مسلم کانفرنس ایک ایسی جماعت جس کا نام آتے ہی کشمیر کی سیاسی تاریخ کا پہلا باب یاد آجاتا ہے۔ رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کے بعد مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کا ورثہ، اور پاکستان سے عقیدت کا طویل بیانیہ یہ سب اس کے تعارف کا حصہ ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آج 2025 ء میں کیا یہ جماعت اپنے ماضی کے ورثے پر زندہ ہے یا عوامی سیاست میں کوئی حقیقی کردار ادا کر رہی ہے؟
حالیہ دنوں میں سردار عبدالقیوم مرحوم کے پوتے اور سردار عتیق احمد خان کے صاحبزادے عثمان عتیق خان برطانیہ کے دورے پر آئے۔ نوٹنگھم میں ان کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب میرے دیرینہ دوست جاوید عباسی نے منعقد کی، جس میں مسلم کانفرنس کے پرانے اور نئے رہنما، اور مختلف جماعتوں کے لوگ شریک ہوئے۔ عثمان عتیق کی تقریر پراثر تھی، انداز مدلل، اور الفاظ میں ایک تربیت یافتہ سیاستدان کی جھلک تھی مگر سیاست صرف اچھے الفاظ کا کھیل نہیں، یہ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے اور صحیح طرف کھڑے ہونے کا امتحان بھی ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مسلم کانفرنس بار بار ناکام ہوئی ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو نظر آتا ہے کہ جس اسٹیبلشمنٹ کا یہ ہمیشہ دفاع کرتی رہی، اسی نے وقت کے ساتھ اسے کمزور اور تقسیم کیا۔ میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی بنیاد رکھ کر کشمیری سیاست کو دو دھڑوں میں بانٹا۔ پھر 1999 ء میں جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا، مسلم کانفرنس نے جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ’’ملٹری ڈیموکریسی‘‘ کا نعرہ لگا کر ان کے فوجی اقتدار کو جواز فراہم کیا۔
یہی روش آج بھی جاری ہے۔ آزاد کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی، جو عوامی حقوق اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے، اس کی حمایت کے بجائے مسلم کانفرنس اسے ملک دشمن قرار دیتی ہے اس سوچ نے کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں کو جماعت سے مزید دور کر دیا ہے، کیونکہ آج کا نوجوان نعرے نہیں، عملی حل چاہتا ہے پاکستان کی فوج ایک مضبوط فوج ہے جس کے ساتھ پاکستان کا دفاع جڑا ہوا ہے کوئی باشعور شخص اپنی فوج کا بھلا مخالف کیوں ہوگا؟
پالیسی تضادات بھی مسلم کانفرنس کے گلے کا پھندا ہیں۔ مثال کے طور پر، جماعت جموں کشمیر کے مقیم مہاجرین کی 12 نشستوں کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتی ہے، ایسے وقت میں جب ان نشستوں کو ختم کرنے کے لئے ایک مضبوط تحریک چل رہی ہے۔ اسی طرح، مسئلہ کشمیر پر یہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بات کرتی ہے، حالانکہ ان کے حمایتی جنرل پرویز مشرف کہہ چکے ہیں کہ یہ قراردادیں پرانی ہو چکی ہیں۔ مشرف نے چار نکاتی فارمولا دیا، اور خورشید قصوری کے مطابق، وزیراعظم من موہن سنگھ اور مشرف کے درمیان جوائنٹ کنٹرول کے تحت ایک معاہدہ تقریبا طے پا چکا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ’’تھرڈ آپشن‘‘ کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے، مگر مسلم کانفرنس اسے سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ جماعت زمینی حقائق کے بجائے ماضی کے نعرے دہرا کر سیاست کرنا چاہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم کانفرنس عوامی مسائل سے جڑنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اگر یہ جماعت واقعی زندہ رہنا چاہتی ہے تو اسے اسٹیبلشمنٹ کے سایے سے نکل کر ایک خودمختار اور عوامی جماعت بننا ہوگا، جو روزگار، مہنگائی، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی سیاست کرے۔ ورنہ، یہ صرف تاریخ کے ایک باب کا نام رہ جائے گی جس پر کبھی کشمیری سیاست کا فخر کرتے تھے مگر یہ جماعت وقت کی کروٹ کے ساتھ ساتھ عوام سے بالکل کٹ گئی اس کی دوبارہ فعالیت نہایت ضروری ہے اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کشمیریوں کا تعلق پاکستان سے مضبوط دیکھنا چاہتی ہے تو اپنے روئیے پر غور کرے ۔ہمارے برطانوی ہائوس آف لارڈز کے رکن لارڈ قربان حسین ہمیشہ ہر پروگرام میں کہتے ہیں کہ وہ کسی پاکستانی کشمیری جماعت کی حصہ نہیں ہیں لیکن مسلم کانفرنس کا ذکر ضرور کرتے ہیں کہ مسلم کانفرنس ریاستی جماعت ہے اس کا کمزور ہونا نظریہ الحاق پاکستان کے کمزور ہونے کا باعث ہے اور مسئلہ کشمیر پر مسلم کانفرنس کے کمزور ہونے سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں یاد رہے آزاد کشمیر کے ریاستی امور کو ان دنوں جس طرح چلایا جارہا ہے اس سے خطے کے لوگوں کو مایوسی ہورہی ہے اگلا سال الیکشن کا ہے اور رانا ثنااللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں مقیم جموں کشمیر مہاجرین کی 12 سیٹیں جیت کر آزاد کشمیر میں حکومت بنائیں گے جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر جن کے دم خم سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور ان کا اثر رسوخ پورے آزاد کشمیر میں ہے انہیں مسلم لیگ کی قیادت سے محض اس لئے ہٹا دیا گیا ہے کہ وہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں ان کی زبان بندی بھی سرا سر زیادتی ہے ۔
جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر مقیم مہاجرین کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی جائے انہوں نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں مسلم کانفرنس کو ایک ہمہ گیر جماعت کے طور دوبارہ فعال کریں گے حتی کہ دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بھی اسی پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے جمع ہونگے۔