بھارت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان سے تعلق کے جھوٹے الزامات لگاکرایک طرف پاکستان کو بدنام کر رہا ہے تو دوسری جانب اسی الزام پر مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کو جبر اور ظلم سے دبانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ بزرگ مسلمان رہنمائوں کو سازشی مقدمات میں پھنساکر ان کی ساکھ خراب کررہاہے۔ سیاسی تحزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے اور ہر جرم اور ناخوشگوار واقعے کو پاکستان سے جوڑ کر اپنی داخلی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہاہے۔ اسی سلسلے میں 5جولائی 2025ء کو ریاست اتر پردیش کے ضلع بالرام پور سے جلال الدین المعروف چھنگڑبابا کو بھی جھوٹے اور من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ بھارت کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (ATS)اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں نے الزام لگایا ہے کہ اس کے نیٹ ورک سے نیپال سے غیر قانونی حوالہ بازی کے ذریعے 300 کروڑ روپے سے زائد رقم بھارت منتقل کی گئی جو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، سعودی عرب کے اسلامی ڈیولپمنٹ بینک، مسلم ورلڈ لیگ اور دیگر بین الاقوامی اسلامی اداروں کے ساتھ منسوب کی جاتی ہے۔ چھنگڑ بابا پر الزام ہے کہ وہ کوڈڈ زبان استعمال کر کے ہندو خواتین کو نوکریوں، بیرون ملک تعلیم اور شادیوں کے جھانسے دے کر مذہب کی جبری تبدیلیوں کا منصوبہ بناتا تھا اور یہ پورا نیٹ ورک پاکستان نواز غدار اور غیر ملکی فنڈنگ کا حصہ تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ الزام تراشی بھارت کی ایک وسیع سازش کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کو بدنام کرنے اور ملک کے اندرمذہبی اقلیتوں کو دبانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بھارت نے نیپال کی حکومت پر دبائو ڈالا ہے کہ وہ نیپالی مساجد اور مدارس کی سختی سے تفتیش کرے کیونکہ بقول بھارت کے دہشت گرد یا پاکستان سے وابستہ افراد مذہبی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں ایک علاقائی پولیسنگ مہم کے مترادف ہے تاکہ مذہبی سرگرمیوں کو بغاوت یا دہشت گردی کے زمرے میں لایا جائے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور کارکنوں نے متعدد بار بھارت کی جانب سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو جانبدارانہ اور تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔ بھارت میں مذہب کی جبری تبدیلی کے الزام کی تحقیقات ہونی چاہیے لیکن ہندو مذہب اختیارکرنے کے معاملات کو اکثرجابرانہ ہونے کے باوجود بغیر کسی قانونی کارروائی کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت کی حکومتی اور سماجی قوتیں ہندو اکثریت کے تحفظ کو مقدم رکھتی ہیں اور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کو چھین لیتی ہیں۔چھنگڑ بابا کے خلاف کیس کوبھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جہاں بغیرکسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کیس میں بزرگ مسلمان رہنما کو ان کے مذہبی و سماجی اثر و رسوخ کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درحقیقت اس کا مقصد اقلیتوں کی آواز دبانا اور مذہبی ہم آہنگی میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔مساجد اور کلیساپر جھوٹے الزامات عائد کرنا اور ان کی عزت کو پامال کرنا بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ہر ناپسندیدہ واقعے اور اقلیتوں کی مزاحمت کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ بھارتی ادارے مل کر اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف سرکاری سطح پر نفرت انگیز مہم چلاتے ہیں جس سے نہ صرف مذہبی آزادی مجروح ہو رہی ہے بلکہ علاقائی امن اور ہم آہنگی بھی خطرے میں پڑ رہی ہے۔چھنگڑ بابا کا کیس بھارت کی اس وسیع پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس میں اقلیتوں کو مذہب کی جبری تبدیلی میں ملوث قراردیکر چپ کرایا جاتا ہے، حقیقی مذہبی آزادی کو جرم قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان سے جھوٹے اور بے بنیاد تعلقات کے الزامات لگا کران مذموم کارروائیوں کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف بھارت میں مذہبی آزادی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے ذریعے سیاسی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے جو علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
دوسری جانب بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف تعصب اور تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، یہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔
مودی حکومت کی سرپرستی میں جاری نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں دن بہ دن تیزی آرہی ہے اور ملک اقلیتوں کیلئے انتہائی غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے ۔مودی کے ہندوتوا سے متاثرہ نظام میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے سوا کوئی بھی محفوظ نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود مسلمانوں کو درانداز قرار دیتے ہیں جبکہ تلنگانہ کے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے کھلے عام مساجد کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اعلیٰ سیاسی رہنمائوں کی اس طرح کی نفرت سے بھری زبان نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا دیا ہے اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔مودی حکومت میں صرف اور صر ف اونچی ذات کے ہندووں کیلئے تحفظ اور وقار برقرار ہے ۔ دلتوں کے ساتھ ہمیشہ دوسرے درجے کے شہریوںجیسا سلوک روا رکھا گیا ہے ۔ اتر پردیش کے علاقے سنبھل میں2 دلت نوجوانوں کوجو کانور یاترا دیکھنے گئے تھے، ہندو ہجوم نے کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ان پر چوری کا الزام لگایا گیا، ان پر تشدد کے ذریعے پوری دلت برادری کو پیغام دیا گیا کہ وہ ہندوئوں کے برابر شہری نہیں اور ان کا بھارت میں کوئی مقام نہیں ہے۔حال ہی میںتامل ناڈو میں ایک نوجوان دلت سافٹ ویئر انجینئر کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، اس کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ اپنی ذات سے باہر کسی سے محبت کرنا تھا۔گزشتہ برس پیش آنے والے نفرت انگیز جرائم کے اعداد و شمار نے انسانی حقوق کے اداروں کوششدرکر دیا ہے۔ صرف عیسائی برادری کے خلاف 161واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 47 صرف چھتیس گڑھ میں پیش آئے ۔ان واقعات میں گرجا گھروں پر حملے، دعائیہ اجتماعات میں رکاوٹ، جسمانی تشدد، ہراسانی اور تبدیلی مذہب جیسے جھوٹے الزامات شامل ہیں۔