ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جسے بعض اہلِ دانش نے عصرِ مشہود یعنی The Age of Witnessing کا نام دیا ہے۔ ڈیجیٹل آنکھیں ہر سمت، ہر زاویے اور ہر پل ہماری نگرانی میں مصروف ہیں۔ سمارٹ فونز، سی سی ٹی وی، مصنوعی ذہانت (AI)، فیشل ریکگنیشن، اور لائیو ٹریکنگ سب ہمیں باور کراتے ہیں کہ انسان کی کوئی حرکت اب پوشیدہ نہیں رہی۔
مگر!یہ جدید حقیقت کوئی نئی بات نہیں قرآن نے 1400 سال پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا:ما یلفِظ مِن قول ِلا لدیہِ رقِیب عتِیدوہ کوئی بات زبان سے نکالتا ہی نہیں مگر ایک نگران، تیار بیٹھا ہوتا ہے۔(سورۃ ق، آیت 18)
آسمانی ریکارڈنگ سسٹم کراما ًکاتبین ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے (کراما کاتبین) مقرر ہیں جو ہر سوچ، ہر قول اور ہر عمل کو نوٹ کر رہے ہیں۔ یہ کوئی ظاہری کیمرہ یا مشین نہیں، بلکہ اللہ تعالی کا روحانی ریکارڈنگ نظام ہے جو کامل، غلطی سے پاک اور منصفانہ ہے۔ نہ بجلی کی ضرورت، نہ ڈیٹا اسٹوریج کی اور قیامت کے دن یہ تمام اعمال ایک کھلی کتاب کی صورت میں پیش کیے جائیں گے۔ان کے اعمال اور ان کے اثرات کو لکھ رہے ہیں، اور ہر چیز کو ایک روشن کتاب میں شمار کر رکھا ہے۔(سورۃ یس، آیت 12)
ڈیجیٹل دنیا قرآنی بصیرت کا آئینہ آج کی دنیا میں انسان کے ہر عمل پر ڈیجیٹل گواہ موجود ہیں۔ہر راستہ، ہر گلی، ہر دکان، ہر موبائل ایک نگران کی آنکھ بن چکے ہیں۔یہی منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا:ِن اللہ ان علیم رقِیبابے شک اللہ تم پر نگران ہے۔(سورۃ النسا، آیت 1)
سائنسدان آج کہہ رہے ہیں کہ Nothing is private anymore تو کیا یہ نہیں وہی سبق جو اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں صدیوں پہلے دیا؟قیامت کا دن خوداحتسابی کا لمحہ‘ ااپنا نامہ اعمال پڑھو، آج تم خود ہی اپنے لیے حساب لینے کے لیے کافی ہو۔(سور ۃ السرا، آیت 14)
سوال یہ ہے:کیا یہ کتاب ڈیجیٹل ہوگی؟ کیا یہ کسی روحانی سکرین پر ظاہر ہوگی؟اللہ بہتر جانتا ہے، مگر آج کی AI اور ڈیجیٹل دنیا ہمیں اس حقیقت کے قریب تر کر رہی ہے۔حضرت سلیمان، زبانوں کا راز، اور آج کی مشین لرننگ ‘قرآن حضرت سلیمان کے علمِ لغات کا ذکر کرتا ہے:علِمنا منطِق الطیرِہمیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی۔(سورۃ النمل، آیت 16)قالت نمل فتبسم ضاحِا مِن قولِہاچیونٹی نے کچھ کہا، تو سلیمان اس کی بات سن کر ہنس دیے۔(سورۃ النمل، آیت 18)
یہ کوئی استعارہ یا علامتی قصہ نہیں یہ علمِ لدنی، وحی اور معجزہ تھا۔اور آج؟AI مشینیں 100 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کر رہی ہیں،جانوروں کے اشارے پڑھنے والے آلات بن رہے ہیں،حتی کہ انسانی جذبات کو بھی چہرے اور آواز سے پہچانا جا رہا ہے۔کیا یہ حضرت سلیمان کے علم کی جھلک نہیں؟کیا یہ انسانی علم کی معراج نہیں جو اللہ کے حکم سے کھل رہی ہے؟سائنسی ترقی روحانی حکمت کی گواہی جیسے جیسے انسان ایجادات میں آگے بڑھتا ہے اصل میں وہ اس خدا کی تخلیق کے رازوں کو کھولتا جا رہا ہے جس نے فرمایا:ااور اللہ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔(سورۃ النعام، آیت 59)
قلم، لوح، علم، آواز، زبان یہ سب اللہ کے امر سے جاری ہیں۔روحانی ڈیجیٹل حقیقت ایک مکمل سچائی وضِع الِتاب فتر المجرِمِین مشفِقِین مِما فِیہِ اور کتاب رکھی جائے گی، اور مجرم اس کے مندرجات سے ڈرتے ہوں گے(سورۃ الکہف، آیت 49)کیا ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے سوشل میڈیا پر لکھے گئے جملے،کسی پر کیے گئے ظلم،یا کسی کے لیے چھپ کر کی گئی دعا سب محفوظ ہو چکے ہیں؟ہاں! سب لکھا جا چکا ہے۔شعور، احتساب، اور روحانی بیداری کی ضرورتآج پرائیویسی ختم ہو چکی ہے مگر روحانیت میں ہمیشہ سے کوئی چیز مخفی نہیں تھی۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو سنواریں،زبان کو نرمی، حق، اور سچائی سے آراستہ کریںاور اعمال کو ریا سے پاک کر کے اخلاص سے بھر دیںتاکہ جب ہمارا نامہ اعمال کھولا جائے،توہم حضرت سلیمان کی طرح مسکرا سکیں، نہ کہ مجرموں کی طرح کانپتے پھریں۔یہ دور ڈیجیٹل ہےمگر اللہ کا نظام ازل سے روحانی ہے۔کبھی لوح و قلم سے،کبھی فرشتوں کی زبانی،اور آج کی زبان میں ڈیجیٹل گواہیوں کے ذریعہ اللہ ہمیں بتا رہا ہے کہ:میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، سن رہا ہوں، اور سب کچھ محفوظ ہے۔تو اے انسان!غفلت کو چھوڑ، اور باطن شعور کی آنکھ کھول۔