ختم بخاری اور دوپٹہ پوشی کی تقریب سعید میں شمولیت اس خاکسار کے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی، لیکن اس تقریب کے دعوت نامے پر مہمان خصوصی کا نام نہ تھا،اس خاکسار نے شیخ الحدیث مولانا شفیق خاں بستوی سے سوال کیا کہ تقریب ختم بخاری کا خصوصی مہمان کون ہو گا؟ فرمانے لگے کہ ہمارے ہاں ’’مہمان خصوصی‘‘ والا رواج کبھی نہیں رہا،نہ توہم جامعہ کی طالبات سے ایسی تقریبات کے انعقاد کے لئے فنڈز جمع کرتے ہیں اور نہ ہی اسے رسم بناتے ہیں،جا معہ میں زیر تعلیم بچیوں میں سے بعض ایسی بھی ہیں کہ جن کے والدین دس روپے خرچ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے ،دینی مدارس قوم کے ایسے ہزاروں طلباء وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں ،مولانا شفیق خاں بستوی کی یہ باتیں سن کر میرے سامنے ملک بھر میں پھیلے ہوئے عصری تعلیمی اداروں کا منظر نامہ گھوم گیا،کہ جہاں تعلیم کے نام پر والدین کی جیبیں خالی کروانا ’’وزارت تعلیم‘‘ کا حسن سمجھا جا تا ہے، ختم بخاری کی بابرکت تقریب سے شیخ الحدیث مولانا شفیق خاں بستوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جامعہ خدیجتہ الکبریؓ للبنات صرف تعلیمی ادارہ ہی نہیں ،بلکہ حقیقی معنوں یہ ایک تربیت گاہ بھی ہے۔‘‘ تربیت میں صبح سحر گاہی کے آداب سے لے کر دن بھر مطالعہ تعلیم اور پڑھنے لکھنے کی محنت کے ساتھ ساتھ اعمال کی طرف توجہ اور رہنمائی، رات سونے تک تمام معمولات سنت کے مطابق ہوں،اکا برنے یہی سکھایا کہ جس گھر میں رہتے ہیں اس گھر کے بھی حقوق و اداب ہوتے ہیں، صرف اپنی ذات ہمیں عزیز نہیں ہوتی اس گھر کے در و دیوار بھی عزیز ہوتے ہیں۔ یہ ادارہ تربیت گاہ ہے۔ دارالعلوم ہے۔ اس سے آگے بڑھ کریہ کہ ہم جس ملک کے باشندے ہیں۔وہ ملک بھی ہمارا گھر ہے، چاہے جس صوبے سے تعلق ہو، ہمارے ہاں ہر علاقے کی طالبات زیر تعلیم ہیں،ان طالبات کے ذہن و ضمیر میں ہمارا ادارہ یہ بات بٹھاتا ہے کہ یہ وطن یہ ملک آپ کا گھر ہے۔
اس ملک کی محبت آپ کے ضمیر کی گہرائیوں میں ہونی چاہیے۔ اس لئے کہ یہ ملک اسلام کے نام پہ وجود میں آیا۔ہم طالبات کو ایسے علوم سے روشناس کراتے ہیں جن سے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہو، تحفظ ختم نبوتؐ کا معاملہ ہو، تحفظ ناموس رسالتؐ کا معاملہ ہو۔ الحمدللہ ہماری معلمات اور ہماری طالبات پوری ہوشمندی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ مولانا شفیق خاں بستوی نے فرمایا کہ اس ادارے سے اللہ تعالیٰ نے جو کام لیا اور لے رہے ہیں اس میں ختم نبوتؐ کی پاسداری ناموس رسالتؐ کی حفاظت اور اس کی پاسداری اور قوت باطلہ کے سامنے فکری اور نظر یاتی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے جو علمی اور فکری طور پر مضبوط کرنے کا سلسلہ ہے ، انہوں نے کہا کہ الحمدللہ یہاں کی معلمات اور طالبات دورداز کے علاقوں جہاں باطل فرقوں نے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کر رکھی ہیں، چاہے وہ ذکری گروہ ہو یا مرزائی اور قادیانی دجل کا طوفان ہو، باطل کی کوششیں جو اس ملک میں الحادو تشکیک کی صورت میں پیداکی جا رہی ہیں، الحمد للہ اس حوالے سے بھی ہم طالبات کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی عورتوں سے ایسے کام لے لیتے ہیں جو بڑے بڑے رجال نہیں کر پاتے اور اللہ تعالیٰ نے عورت میں یہ صفت رکھی ہے کہ اس کی بات میں تاثیر ہے کہ بڑے بڑے عقلمندوں کو قابو کر لیتی ہے۔ انہوں نے طالبات سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ آج سے پانچ دس سال پہلے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات کے احوال معلوم کریں کہ جو طالبات دور دراز علاقوں بلکہ ملکوں میں دین کی خدمات انجام دے رہی ہیں، بلکہ امریکہ میں بھی اس مدرسے سے ایسی طالبات گئی ہیں کہ وہاں کے سکولوں نے آنکھوں سے دیکھ کر ہماری طالبات کے طریقے کو اپنے اصولوں میں شامل کیا اور کہا کہ ہم آپ کو اسکارف اور حجاب کی اجازت دیتے ہیں۔ اگرچہ اسکارف اور حجاب ہمارے اس سکول میں قانون میں اجازت نہیں ہے ،لیکن آپ کے اخلاق کی وجہ سے ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں ہمارے ملک کی پچپن سے 58 اٹھاون فیصد آبادی عورتوں پر مشتمل ہے تو خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں جن کی تعلیم و تربیت پر انتہائی توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ ’’مرد‘‘ پڑھا تو ’’فرد‘‘پڑھا، عورت پڑھی تو پورا کنبہ پڑھا، بزرگ کہتے ہیں کہ مرد پڑھتا ہے تو دین گھر کی چوکھٹ پرآتا ہے لیکن جب عورت دین کا علم حاصل کرتی ہے تو دین گھر کے اندر آتا ہے، شیخ الحدیث مولانا بستوی فرماتے ہیں کہ دور کی بات کیا کروں، خود میری اہلیہ صاحبہ کی برکت سے میرے تمام بیٹے اور بیٹیوں نے قرآن حفظ کیا اور پھر خود اس اللہ والی نے قرآن حفظ کر لیا۔‘‘ ہے کوئی ایسا کا لج اور یونیورسٹی کہ جس کا پرنسپل یا وائس چانسلر اپنے طلباء وطالبات کی تعلیم وترتیب کے حوالے سے ایسی فکر انگیز گفتگو کر سکے کہ جیسی فکر انگیز گفتگو مولانا بستوی نے کی؟ا گر کوئی ایسا ہے تو سامنے آئے،اس خاکسار کا قلم اور کالم دونوں حاضر ہیں، اربوں کے بجٹ اور ایک عدد سالم وزارت تعلیم ہونے کے باوجود عصری تعلیم کی زبوں حالی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، دوران خطاب جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری برادر قاری محمد عثمان کی ہمراہی میں تقریب میں تشریف لائے ۔بقول مولانا محمد احمد حافظ بعض مدارس ختم بخاری کی تقریبات کے لئے طلبہ سے اخراجات وصول کرتے ہیں اور طلبہ خواہی نخواہی رقم مہیا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ، یہ شکایت بنات کے مدارس میں زیادہ ہے ۔ دوپٹہ پوشی کے نام پر طالبات سے رقوم وصول کی جاتی ہیں ، اساتذہ اور معلمات خصوصاً ’’بڑی باجی‘‘کے لیے تحائف وغیرہ کا خفی اور جلی تقاضا بھی ہوتا ہے ۔ یہ سب درست نہیں ۔ ایک تو یہ کہ تمام طالبات اسے افورڈ نہیں کرسکتیں اور انہیں قرض اٹھا کر رقم کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ۔ جو نہ دے سکے اس کے ساتھ اچھوت جیسا معاملہ کیا جاتا ہے ۔یہ نہایت غلط رجحان ہے اور اس سے احتراز ضروری ہے ۔