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے مگر انڈیا ان سب پر دنیا کی آنکھیں بند رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں اپنی شر پسندی اور دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں براہ راست ملوث ہے۔ بھارتی ایجنسیوں کی پشت پناہی سے چلنے والے قاتلوں نے پاکستان میں کئی افراد کو نشانہ بنایا، جن میں چھ بڑی ٹارگٹ کلنگز کی تفصیلات رپورٹ میں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھی ماورائے عدالت قتل میں ملوث پایا گیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے ان ممالک میں سکھ علیحدگی پسند رہنمائوں کو نشانہ بنایا۔امریکا میں “را” کے ایک افسر کاوش یادیو نے نیویارک میں ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما پر قاتلانہ حملے کی ہدایات جاری کیں۔ کینیڈا میں بھی بھارتی ایجنسیوں نے سکھ رہنمائوں کے قتل کے کئی واقعات کو انجام دیا، جنہیں وہاں کی حکومت اور سکیورٹی ادارے پہلے ہی بے نقاب کر چکے ہیں۔ کینیڈین حکام نے بھارت کے ان دہشت گردانہ اقدامات کی تفصیلات فراہم کی ہیں، جن میں بھارتی سفارتکار اور ’’را‘‘ کے اہلکار براہ راست ملوث پائے گئے۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے بھارتی حکومت پر سنگین الزامات کے بعد یہ رپورٹ مزید مستند اور اہم ہو گئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بھارت کے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بھارت نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے مختلف ممالک میں مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے ہر ممکن حربے آزمائے ہیں۔ چاہے وہ ٹارگٹ کلنگ ہو، ماورائے عدالت قتل، یا سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش، بھارت کے اقدامات ایک واضح خطرہ ہیں۔یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نے اپنے مفادات کے لیے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔ بھارت کا رویہ ایک غیر ذمہ دار ریاست کا ہے جو نہ صرف اپنے ہمسایہ ممالک بلکہ دنیا بھر میں امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک کھلی آنکھ ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو بھارت کی ان سرگرمیوں کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ اگر بھارت کے ان اقدامات کو روکا نہ گیا تو یہ مستقبل میں مزید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔اس رپورٹ کے بعد پاکستان کا مقف مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ریاست ہے جو اپنے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک لمح فکریہ ہے کہ وہ بھارت کی دہشت گردانہ پالیسیوں کے خلاف موثر اقدامات کرے اور دنیا میں امن و امان کو یقینی بنائے۔ بھارت کی یہ دہشت گردانہ پالیسی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔