(گزشتہ سےپیوستہ)
اگرچہ ان حوالوں کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ایسے مقامات کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے پیغام کی آفاقیت کو مختلف تہذیبوں میں تسلیم کیا گیا تھا۔
بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایک نہایت تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے،آزادی اظہار یا فنون لطیفہ کے نام پر جان بوجھ کر حضرت محمد ﷺ کی عظمت کو نظر انداز کرنے، تمسخر اُڑانے یا کم تر دکھانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یورپی اشاعتی اداروں میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں سے لے کر توہین آمیز فلموں اور نفرت انگیز تقاریر تک، یہ تمام اشتعال انگیز اقدامات عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ رجحان، جسے اب اسلاموفوبیا کے نام سے جانا جاتا ہے، مذہبی نفرت کو معمول بنانے، معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے، اور ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے عقائد کو چیلنج کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان بھی ان خطرناک کوششوں سے محفوظ نہیں رہا۔ بعض مقامی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے عناصر نے خفیہ نظریاتی مہمات، نصابی بگاڑ اور قانونی چالاکیوں کے ذریعے رسول اکرم ﷺ کے مرکزی مقام کو کمزور کرنے اور ختمِ نبوت کے عقیدے پر سوال اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ قادیانی عقائد کو اصل اسلام کے طور پر پیش کرنے یا اسلامی عقائد کے بارے میں الجھن پیدا کرنے کی یہ کوششیں اس وسیع تر عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں جو امتِ مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاہم، ایسی تمام کوششوں کو نہ صرف مذہبی حلقوں کی جانب سے بلکہ پاکستانی پارلیمان، عدلیہ، اور عام عوام کی طرف سے بھی بھرپور مزاحمت اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگرچہ مسلمان سیاست یا ثقافت میں اختلافات رکھتے ہیں، لیکن ایک بنیادی مسئلے پر وہ مکمل طور پر متحد ہیں اور وہ ہے حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت، عقیدت اور عقیدہ ختمِ نبوت۔ ایشیاء سے لے کر افریقہ، یورپ سے لے کر امریکہ تک، مسلمانوں نے بارہا اس اتحاد کو عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ پرامن احتجاج، علمی جوابات، قانونی درخواستیں اور بین الاقوامی سفارت کاری،سب ذرائع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور حرمت کا دفاع کیا جا سکے۔ یہ عالمی اتحاد اس بات کی یاددہانی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کوئی معمولی سیاسی یا قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ مسلم شناخت کی روح پر حملہ ہے۔
قانونی اور سیاسی لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک ایسے قوانین رکھتے ہیں جو مذہبی جذبات کے تحفظ اور نفرت انگیز تقاریر کی ممانعت کو یقینی بناتے ہیں، جن میں مقدس مذہبی شخصیات کی توہین بھی شامل ہے۔ یورپ کے متعدد ممالک جیسے جرمنی اور آسٹریا میں اگر کسی شخص نے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ بھارت میں بھی تعزیراتِ ہند کی دفعات 295 اور295 اے کے تحت مذہبی برادریوں کے مقدسات اور شخصیات کی توہین کے خلاف تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے بھی اپنے سابقہ فیصلوں میں اُن افراد کی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، اور ان اقدامات کو نفرت انگیزی پر اُکسانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے آزادی اظہار کے دائرہ کار سے باہر تصور کیا ہے۔ تاہم، کوئی بھی ملک عقیدہ ختمِ نبوت کے قانونی تحفظ کے معاملے میں پاکستان جتنا پُرعزم اور دوٹوک نہیں رہا۔ 1974ء میں ایک ملک گیر تحریک اور پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے بعد، پاکستان کے آئین میں ترمیم کی گئی جس کے تحت قادیانیوں (احمدیوں) کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
یہ تاریخی فیصلہ مذہبی امتیاز کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ اسلام کے اس بنیادی عقیدے، ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔ اگرچہ احمدی جماعت اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے، لیکن ان کے عقائد اس بنیادی اسلامی نظریے سے متصادم تھے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، جو عوام کی نمائندہ ہے، نے طویل سماعتوں کے بعد یہ طے کیا کہ اس گروہ کا نظریہ اسلام کے متفقہ عقائد سے انحراف کرتا ہے۔ چنانچہ، پاکستان کے آئین میں دوسری آئینی ترمیم کے تحت واضح طور پر یہ شق شامل کی گئی
’’جو شخص حضرت محمد مصطفیﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان نہیں رکھتا، وہ آئین اور قانون کی رُو سے مسلمان نہیں ہے۔‘‘
بعد ازاں، 1984ء میں آرڈیننس نافذ کیا گیا، جس کے تحت احمدیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہنے، اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے، یا اپنے عقائد کو اسلام کے طور پر پیش کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ قانون 1993ء کے معروف ’’ظہیر الدین کیس‘‘ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے برقرار رکھا، جہاں عدالت نے قرار دیا کہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عوامی نظم و ضبط کو قائم رکھنے اور فریب دہی کو روکنے کے لیے مذہبی اظہار پر ضابطہ لگا سکے۔عدالت نے بجا طور پر مشاہدہ کیا کہ مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی گروہ کسی دوسرے مذہب کی علامات اور عبادات کو غلط طریقے سے پیش کرے یا ان کی نقالی کرے۔
یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ پاکستان کا یہ قانونی مؤقف کسی بھی فرقے یا کمیونٹی کے خلاف نفرت یا تشدد کو ہوا دینے کے لیے نہیں، بلکہ اسلامی عقائد کے تقدس کے تحفظ کے لیے ایک واضح اور دوٹوک حد کھینچنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے تمام شہری، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، قانون کے تحت مساوی حقوق کے حامل ہیں، لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے کسی مذہب کے بنیادی عقائد کو مسخ کرے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت صرف ایک دینی مسئلہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک جذباتی، ثقافتی اور سیاسی معاملہ بھی ہے۔ جب کبھی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے، خواہ وہ گستاخانہ خاکوں، فلموں یا بیانات کی صورت میں ہو تو پوری دنیا میں مسلمانوں کی جانب سے جو شدید ردِعمل سامنے آتا ہے، وہ عدم برداشت کی علامت نہیں، بلکہ آپ ﷺ سے گہری عقیدت اور محبت کا فطری اظہار ہے۔آزادی اظہار کے نام پر اس قسم کی اشتعال انگیزی صرف تہذیبوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دیتی ہے اور باہمی غلط فہمیوں کو مزید گہرا کرتی ہے۔
دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ جس طرح یہودی اور عیسائی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے لیے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں، اسی طرح مسلمان اپنے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے کہیں زیادہ گہرا اور محافظانہ تعلق رکھتے ہیں۔ اسلام کے نبی ﷺ نہ صرف آخری رسول ہیں بلکہ سچائی، رحمت اور عدل کا مجسم نمونہ ہیں۔ آپ ﷺ کا پیغام آج بھی اربوں لوگوں کے لیے ہدایت کا چراغ ہے، اور آپ ﷺ کی حرمت ہر چیز سے زیادہ مقدس ہے۔ لہٰذا دنیا کے ہر کونے میں چاہے وہ عدالتیں ہوں، عبادت گاہیں، قدیم صحیفے یا اہلِ ایمان کے دل نبی کریم ﷺ کے احترام، عزت اور ختمِ نبوت کو تسلیم کرنا اور محفوظ رکھنا لازم ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پکار ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر اُس عظیم ہستی کی حرمت کو پہچانے، جنہوں نے دنیا کے اخلاقی معیار کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔