تاریخ کے نئے سفاک قاتل نیتن یاہو نے ہٹلر کو پیچھے چھوڑ دیا ۔انسان اور اس کی شرف و کرامت کی حیثیت جس سے وہ نیچے گر گیا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، اسے عقل، شعور اور اختیار دیا، اور پوری کائنات کو اس کے لیے مسخر کر دیا:انبیا کے ذریعہ اسے ہدایت اور تعلیم دی۔(بنی اسرائیل 17:70)
لیکن قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اگر شکر، عدل، اور محبت کے راستے سے ہٹ جائے تو وہ زمین پر فساد برپا کرتا ہے:(روم 30:41)
قتل و بغاوت کی ابتدا: قابیل اور ہابیل انسانی تاریخ کا پہلا قتل قابیل کے ہاتھوں ہوا، جس نے حسد اور غرور کی وجہ سے اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈالا۔یہ قتل محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ پوری انسانی تاریخ کے لیے خون کی پہلی لکیر تھی۔اللہ نے اسے کوے کے ذریعے دفن کرنے کا طریقہ سکھایا،مگر انسان نے اس سبق کو یاد رکھنے کے بجائے قتل و بغاوت کی روایت کو آگے بڑھایا۔
انسانی تاریخ کا خون آلود سفرقابیل کے بعد انسان نے بار بار اللہ کی زمین پر فساد برپا کیا:نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا،فرعون نے معصوم بچوں کا قتلِ عام کیا،یہودیوں نے انبیا کو قتل کیا جیسا کہ قرآن کہتا ہے:(آل عمران 3:21)
سلطنتوں نے طاقت کے نشے میں بستیاں اجاڑ دیں، نسلیں مٹا دیں۔مگر انسان نے کبھی سبق نہ سیکھا۔
جدید دور کی بغاوت: نیتن یاہو اور فلسطین آج کی دنیا میں سب سے واضح مثال فلسطین ہے:20 ماہ سے زیادہ فلسطینی معصوم بچے اور عورتیں بمباری میں مارے جا رہے ہیں۔ بھوک اور بیماری میں مبتلا بلبلا رہے ہیں اسرائیل کی موجودہ قیادت نیتن یاہو کے تحت قابیل کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ اور مغرب، جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں، اس ظلم کے حمایتی ہیں۔یہ المیہ اس لیے اور گہرا ہے کہ انہی یہودیوں کو مسلمانوں نے اسپین سے مراکش تک پناہ دی، حقوق دیے، اور حفاظت کی اور آج ان کی نسل مسلمانوں کو ان کے اپنے گھروں سے بے دخل کر کے نسل کشی کر رہی ہے۔آج نیتن یاہو نے ہٹلر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سفاک نسل کشی کی خون آلود نئی شرمناک تاریخ رقم کی ہےمگر مغربی دنیا خاموش حمایت بن ہے۔
جدید انسان اور اس کی تخلیق: مصنوعی ذہانت (AI)آج انسان نے حیرت انگیز سائنسی ترقی کی ہے:مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کیا،مگر اپنی ہی تخلیق سے خوفزدہ ہے کہ یہ اسے مغلوب نہ کر دے۔شاید اللہ انسان کو اس کی اپنی تخلیق کے ذریعے عاجزی کا سبق دینا چاہتا ہے۔یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ اگر انسان نے عدل، رحم اور شکر کا راستہ نہ اپنایا تو:اور ظلم پر قائم رہا۔ تو پھر شاید اس کی خود کی ٹیکنالوجی اور خود کی بغاوت اسے فنا کر دے گی۔
-5 پیغامِ آخرانسان قابیل سے نیتن یاہو تک کا سفر کر کے بھی سبق نہیں سیکھا۔ہر دور میں مخلصین کم اور باغی زیادہ رہے۔آج وقت ہے کہ انسان رک کر سوچے کہ وہ کون ہے اور کہاں جا رہا ہے۔قرآن کی پکار آج بھی ہے:(زمین میں فساد مت پھیلائو) اگر انسان نے نہ سمجھا تو اس کی کہانی صرف قتل اور بغاوت پر ختم ہو جائے گی۔ اور اللہ اس کے اوپر کوئی مخلوق چاہے وہ اے آئی ہو یا کوئی اور اللہ خالق و قادر ہے ۔ جب جیسا چاہے کن سے فیکون ہوجاتا ہے۔ اے اصحاب عقل و بصیرت اور فر و دانش اپنے اندر کی میں مٹا کر اللہ کے حضور جھک کر اپنی اصل و ابدی کامیابی کی کوشش مناجات کرو۔