یہ دنیا محض جنگی ہتھیاروں اور بارود کی دہشت سے نہیں چلتی بلکہ پانی بھی کبھی کبھی بارود سے زیادہ مہلک ہتھیار بن جاتا ہے۔ پانی جس کے قطرے میں زندگی کی رمق چھپی ہے وہی جب انسان کی ہوسِ اقتدار اور انا کے پنجے میں آتا ہے تو قہر و غضب کا منظر پیش کرتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کو آج 78 برس گزر چکے ہیں مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاں کے پانی کا مسئلہ آج بھی اسی طرح سلگ رہا ہے جیسے 14 اگست 1947ء کو سلگا تھا۔ دونوں ملکوں کی آبی جارحیت اپنی اپنی جگہ قائم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بھارت دانستہ جارحیت کرتا ہے اور پاکستان نادانی میں لیکن دونوں کا انجام ایک ہی ہے ۔ تباہی، بربادی اور انسانی جانوں کا نقصان۔ہر سال جب برسات کا موسم آتا ہے تو پاکستانی دریا دھاڑنے لگتے ہیں۔ بھارتی حکمران دہلی کے ایوانوں میں بیٹھ کر اچانک دریائے ستلج، راوی، چناب اور جہلم میں اضافی پانی چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک لمحے کے فیصلے سے پاکستان کے نشیبی علاقے سمندر کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ بستیاں اجڑ جاتی ہیں، مویشی بہہ جاتے ہیں۔ سونا اگلنے والے کھیت ریت کے ڈھیروں میں بدل جاتے ہیں۔ پاکستان احتجاج کرتا ہے، فائلیں گردش کرتی ہیں، کچھ اجلاس ہوتے ہیں اور پھر اگلے برس یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ گویا ہم ایک فلم کے پرانے ریلیز شدہ شو کو بار بار دیکھنے پر مجبور ہیں۔یہ کوئی ایک برس کا معاملہ نہیں۔ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر بھارت کی آبی سازشوں کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ کبھی وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور کبھی اپنے پاس اضافی پانی ذخیرہ نہ کر پانے کے باعث وہی پانی پاکستان کی سمت دھکیل دیتا ہے۔
بھارتی حکمران جانتے ہیں کہ ایک بوند پانی کی قیمت خون سے بھی زیادہ ہے اسی لئے وہ اس کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ یہی بھارت ہے جو خود تو بڑے ڈیم اور آبی ذخائر بنانے میں کامیاب رہا مگر پاکستان کے حصے میں ہمیشہ دبائو، دھمکی اور جارحیت آئی۔لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت اپنی جگہ، پاکستان کی اپنی ’’آبی دہشت گردی‘‘کیا ہے؟ یہ سچ کسی زہر قاتل سے کم نہیں کہ پاکستان ہر سال تقریبا ً30 تا 40 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں بہا دیتا ہے۔ جی ہاں!یہ وہی پانی ہے جو ہماری فصلوں کو سیراب کرسکتا تھا، جو ہماری فیکٹریوں کو چلا سکتا تھا، جو ہماری پیاس بجھا سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ یہ قیمتی خزانہ ہم اپنی نااہلی اور بے عملی کی وجہ سے کھو دیتے ہیں۔کبھی سوچا ہے کہ ایک طرف کسان بارش کے لئے آسمان کی طرف آنکھیں اٹھاتا ہے تو دوسری طرف اربوں گیلن پانی بغیر کسی مصرف کے سمندر کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ اگر اپنی قوم کے ساتھ ظلم نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ میں اسے پاکستان کی اپنی ’’آبی جارحیت‘‘کہتا ہوں۔ یہ جارحیت باہر سے نہیں اندر سے ہے۔ یہ جارحیت کسی دشمن ملک سے نہیں بلکہ ہماری اپنی غفلت اور نالائقی سے جنم لیتی ہے۔پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین قدرتی مقامات ہیں جہاں ڈیم بنائے جا سکتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم، جابا ڈیم جیسے کئی بڑے منصوبے دہائیوں سے فائلوں کی گرد چاٹ رہے ہیں۔ سیاستدان اپنی کرسی بچانے کے لئے ڈیم پر سیاست کرتے ہیں۔ کوئی اسے صوبائی حقوق کا مسئلہ بنا دیتا ہے، کوئی اسے قومی یکجہتی کے لئے خطرہ قرار دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ڈیم کاغذوں میں رہ گئے اور پانی سمندر کے حوالے کر دیا گیا۔ اگر یہی پانی ذخیرہ کر لیا جاتا تو آج پاکستان توانائی کے بحران میں نہ ہوتا، زراعت کی تباہی نہ دیکھتا اور عوام کو پیاس سے تڑپنا نہ پڑتا۔یہاں ایک اور حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان کی زمین زرخیز ہے مگر زرخیزی تبھی کارآمد ہے جب پانی موجود ہو۔
سردیوں کے موسم میں جب بارشیں کم ہوتی ہیں یا جب دریاں میں پانی گھٹ جاتا ہے تو ہمارے کسان قحط کی کیفیت کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک طرف ہم پانی کو ذخیرہ نہیں کرتے دوسری طرف یہی کمی ہمارے لئے خشک سالی کا باعث بنتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم نے اپنی تقدیر خود اپنے ہاتھوں تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی کمزوری واضح ہے۔ بھارت کے پاس درجنوں ڈیم اور ہزاروں چھوٹے آبی ذخائر ہیں جبکہ پاکستان کے پاس چند بڑے ڈیم ہیں اور ان کی گنجائش بھی محدود ہے۔ بھارت چاہے تو پانی روک کر ہمیں قحط میں مبتلا کر دے چاہے تو اچانک پانی چھوڑ کر ہمیں سیلاب میں ڈبو دے اور ہم اس پر صرف احتجاج کر سکتے ہیں، عملا کچھ نہیں۔ یہی ہماری اصل کمزوری ہے۔لیکن قوموں کی تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو چیلنج کو موقع میں بدل لیں۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اندرونی آبی جارحیت کو روکیں۔ یہ ملک ہمیں اللہ نے ایک امانت کے طور پر دیا ہے۔ اگر ہم نے پانی جیسی نعمت کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ پانی صرف آج کی ضرورت نہیں یہ آنے والے کل کی بقاء ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ سب سے پہلے تو قومی سطح پر ڈیم بنانے کا ایجنڈا سیاست سے بالاتر ہو کر طے کیا جائے۔ کالا باغ ہو یا کوئی دوسرا ڈیم اس پر اختلاف ختم ہونا چاہیے۔ دوسرے نمبر پر ہمیں چھوٹے ڈیم اور ذخائر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی سطح پر بھی پانی کو محفوظ کیا جا سکے۔ تیسرے نمبر پر زراعت کے نظام کو جدید بنانا ہوگا تاکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار ممکن ہو۔ ہم صدیوں پرانے طریقہ آبپاشی پر انحصار کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس قوم کے لئے ایک امید پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں بعض اوقات وہ کام فوج نے کئے جو سیاستدان نہ کر سکے۔ اگر آج آرمی چیف ذاتی دلچسپی سے پانی اور بجلی کے منصوبے شروع کروا دیں، اگر فوج ان ڈیموں کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دے کر آگے بڑھے تو پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے۔ کیونکہ سچ یہی ہے کہ پاکستان کی اصل سلامتی توپ و تفنگ سے زیادہ پانی سے جڑی ہے۔ اگر پانی محفوظ ہوا تو یہ ملک محفوظ ہوگا ۔ اگر پانی ضائع ہوتا رہا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بچا نہیں سکے گی۔یہاں یہ کہنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے آرمی چیف کا ذکر اس لئے کیا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہمارے ملک میں آرمی چیف ہمیشہ ایک اہم فیصلہ ساز کی حیثیت رکھتے آئے ہیں۔ قومی سلامتی سے لے کر معاشی پالیسیوں تک ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج جب پانی کے ذخائر ختم ہوتے جا رہے ہیں اور قوم مستقبل میں ایک شدید بحران کی طرف بڑھ رہی ہے تو ایسی صورت میں سپہ سالار کا کردار مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس وقت قوم کو نہ صرف رہنمائی بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں پیاس اور اندھیروں کا سامنا نہ کریں۔چنانچہ سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اپنے عہدے کے حق کو استعمال کرتے ہوئے سول حکومت کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ پانی کے ذخائر کے لئے نئی جھیلیں تعمیر کرے اور انرجی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بڑے ڈیمز کی تعمیر کو اولین ترجیح بنائے۔ یہ فیصلے وقتی سیاست کے کھیل سے بالاتر ہیں۔ یہ پاکستان کے وجود اور بقا کے فیصلے ہیں۔پانی بارود سے زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔ دشمن بھی اسے استعمال کر رہا ہے اور ہم خود اپنی نااہلی سے اسے ضائع کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے پانی کو محفوظ نہ کیا تو تاریخ ہمیں ظالم، غافل اور خودغرض لکھے گی۔ لیکن اگر ہم نے اپنی آبی جارحیت ختم کر دی اور دشمن کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تو یہی پانی پاکستان کی خوشحالی کا زینہ بن سکتا ہے۔