پاکستان کی سیاست میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے شاید ہی کسی غیر ملک میں ایسا ہوتا ہو۔ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو جن نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا،دوران اسیری ان کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا بیرک میں جو اذیتیں دی گئیں تاریخ سیاست کا وہ سیاہ باب ہے۔ بھٹو سب سے مقبول، سب سے بڑے سیاسی لیڈر تھے۔کوئی ان کی گرد کو بھی نہ چھو سکا۔عوامی طاقت سے ووٹ کے ذریعے ایک بڑے حکومتی عہدے تک پہنچے اور وزیر اعظم کے منصب پر براجمان ہوئے۔پھر آرمی چیف جنرل ضیا ء نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا اور بھٹو کو حراست میں لے کر نظر بند کر دیا گیا۔ یہاں سے ایک اور کہانی شروع ہوئی۔ایڈووکیٹ احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کی کہانی۔قتل کی ایف آئی آر پہلے سے تھانہ اچھرہ لاہور میں درج تھی۔پھر یہی ایف آئی آر بھٹو کو اڈیالہ کے پھانسی گھاٹ تک لے گئی اور 1979ء میں بھٹو کو جیلر، ڈاکٹر اور ایک کرنل کی موجودگی میں علی الصبح پھانسی دے دی گئی۔جلاد تارا مسیح نے انہیں پھانسی دی اور تارا مسیح ایک بھیانک کردار کے طور پر ہمیشہ کے لیئے تاریخ میں رقم ہو گیا۔نواز شریف اور شہباز شریف سے لے کر آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو تک،سب نے مقبول ترین سیاسی رہنما ہونے کے باوجود اسیری کاٹی۔ نئے دور میں اب عمران خاں جیل کاٹ رہے ہیں۔خود ہی نہیں،بے شمار اور بھی سیاسی ساتھی اسیران جیل ہیں۔تو ثابت ہوا،وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے،کبھی بہت کچھ ملتا ہے اور کبھی بہت کچھ گنوانا بھی پڑتا ہے۔سال 2024 ء گزر گیا،اس سال کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں ہی ہماری زندگی میں آئیں۔جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی میں ترقی نے ہماری زندگی کو آسان بنایا، وہیں ماحولیاتی اور سیاسی چیلنجز نے سوچنے پر مجبور کیا کہ مستقبل کے لیئے ہم کیسا راستہ چنتے ہیں؟ سال 2024 ء کے دوران پیش آنے والے سیاسی عدم استحکام نے ہمیں ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا جہاں ہمارے لئے سمت کا تعین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔گزرنے والا سال ایک ایسے دور کی یاد دلاتا ہے جس میں اپنے نظام کی کمزوریوں، سیاسی قیادت کی نااہلی اور عوامی مسائل سے عوامی رہنمائوں کی لاپرواہی کا ہم نے خمیازہ بھگتا۔ 2024ء کے انتخابات میں شفافیت کا فقدان رہا اور دھاندلی کے الزامات لگے۔لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جمہوری عمل محض ایک دھوکہ ہے۔جس سیاسی ماحول میں کشیدگی ہو۔سیاسی جماعتیں قومی مسائل پر اتفاق رائے میں مکمل ناکام رہیں۔محاذ آرائی بڑھتی ہے اسی امر نے پارلیمنٹ کو غیر فعال ادارہ بنا دیا ہے۔عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔جمہوریت کے نام پر قائم یہ نظام عوام کے لیئے امید کا باعث ہونا چاہیے تھا لیکن آزادی اظہار پر پابندیوں اور میڈیا کو دبانے کے واقعات نے جمہوری اقدار کو اور بھی کمزور کر دیا ہے۔ ان واقعات سے پاکستان کی مجموعی سیاسی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جس سے ملک کے مستقبل کے لیے نئے چیلنج پیدا ہو گئے ہیں۔سال 2024 ء ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ سیاسی واقعات کی ناکامی کا اثر صرف حکومت تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پوری قوم کی ترقی اور خوشی کو متاثر کرتا ہے۔اگر اب بھی ہم نے حقیقتوں کا ادراک نہ کیا،غلط فہمیوں کا لبادہ اوڑھے آگے چلتے گئے تو منزل ہم سے اور بھی دور ہو جائے گی اور شاید ہم اپنی متعین کردہ راہوں سے ہی بھٹک جائیں۔ ہمارے نصیب کی ترقی اور استحکام کو پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی۔کچھ لوگ، کچھ جماعتیں اور کچھ نظریے ایسے ہیں جنہوں نے ہماری ترقی کے دھارے کو تبدیل کر دیا۔ذہنوں کے سب دریچے بند کر دئیے گئے ہیں۔علم و ادراک، تجربے اور تحقیق کے تازہ جھونکے کا اب دور دور تک گزر نہیں۔علم و دانش میں تحقیق کی بجائے سب نے تعصب کا محاذ کھول رکھا ہے۔آزاد سوچ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ہر جگہ حرص و ہوس کا جال بچھا ہوا ہے۔تنقیدی جائزہ ضروری ہے تاہم تنقید کا مطلب ہرگز دشنام طرازی نہیں۔بلکہ چیزوں کو پرکھنا اور جانچنا ہے۔آنے والا وقت اس سے بھی کٹھن ہے سو اس کے لئے ہمیں راستہ نکالنا ہے۔بطور قوم ہم ایسا کر سکتے ہیں مگر بنیادی شرط یہ ہے کہ ملک کو نظریاتی رنگوں اور سیاسی وابستگی کے بوجھ سے ہلکا کر دیں۔کسی سے سیاست یا روزمرہ کے کسی عام معاملے پر گفتگو کر کے دیکھ لیں۔ہر شخص اپنے تئیں معتبر، نقاد، مرخ اور دانشور دکھائی دے گا۔اپنے موقف کے دفاع میں ہزار دلیلیں گھڑے گا۔اپنی بات کرنے اور سمجھانے کی کوشش کرے گا لیکن خود کچھ سمجھنے کے لیئے تیار نہیں ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں بری سیاست کا غلبہ ہے۔ ہماری ادبی اور علمی مجالس اپنی تاریخی اور قدیمی روایات کھو چکی ہیں۔اب صرف سیاسی اکھاڑے ہیں جو ہر سو اپنا منظر پیش کر رہے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بحرانوں کے اس گھمبیر دور میں سیاسی گفتگو سے مفر ممکن نہیں،جو بھی بحران ہیں سیاست کے پیدا کردہ ہیں۔سچائی کی تلاش،مسائل کا عملی حل اور بحرانوں کے ذمہ داروں کا غیر جانبداری سے تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے لیکن کسی کو تو یہ فریضہ انجام دینا ہے،دینا بھی چاہیے کہ یہ آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔چونکہ ہم بات کر رہے ہیں سیاست اور بحرانوں کی،کسی کو اس ساری صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرانے کی تو یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کسی طرح بھی انکار ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی نے جب سے عملی سیاست شروع کی ہے،ملک میں بے چینی اور افراتفری کا ماحول ہے،سیاست میں بھونچال سا آیا ہوا ہے۔ملک ترقی کی راہ پر چلنے لگتا ہے تو ٹکرائو کی سیاست راستہ روک لیتی ہے- پی ٹی آئی نے گھیرائو،جلائو اور منفی سیاست کی جو رسم ڈالی ہے اس نے عجیب صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔اب یہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے، بہت زیادہ غور بھی ہونا چاہیئے کہ پی ٹی آئی سیاست کی جس نہج پر پہنچ چکی ہے،اس کے ملک اور ملکی معیشت پر کتنے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔یہ ایک جمہوری ملک ہے۔آزادی اظہار رائے سمیت قانون نے سب سیاسی جماعتوں کے لیئے کچھ حدود و قیود بھی مقرر کی ہیں۔جو کوئی بھی اس سے تجاوز کرے گا، سمجھیں، قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔جیسا کہ نو مئی کو ہوا۔احتجاج پی ٹی آئی کا جمہوری اور قانونی حق ہے۔اس کو سب تسلیم کرتے ہیں۔کسی جمہوری ملک میں کسی احتجاج یا کسی تحریک کو نہیں روکا جا سکتا۔تاہم قانون میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ کسی تحریک یا احتجاج کی آڑ میں آپ املاک کو نقصان پہنچائیں۔امن و امان کے لیئے مسئلہ بن جائیں،ملکی سلامتی کو ملکی سلامتی کے اداروں پر حملہ کر کے دا پر لگا دیں اور خطرے میں ڈال دیں۔پی ٹی آئی نے 9 مئی کو جو کیا،کوئی چھپی داستان نہیں ہے۔9 مئی کو سب نے دیکھا کور کمانڈر ہاس لاہور،جی ایچ کیو اور دیگر شہروں میں حساس مقامات پر کیا ہوتا رہا ہے۔تمام نجی ٹی وی چینلز نے ان مناظر کو نہ صرف اپنے ٹی وی کیمروں میں محفوظ کیا بلکہ یہ تمام مناظر قوم کو دکھائے بھی گئے۔اسی پاداش میں پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنما اور سینکڑوں ورکر اپنے چیئرمین سمیت پابند سلاسل ہوئے۔ان میں سے کئی سزا پا چکے ہیں۔عدالتوں نے مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں لمبی مدت کی سزائیں سنائی ہیں جو باقی رہ گئے ہیں،جلد یا بدیر وہ بھی سزاں کے عمل سے گزر جائیں گے۔دیکھا جائے تو پی ٹی آئی نے پانے سے زیادہ کھویا ہے- نہیں لگتا پی ٹی آئی دوبارہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے گی۔یہ بھی ہے کہ سیاست میں بات چیت کے راستے کبھی بند نہیں کئے جاتے۔مذاکرات سے ہی راستے نکلتے ہیں۔کسی بھی معاملے میں انا اور ہٹ دھرمی سرا سر خسارے کا سودا ہے۔ہم سمجھتے ہیں پی ٹی آئی نے اقتدار کھو کر اپنا سب کچھ گنوایا ہے۔ ایسا راستہ چنا ہے جو اسے اندھیری منزل کی طرف لے جاتا ہے۔اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے پایا کم اور کھویا زیادہ ہے۔