اپریل کے مہینے میں مقبوضہ کشمیر پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو کئی وجوہات سے ایک فالس فلیگ آپریشن کہا گیا۔ مودی سرکار نے اپنی ڈوبتی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ایک بہانہ تراشا۔ آپریشن سندور کی ناکامی نے مودی سرکار کے مذ موم عزائم بے نقاب کر دئیے۔ دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ۔ گو پاکستان نے بھارت پر عسکری اور تذویراتی برتری حاصل کر لی تاہم بہت سے پہلو ابھی تک توجہ طلب ہیں۔ پاکستان پر بھارت کی ننگی جارحیت کو جنگی جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ نام نہاد آپریشن سندور کی شکل میں بھارتی افواج نے نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان شہدا کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں ۔ بھارت کے جنگی جرائم کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان برباد ہو چکے ہیں ۔معصوم بچے اپنے والدین کے شفقت بھرے سائے سے محروم ہوئے۔ عورتیں بیوہ ہوئیں۔ بوڑھے والدین نے اپنے نوجوان بیٹوں کے لاشے کاندھوں پر اٹھائے۔ بھارت کے ان جنگی جرائم سے کئی انسانی المیوں نے جنم لیا ہے۔ اپنے فطری اتحادی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نریندر مودی نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نہتے بے گناہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ کے تل ابیب اور نئی دہلی کے عزائم ایک جیسے ہیں۔ عالمی قوانین اور معاہدات کی صریح پامالی کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ہر بین الاقوامی فورم پر بھارت کے جنگی جرائم کے عالمی احتساب کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ معرکہ حق میں شہید ہونے والوں کے لواحقین نے اس حوالے سے شہدا فورم کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے ۔ اس پلیٹ فارم سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عالمی ادارے بھارت کے جنگی جرائم کے نتیجے میں جانیں گنوانے والے معصوم شہریوں کے لواحقین کو انصاف فراہم کریں۔ دفتر خارجہ سمیت انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے اور مختلف بین الاقوامی فورمز شہدا کے لواحقین کے جائز مطالبات پر ان کا ساتھ دیں۔ بھارت کے جنگی جرائم پر عالمی احتساب کے لیے تمام فورمز آواز بلند کی جائے۔ بھارت نے ہمیشہ جنگی جنون کی آگ بھڑکانے اور نفرت انگیز بیانیے کی ترویج کے لئے ریاستی وسائل کا استعمال کیا ہے ۔ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کئی مرتبہ جسارت کی ۔
حالیہ برس سات مئی کو بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کے نام پر کیا جانے والا بزدلانہ اور غیر انسانی حملہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہوا۔ ان حملوں میں بھارت نے براہِ راست شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے بین الاقوامی قوانین، جنیوا کنونشنز اور انسانی حقوق کے مسلمہ ضابطوں کو بری طرح پامال کر دیا۔ آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں پر فائر کیے گئے بھارتی میزائلوں نے معصوم جانوں کو نگل لیا اور درجنوں خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے سوگوار بنا دیا۔اعداد و شمار کسی بھی حقیقت کو بیان کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہوتے ہیں۔ بھارت کی اس جارحیت میں پنجاب میں 30 شہادتیں ہوئیں جبکہ 68 شہری زخمی ہوئے ۔ خیبر پختونخوا میں دو شہادتیں ہوئی ۔ اسی طرح سندھ میں ایک شہادت جبکہ دس افراد زخمی ہوئے ۔ آزاد جموں کشمیر میں بھارتی درندگی کی وجہ سے 32شہادتیں ہوئیں ۔ ان علاقوں میں 164افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح بھارتی دہشت گردی میں مجموعی طور پر 65 عام شہری شہید اور 242 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے پاک فوج کے سات جبکہ پاک فضائیہ کے چھ اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ 78 جوان زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار بھارت کے اس دعوے کی قلعی کھول دیتے ہیں کہ حملے صرف فوجی تنصیبات پر کیے گئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مظفرآباد، بہاولپور، ساہیوال اور کوٹلی جیسے شہری علاقوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی سنگینی کو صرف اعداد و شمار سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہید کے پیچھے ایک داستانِ الم پوشیدہ ہے۔ کئی بچے یتیم ہو گئے، گھروں کے کفیل مارے گئے اور بزرگ والدین اپنے سہاروں سے محروم ہو گئے۔ کوٹلی میں ایک خاندان کے پانچ افراد ایک ہی لمحے میں لقم اجل بنے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، حقیقت میں ہر گھر ایک کہانی ہے، ہر خاندان ایک دکھ بھری داستان۔سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری، جو انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر دنیا بھر میں مداخلت کرتی ہے، ان حملوں پر خاموش تماشائی بنی رہی ۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے باوجود بھارت کو کھلی چھوٹ دینا نہ صرف انصاف کا خون ہے بلکہ عالمی اداروں کی ساکھ پر بھی ایک دھبہ ہے۔بھارت کی جانب سے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانا دراصل ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ اس کا مقصد عوامی سطح پر خوف پھیلانا اور پاکستان کو دبائو میں لانا ہے۔ لیکن بھارت یہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور افواج نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ عزم و اتحاد سے کیا ہے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے عوام قربانی دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ 1965ء اور 1971 ء کی جنگوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، پاکستانی قوم نے ہمیشہ لازوال عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے بعد عالمی برادری سے اپیل کی کہ بھارت کو اس غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی رویے پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ یہ حملے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ اگر بھارت کو روکا نہ گیا تو یہ جارحانہ روش مستقبل میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم شہدا کی قربانیوں کو ضائع نہ جانے دیں۔ ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم متحد ہو کر دشمن کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے جسے جھکایا نہیں جا سکتا۔ میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے اور حکومت سب کو مل کر ایک جامع حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ بھارت کے پروپیگنڈے کا توڑ ہو سکے اور دنیا کے سامنے حقائق اجاگر کیے جا سکیں۔ گو کہ پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا مگر یقینی طور پر بھارتی جارحیت اور جنگی جنون بظاہر ختم ہونے والا نہیں۔ مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی جہاں بھارت کے لئے خطرہ ہے وہیں پورے خطے کو ایک اور جنگ کی آگ میں جھونکنے کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ نریندر مودی اور بی جے پی کے فاشسٹ اور امن دشمن ایجنڈے کا سد باب کرنے کے لئے آپریشن سیندور کے جنگی جرائم کو ٹیسٹ کیس بنا کر بھارت کے عالمی احتساب کے لئے کثیر الجہتی مہم شروع کی جانی چاہئے۔ شہدا فورم سے بلند ہونے والی انصاف کی صدائیں عالمی برادری کی توجہ کی طالب ہیں۔