Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

معاملات ،رحمدلی اور حسنِ سلوک

ایک ایسی دنیا جہاں غلط فہمیاں، تنازعات اور جلدبازی سے فیصلے عام ہیں، اسلام ہمیں نرمی، صبر اور حکمت کے ساتھ لوگوں کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں بار بار زبان کو سنبھالنے، بدگمانی سے بچنے اور دوسروں کے ساتھ رحمت کا برتا کرنے پر زور دیا گیا ہیخاص طور پر جب ہمیں ان کے حالات کا علم نہ ہو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری) اس حدیث میں اسلامی اخلاقیات کا خلاصہ ہے یہ کہ ہمارے الفاظ اور اعمال دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ آئیے، چند اہم اصولوں پر غور کریں جو رحمدلی کو فروغ دیتے ہیں اور نقصان دہ رویوں سے روکتے ہیں۔ دوسروں کو گالی مت دو، نہ ہی ان کا مذاق اڑااللہ تعالی نے دوسروں کو حقیر سمجھنے یا ان کا تمسخر اڑانے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اللہ کے نزدیک ہم سے بہتر ہوں: اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوںاور نہ ایک دوسرے کو عیب لگا، نہ برے القاب سے پکارو۔(الحجرات: 11)
کسی کے ظاہری شکل، پس منظر یا مشکلات کا مذاق اڑانا بڑا گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’بے شک، بندہ ایک لفظ بغیر سوچے بول دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں اس قدر گرتا ہے جتنا مشرق سے مغرب کا فاصلہ ہوتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری) دوسروں کو سختی سے مت جانچو انسان ظاہری چیزوں کی بنیاد پر جلد فیصلہ کر لیتا ہے، لیکن اللہ ہی دلوں کے راز جانتا ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے ’’اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے مت پڑو۔ بیشک کان، آنکھ اور دلان سب سے پوچھ گچھ ہوگی۔‘‘ (بنی اسرائیل: 36) ہمیں نہیں معلوم کہ کوئی کس مشکل سے گزر رہا ہے مالی پریشانی، خاندانی مسائل یا ذہنی دبائو۔ فیصلہ کرنے کے بجائے ہمیں مدد یا خاموش دعا کرنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا، جو شخص کسی مسلمان کے عیب چھپاتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔(سنن ابن ماجہ)
افواہوں کی بنیاد پر کسی پر الزام مت لگا،بغیر تصدیق کے افواہیں پھیلانا یا ان پر یقین کرنا اسلام میں بڑا گناہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: اے ایمان والو!اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔(الحجرات: 6) رسول اللہﷺ نے فرمایا، کسی شخص کے لیے یہی جھوٹ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔(صحیح مسلم) جھوٹے الزامات عزتیں تباہ کر دیتے ہیں۔ لہٰذا افواہوں میں دلچسپی لینے کے بجائے ہمیں خاموش رہنا چاہیے یا تحقیق کرنی چاہیے۔ دوسروں کے نام مسخ مت کرو، نہ ہی ان کی شناخت کا مذاق اڑا،برے القاب سے پکارنا یا ناموں کا مذاق اڑانا اسلام میں سختی سے منع ہے۔ اللہ کا فرمان ہے اور ایک دوسرے کو برے ناموں سے مت پکارو (الحجرات: 11)
ناموں کا تعلق عزت سے ہے اور انہیں مسخ کر کے کسی کو ذلیل کرنا ظلم ہے۔ نبی ﷺنے ہمیشہ دشمنوں کو بھی احترام سے پکارا۔ جاسوسی مت کرو، نہ ہی دوسروں کی رازداری میں خلل ڈالو، اللہ تعالیٰ نے بے جا بدگمانی اور جاسوسی سے منع فرمایا ہے۔ ’’اے ایمان والو!بہت سی بدگمانیوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور جاسوسی مت کرو‘‘ (الحجرات: 12) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’دوسروں کے عیب مت تلاش کرو، ورنہ اللہ تمہارے عیب ظاہر کر دے گا۔‘‘ (الطبرانی)ہر کسی کی زندگی میں پوشیدہ مسائل ہوتے ہیں، اور انہیں بے جا طور پر بے نقاب کرنا ظلم ہے۔ دوسروں کی زندگیوں میں ٹوکنے کے بجائے ہمیں اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ تمہیں نہیں معلوم کہ کوئی کس حال سے گزر رہا ہے۔ مشہور قول ہے: ’’مہربان رہو، کیونکہ ہر شخص ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا تمہیں علم نہیں۔‘‘یہ بات اسلامی تعلیمات سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، جو شخص کسی مومن کی دنیاوی تکلیف دور کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور کرے گا۔(صحیح مسلم)جو شخص rudeلگتا ہو، شائد وہ غمزدہ ہو۔ جو دور بیٹھتا ہو، شائد وہ ڈپریشن کا شکار ہو۔ غصے کے بجائے صبر کا جواب دینا چاہیے۔ سنی سنائی باتوں پر کبھی کسی کو مت جانچو،دوسروں کی معلومات پر انحصار کرنا خطرناک ہے۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے اور جب تم سے کہا جائے کہ ’’اٹھو‘‘ ، تو اٹھو، اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند کرے گا۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ (المجادل: 11)
رسول اللہ ﷺنے نصیحت فرمائی۔ ’’اللہ سے ڈرو، اور افواہیں نہ پھیلا، نہ ہی انہیں سنو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے اور لوگوں کو فائدہ دے کر دیکھنا چاہیے۔ ان کے ساتھ بھی مہربان رہو جو تمہارے ساتھ سختی کریں،اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ برائی کو اچھائی سے دور کرو: برائی کو اس چیز سے دور کرو جو بہتر ہو، پھر وہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، گویا وہ تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔(حم السجدہ: 34 ) نبی ﷺنے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ جنگوں میں بھی آپ نے صحابہؓ کو ہدایت دی۔ ’’عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور عبادت گاہوں میں پناہ لینے والوں کو قتل مت کرو۔‘‘ (سنن ابو داد)
جو جہالت اور جذبات سے غلط پر اڑے رہیں، انہیں سمجھائیں لیکن فضول بحث سے بچیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حکمت سے پیش آنے کا طریقہ سکھایا ہے اور جب جاہل ان سے بات کریں تو کہہ دیں، سلام۔(الفرقان: 63) اور ان سے بحث بجائے کنارہ کشی اختیار ر لو،یعنی جو لوگ جذباتی ہو کر یا جہالت کی بنیاد پر غلط بات پر اڑ جائیں، انہیں نرمی سے سمجھانا چاہیے۔ لیکن اگر وہ نہ مانیں تو فضول بحث میں الجھنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، جب تمہیں کوئی گالی دے تو تم کہہ دو۔ اگر میں ایسا ہوں جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ مجھے معاف کرے اور اگر میں ایسا نہیں ہوں تو اللہ تمہیں معاف کرے۔‘‘(صحیح بخاری)
مولانا رومیؒ کا حکمت بھرا قول ’’دوسروں کی خطائوں پر رات کی طرح ڈھک جائو‘‘ اور دن کی طرح مہربان ہوجائو،یہ رسول اللہ ﷺکی تعلیمات سے ملتی ہے۔ ’’مومن اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے، وہ اسے نقصان سے بچاتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘(الادب المفرد)خلاصہ، رحمدلی کی دعوت،زندگی مختصر ہے اور ہمیں وقت رحمت میں گزارنا چاہیے نہ کہ عداوت میں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو زمین والوں پر رحم کرے گا، آسمان والا اس پر رحم کرے گا۔(سنن ابو دائود) آئیے، ہم کوشش کریں کہ – نرمی سے بات کریں ۔کم فیصلہ کریں، زیادہ سمجھیں ۔ لوگوں کے عیب چھپائیں، نہ کہ انہیں بے نقاب کریں ، غصے کو معاف کرنے سے بدلیں ۔جاہلوں اور جذباتی لوگوں کو سمجھائیں لیکن فضول بحث سے بچیں اللہ ہمیں ان تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے اور ہمیں حکمت دے کہ رحمدلی سے زندگی گزاریں۔ آمین۔ اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔(البقرہ: 83) ’’کلم حق کہنا اور خاموشی اختیار کرنا، دونوں ہی مواقع پر بہترین عمل ہیں۔‘‘ اللہ ہم سب کو ہمیشہ خوش رکھے، صحت اور رزق میں برکت دے، اور ہمارے دلوں کو ایمان و اطمینان سے بھر دے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں