پاکستان زرعی معیشت کا حامل ملک ہے جہاں پانی کو زندگی کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا ملک کی زراعت، صنعت اور انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں پانی کے بحران کو ایک مستقل مسئلے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ عام ہے کہ پاکستان تیزی سے پانی کی قلت کا شکار ہو رہا ہے اور مستقبل میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ مگر حالیہ اعداد و شمار اس تصور کی تردید کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ پانی کی قلت نہیں بلکہ اس کے درست انتظام اور بہتر منصوبہ بندی کے فقدان کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وسائل موجود ہیں لیکن ان کا استعمال ناقص حکمت عملی اور پرانے ڈھانچوں کے باعث موثر طریقے سے نہیں ہو پا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف دریائوں سے پانی وافر مقدار میں سمندر کی نذر ہو رہا ہے اور دوسری طرف کسان اپنی فصلوں کے لئے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔کوٹری بیراج پر 9 اگست 2025 ء کو پانی کا 171,846 کیوسک کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ یہ ایک ایسا تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں پانی کی دستیابی کسی طور کم نہیں ہے۔ تاہم18اگست 2025ء کو کم ہو کر 71,227 کیوسک رہ گیا۔ یہ کمی اگرچہ نمایاں ہے مگر پھر بھی یہ مقدار کم از کم مطلوبہ یعنی 5,000کیوسک سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس وقت کوٹری بیراج سے خارج ہونے والا پانی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہم بہتر انفراسٹرکچر اور ذخیرہ گاہیں قائم کریں تو نہ صرف سندھ بلکہ جنوبی پنجاب کی سال بھر کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کے کی فراوانی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسے محفوظ کرنے کا کوئی دیرپا نظام موجود نہیں۔
پاکستان میں بڑے ڈیمز کی تعداد نہایت محدود ہے۔ تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد ملک میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا جا سکا، حالانکہ آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور زرعی زمینوں کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ موجودہ نہری نظام بھی فرسودہ ہے جس میں پانی کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں نہروں کے ذریعے پانی کی ترسیل کے دوران 30 سے 40 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر موجودہ نظام کو ہی جدید خطوط پر استوار کر لیا جائے تو قلت کا مسئلہ بہت حد تک ختم ہو سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ضیاع روکا جا سکے۔سندھ اور جنوبی پنجاب زرعی اعتبار سے نہایت اہم خطے ہیں جہاں کپاس، گندم، چاول اور گنا جیسی اجناس کاشت کی جاتی ہیں۔ یہ فصلیں پانی کی زیادہ ضرورت رکھتی ہیں۔ اگر پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے تو زرعی اجناس میں تسلسل قائم رہے گا اور کسانوں کو موسم کی شدت یا بارشوں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ صورت حال براہِ راست ملکی معیشت پر بھی اثر ڈالے گی کیونکہ زرعی پیداوار میں اضافہ نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرے گا بلکہ برآمدی حجم کو بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکے گا۔دنیا کے کئی ممالک نے پانی کے مسائل کا سامنا کیا مگر بہتر منصوبہ بندی سے ان پر قابو پایا۔ مثال کے طور پر اسرائیل نے جدید آبپاشی نظام، ڈیسالینیشن پلانٹس اور پانی کے دوبارہ استعمال کے ذریعے اپنی ضروریات کو پورا کیا۔ ایک ایسے خطے میں جہاں بارشیں محدود اور پانی کی قلت ایک فطری امر ہے، وہاں آج جدید نظام کے ذریعے نہ صرف زرعی پیداوار قائم ہے بلکہ پانی کی کفایت شعاری کی ایک مثالی روایت بھی موجود ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا نے اپنے پانی کے ذخائر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے منظم کیا اور خشک سالی کے باوجود اپنی زراعت اور شہری آبادیوں کو پانی فراہم کرنے میں کامیاب رہا۔
ان مثالوں سے پاکستان یہ سبق لے سکتا ہے کہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے بہتر انتظام سے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان بھی اپنے وسائل کو دانشمندانہ منصوبہ بندی کے تحت بروئے کار لائے تو پانی کے بحران کا خوف ختم کیا جا سکتا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو فوری طور پر اپنے آبی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر بھی پانی کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔ شہری علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام قائم کیا جائے اور دیہی علاقوں میں کسانوں کو جدید آبپاشی کے طریقے سکھائے جائیں۔ ڈرِپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم جیسے طریقے نہ صرف پانی کی بچت کرتے ہیں بلکہ فصلوں کو وقت پر پانی مہیا کر کے ان کی پیداوار میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو طویل المدتی بنیادوں پر پانی کے استعمال کو موثر بنائیں۔ سکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ ہر فرد پانی کی اہمیت کو سمجھے اور اسے ضائع نہ کرے۔مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں بلکہ اس کے انتظام اور منصوبہ بندی میں خامیاں موجود ہیں۔ اگر ملک بڑے ڈیمز اور چھوٹے ذخیرہ گاہوں کی تعمیر پر توجہ دے، نہری نظام کو جدید بنائے اور پانی کے ضیاع کو روکے تو یہ بحران ایک موقع میں بدل سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ بجلی کی پیداوار بھی بڑھے گی اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی ہو سکے گی۔ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت فوری اور عملی اقدامات کرے تاکہ آنے والی نسلیں پانی کے بحران سے دوچار نہ ہوں۔ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، کمی صرف بہتر منصوبہ بندی اور سنجیدگی کی ہے۔ اگر ہم آج صحیح سمت میں اقدامات کریں تو کل ایک خوشحال، زرعی طور پر خود کفیل اور پانی کے حوالے سے محفوظ پاکستان دیکھ سکتے ہیں۔ پانی کی نعمت کو محفوظ بنانا محض ایک تکنیکی یا حکومتی فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں ہر شہری کا کردار ہے۔ آج اگر ہم نے اجتماعی طور پر اپنے رویوں میں تبدیلی نہ لائی اور ریاستی سطح پر دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو کل ہمارے پاس پچھتائوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ پاکستان کے مستقبل کا دارومدار پانی کے درست انتظام پر ہے اور یہی انتظام ہماری معیشت، ہماری زراعت، ہماری صنعت اور ہماری بقاء کی ضمانت ہے۔