پاکستان اس وقت بہت سے مسائل سے دوچار ہے جن میں سے ایک مسئلہ دہشت گردی کا ہے جو سنگین ترین صورت اختیار کرچکا ہے۔ دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا لہولہان ہیں۔گزشتہ دو، تین برس کے دوران کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پولیس اہلکاروں پرحملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن حالیہ تازہ ترین کارروائی میں خیبر پختونخوا پولیس نےجس بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کیا، وہ لائق تحسین ہے،اور اس تاثر کو زائل کرنےکا سبب بنی ہےکہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہتی ہےہنگو اور مالا کنڈ میں آپریشنز کے دوران فتنہ خوارج کے 14 دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں کی فائرنگ سے ڈی پی او ہنگو سمیت تین افسران زخمی بھی ہوئے۔ دفاع وطن کے ضامن ادارے ہمہ وقت دشمن کے خلاف میدان عمل میں ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے مسلسل کارروائیاں کرکے دہشت گردوں کوکاری ضربیں لگائی ہیں۔ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کےمذموم عزائم کےخلاف افواج پاکستان اورخفیہ ادارے آہنی دیوار بن کرڈٹےہوئے ہیں۔ بھارت کےپروردہ دہشت گرداب سرحدی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہیں اور افغانستان فرارہونے کی کوشش میں کچھ فورسزکےہاتھوں مارےجاتے ہیں اور کچھ بھاگ نکلتے ہیں۔جب سے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوئی ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی نقل و حمل میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان افغان عبوری حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا آیا ہےکہ وہ اپنے ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانےختم کرے اور پاکستان کو مطلوب دہشت گرد اس کے حوالے کیے جائیں لیکن وقت نے ثابت کیا کہ افغان عبوری حکومت کی یہ تمام تر تگ و دو صرف بیان بازی تک محدود رہی اور وہ عملی طور پر دہشت گردوں کے خلاف کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے ۔
افغانستان میں 23 دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جن میں سے 17 دہشت گرد تنظیمیں صرف پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتی ہیں۔ پاکستان میں بھارتی معاونت سے کی جانے والی دہشت گردی کے بارے میں پہلے ہی ایک ڈوزیئر جاری کیا جا چکا ہے جس میں انتہائی مخصوص معلومات جیسے بینک اکائونٹس اور اس میں ملوث بھارتی شہریوں کے شواہد موجود ہیں؛ جودہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔اس ڈوزیئر میں ٹی ٹی پی، بلوچ شرپسندوں اور دیگر گروپوں کے تربیتی کیمپوں کی تعداد اور مقامات بھی شامل ہیں۔ بھارتی ایجنسیز کی خطے میں دہشت گردی پھیلانے کا ثبوت قطر میں بھارتی بحریہ کے اہلکاروں کی سزا ہے اور کینیڈا میں سکھ رہنماوں کا قتل دوسرا اعلانیہ ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ برسوں قبل پاکستان نے کلبھوشن یادو کو گرفتار کر کے سزا بھی سنا دی تھی۔افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد قوی توقع تھی کہ یہ سلسلہ اب رک جائے گا اور شمال مغربی سرحدوں سے دوستی تعاون اور امن کا پیغام آئے گا مگر اس کے برعکس دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی جس کی ذمے دار پاکستان دشمن دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی ہے اور اس کو کابل حکومت کی معنی خیز حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کی حکومت کے اکابرین کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعے یا نفرت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اور فوج کے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں بھی دے چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہماری ان قربانیوں کا اب عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جانے لگا ہے لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ کا پیچیدہ مرحلہ ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں پہلے سے زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔ماضی میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشنز کیے اور ان کا کافی حد تک خاتمہ کردیا تھا لیکن اب افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں، جو پاکستان کے خلاف کام کرنا چاہتے ہیں اور ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی دوبارہ متحرک ہوچکی ہے۔ پاکستانی عوام اور ریاستی اداروں نے جانی اور مالی قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کرکے اس فتنہ کو دبایا تھا لیکن افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد پاکستان میں رواں برس دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل جاری ہے۔
کسی ریاستی ادارے پر حملہ صرف ریاست پر حملہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی کیونکہ انتظامی ادارے پر حملہ کرنے کا مقصد ہی عوام میں خوف اور بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا موقف یہ ہے کہ ابھی طالبان سے مذاکرات کی گنجائش موجود ہے۔ ریاست بلاشبہ پوری طاقت سے دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ کمی کہاں باقی ہے؟
کیوں ہم اتنی قربانیوں کے باوجود اب تک اس لعنت سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے لیکن افغانستان کو بھی یہ بات باور کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ خیر سگالی کی یہ ٹریفک یک طرفہ نہیں چل سکتی۔ اقوام عالم کو بھی سفارتی سطح پر یہ بات اچھی طرح باور کرانی ہوگی کہ خطے میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغانستان سلگ رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ پاکستان سے ہوکر جاتا ہے۔ افغان سرحد سے پاکستان کی سلامتی اور دفاع کو مسلسل چیلنج کیا جارہا ہے، لہٰذا طالبان حکومت کو ایک بار پھر سختی سے وارننگ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے ان کے سہولت کاروں پر آہنی ہاتھ ڈالنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ قوم پرستی کی آڑ میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے نمٹنے سے متعلق بھی سخت حکمت عملی اپنائی جائے۔
سہولت کاروں کے بغیر دہشت گردی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان سے باہر دیکھنے سے پہلے اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں کے حمایتیوں کو تلاش کر کے سنگین سزائیں دینا ہوں گی۔ پی ٹی ایم اور این ڈی ایم جیسی نام نہاد قوم پرست تنظیمیں حقوق کی آڑ میں پس پردہ قومی یکجہتی میں دراڑیں ڈال کر ملک دشمن قوتوں اور دہشت گرد گروہوں کے لئے راہ ہموار کر رہی ہیں۔ ہتھیار بند دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ زہریلے پروپیگنڈے میں ملوث ڈیجیٹل دہشت گردوں کی سرکوبی بھی بے حد ضروری ہے۔